میری آنکھ کھلی، تو میری ٹانگ موجود نہیں تھی ۔۔ جانیے ان جوانوں کی رلا دینے والی زندگی کے بارے میں، جس میں جوانوں نے اپنے جسم کی قربانیاں دیں

image

شہادت اور غازی کا درجہ ایک ایسا درجہ ہے جو ہر فوجی حاصل کرنا چاہتا ہے، یہ رتبہ حاصل کرنے والا نہ صرف دنیا میں اپنا مقام پا لیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے۔ غازی بھی ایک ایسا ہی لقب ہے جو بہت سے پاکستان آرمی کے جوانوں کو مل چکا ہے، لیکن غازی کے رتبے کے ساتھ ساتھ ان جوانوں کو اپنے جسم کے اعضاء تک کی قربانی دینی پڑی ہے۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو ان جوانوں کے بارے میں بتائیں گے جو کہ جسم کے مختلف حصوں کو ملک کی خاطر قربان کر چکے ہیں اور اب معزور ہو چکے ہیں۔ سرتاج خان:

سرتاج خان پاکستانی فوج کے جانباز جوان ہیں، سرتاج خان دہشتگردوں کی جانب سے بنائی گئی بارودی سرنگ کا نشانہ بنے تھے، ان کا پاؤں اچانک بارودی سرنگ پر پڑ گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی ٹانگ گنوا بیٹھے تھے۔ اگرچہ جوان نے اپنی ٹانگ گنوا دی مگر وہ اب بھی پُر جوش ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کے لیے پُر امید ہیں۔
سرتاج کہتے ہیں کہ جب میں کبھی تنہائی میں بیٹھتا ہوں، تو اس کی کمی کو محسوس کرتا ہوں۔ مجھے یہ کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ سرتاج خان آرمڈ فورسز انسٹیٹوٹ آف ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں گزشتہ 10 سالوں سے زیر علاج ہیں غازی رضا:
پاکستانی فوج کے جاںباز آفیسر رضا بھی انہیں غازیوں میں شامل ہیں جو کہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی ٹانگیں گنوا بیٹھے تھے۔ اگرچہ اب ان کی ٹانگیں نہیں ہیں مگر حوصلہ مزید پختہ ہو گیا ہے۔
اس تصویر میں بھی اس جاںباز غازی کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ پُر امید ہے اور پُر جوش بھی۔ آرمی یونیفارم میں آفیسر آج بھی اپنی ذمہ داریوں کو خوب سبھالے ہوئے ہے۔ محمد علی:
محمد علی بھی انہی غازیوں میں شامل ہیں جنہوں نے دشمن کو ناکوں کان چنے چبوانے پر مجبور کر دیا تھا، پاکستان افغانستان کی سرحد پر موجود دہشت گردوں سے مقابلے میں جوان نے اگرچہ دشمن کے ارادوں کو ناکام بنا دیا تھا۔ مگر جوان خود بھی زخمی ہوا تھا، اور اسی دوران محمد علی نے ایک بارودی سرنگ پر قدم رکھ دیا۔ جس سے وہ بے ہوشی کی حالت میں گر پڑے۔ محمد علی کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے تھے، اچانک دھماکہ ہوا اور جب مجھے ہوش آیا ہے تو میری سیدھے طرف کی ٹانگ موجود نہیں تھی۔ وہ لمحہ میرے لیے شدید تکلیف دہ ملحہ تھا، میں اس لمحہ کو بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ محمد علی بھی آرمڈ انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبیلیٹیشن سینٹر زیر علاج تھے، جبکہ علی ایک سال بعد مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسپتال سے ڈسچارج ہو گئے تھے۔ آصف اللہ:
آصف اللہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹ تھے یہ بات ہے 2002 کی جب وہ بطور کیڈٹ اپنی ٹریننگ مکمل کر رہے تھے۔ آصف نے سوئمنگ پول میں جیسے ہی چھلانگ لگائی تو غلط فہمی کی وجہ سے وہ صحیح طرح سوئمننگ پول کی گہرائی کا اندازہ لگا نہ پائے اور ان کا سر سوئمننگ پول کی زمین پر لگا۔ سر لگنے پر ان کی گردن کو نقصان پہنچا تھا۔ آصف کہتے ہیں کہ جب مجھے ہوش آیا تو میں اسپتال میں تھا، فریکچر کی وجہ سے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اب دوبارہ میں اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو پاؤںگا۔ یہ سن کر میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ آج بھی مجھے یاد ہیں۔ نہیں، یہ سچ نہیں ہے۔ میں اپنے سپنے کو پورا کرنا چاہتا تھا، اور دعا کر رہا تھا کہ کوئی کرشمہ ہو جائے تاکہ میں اپنی خواہش کو پورا کر لوں۔ میں اپنے علاقے کا پہلا نوجوان تھا جو کہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کر رہا تھا۔
لیکن ہمت اور حوصلے کے ساتھ آصف اللہ نے اس مشکل صورتحال کا سامنا کیا۔ وہ اسپتال میں زیر علاج بھی رہے اور اب اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ آصف اللہ کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے آرمی چیف جرنل راحیل شریف بھی ان کے معترف تھے۔

کرنل عمر: کرنل عمر کا شمار بھی کا فوج کے بہادر جوانوں میں ہوتا ہے۔ کرنل عمر 1986 سے اب تک اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن جب وہ کیپٹن تھے، تو اس وقت ان کے ساتھ ایک ایسا حادثہ پیش آیا تھا جس نے انہیں معزوری سے دوچار کر دیا تھا۔ 1998 میں ہماری گاڑی جو کالا شاہ کاکو کے مقام پر حادثہ پیش آیا تھا۔
جب مجھے بتایا گیا کہ آپ کے کبھی چل نہیں سکیں گے، اس بات نے مجھے جھٹکا دیا تھا۔ اس حادثہ نے اگرچہ کرنل عمر کو جھٹکا دیا مگر وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے، یہی وجہ تھی کہ اس معزوری کو ہرانے کا ارادہ رکھتے تھے، علاج معالجے کے بعد کرنل عمر نے ایک بار پھر اپنی خدمات پاک آرمی میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US