کثر خواتین اور مردوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی شاہی گھرانے کی شہزادی یا شہزادہ بن جائیں۔ یہ ایک ایسی خواہش ہے جو کہ کئی حد تک خیالی پلاؤ بھی ہوتی ہے، لیکن کئی ایسی کہانیاں بھی موجود ہیں جس میں ایک معمولی سے لڑکی شاہی گھرانے کی شہزادی بن گئی تھیں۔
لیکن ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح ایک شاہی گھرانے کی شہزادی ایک دوسرے شاہی گھرانے میں بہو بنیں لیکن وہ بھگوڑی شہزادی کے طور پر سسرال میں یاد کی جاتی ہیں۔
شہزادی حیاء بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو کہ اب شاہی خاندان سے اپنی جان بچانے کے لیے برطانیہ میں پناہی لیے ہوئے ییں۔
شہزادی حیاء اردن کے بادشاہ حسین کی بیٹی ہیں۔ جبکہ ملکہ عالیہ ان کی والدہ ہیں۔ شہزادی حیاء بادشاہ عبداللہ کی ہالف بہن بھی ہیں۔
شہزادی حیاء اردن میں پیدا ہوئی تھیں، ابتدائی تعلیم اردن ہی میں حاصل کی، شہزادی حیاء نے اعلی تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی تھی، برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے شہزادی نے فلسفہ، سیاسیات اور اکنامکس میں گریجویشن کیا ہے۔
شہزادی اور شیخ مختوم کی ملاقات کوئی رومانوی انداز میں نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ بلٹز ویب سائٹ کے مطابق شیخ مختوم ایک ہوشیار، باکمال نوجوان ہیں، اپنی جوانی کے دور میں شیخ مختوم میں وہ تمام خصوصیات تھیں جو ایک لیڈر میں ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں شہزادی حیاء ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہیں جن کے کئی بوائے فرینڈز بھی رہ چکے ہیں۔
اس ویب سائٹ کے مطابق شہزادی حیاء کی خواہش تھی کہ وہ شیخ مختوم سے شادی کر لیں۔ شادی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ شیخ کی دولت سے متاثر ہو گئی تھیں۔
جبکہ ان کے بھائی شہزادے علی جو کہ نشئی تھے انہوں نے بھی شہزادی کو شیخ سے شادی کا مشورہ دیا تھا۔
یہ ویب سائٹ دعویٰ کرتی ہے کہ شہزادی حیاء اور شیخ مختوم کے بیٹے شیخ زید ان کا بائلولوجکل بیٹا نہیں ہے۔ جبکہ اردن کے شاہی خاندان کے ترجمان کہتے ہیں کہ زید کے والد شیخ مختوم نہیں ہیں۔
شہزادی حیاء اور شیخ مختوم کے میڈیا کے مطابق دو بچے ہیں ایک شہزادی الجلیلہ اور شہزادہ زید۔
شیخ مختوم اور شہزادی حیاء دونوں کی زندگی خوشگواری گزر رہی تھی، دونوں کو کئی تقاریب میں ایک ساتھ دیکھا گیا ہے۔ اور دونوں تقاریب میں محو گفتگو بھی پائے گئے تھے۔ لیکن شہزادی کے لیے مشکلات کھڑی ہو گئی تھیں۔ جب ایک برطانوی بادی گارڈ اور ان کے معاشقے کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل۔ہو گئی تھیں۔
شہزادی اور شیخ کے تعلقات اس خبر کے بعد سے خراب ہو گئے تھے، یہی وجہ تھی کہ شہزادی نے اپنے بچوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات کو چھوڑ کر برطانیہ میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔
شہزادی حیاء کو تشویش ہے کہ اب ان کی جان کو خطرات لاحق ہیں جبکہ شیخ مختوم نے لندن کی عدالت میں بچوں کی حوالگی کے لیے درخواست دے دی ہے۔
شہزادی حیاء کی جانب سے بھی لندن کی عدالت میں فورس میرج ایکٹ کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے۔
اگرچہ شہزادی حیاء اپنے مقاصد میں پورا ہو گئی ہیں مگر وہ ایک خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ شیخ راشد المختوم بچوں کے ساتھ ساتھ اہلیہ کی بھی حوالگی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شہزادی حیاء کو متحدہ عرب امارات میں بھگوڑی شہزادی کے نام سے اسی لیے یاد کیا جاتا ہے۔