جُنید جمشید ایک نیک دل انسان تھے۔ انہوں نے اپنا کیرئیر پہلے گائیکی سے شروع کیا، اس پورے سفر میں ان کے کبھی کسی سے اعتراضات نہیں رہے۔ کبھی ان کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ پھر جب انہوں نے خلوصِ نیت سے اللہ کی راہ میں دین کی تبلیغ کے لئے آگے قدم رکھا تو بھی کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ ہمیشہ خوش اخلاقی سے کام لیا۔
جُنید جمشید کو آج ہم سے بچھڑے ہوئے 7 سال ہوگئے ہیں۔ یہ قومی ایئرلائن کے حآدثے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ جہاز حادثے سے قبل انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ تبلیغی اجتماعات کی رہنمائی کی اور ایک جگہ کہا کہ:
''
کبھی اکیلے میں بیٹھنا، اپنے گناہوں کی معافی مانگنا، اگر آنسو آئیں تو سمجھنا اللہ نے معاف کر دیا، وقت آ جائے تو پتہ نہیں چلتا، ، اس لئے ابھی گناہوں کی معافی مانگ لو میرے ساتھ، کیا پتہ کل وقت نہ ملے،
''
اس کے علاوہ ان کے ایک دوست نے بتایا کہ وہ کسی مجموعے میں گئے، وہاں کسی نے کہا کہ آپ ہمیں کوئی نعت سُنا دیں، وہ نعت ان کے منہ سے نکلے آخری کلمات میں سے ایک تھی۔ ان کے دوست کہتے ہیں جنید نے اپنی زندگی میں سب سے پہلے نعت پڑھی '' محمد کا روزہ قریب آرہا ہے '' وہی ان کی زندگی کی آخری نعت ثابت ہوئی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اب میں جا رہا ہوں، میری فلائٹ ہے پھر کبھی ملیں گے۔
آخری بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
''
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اللہ جب رسی کھینچ لے انسان کو خبر نہیں، بُخل سے بچو، آگے بڑھو، خوشیوں کو اللہ کی راہ سے منسوب کرلو۔ دین کی فکر میں دنیا تمام کرلو، دنیا کی فکر میں دین کو تمام کرنا بڑی گمراہی ہے۔
''