سیالکوٹ واقعہ نے جہاں پورے ملک کو شرمندہ کر دیا ہے وہیں پاکستان ایک ایسا پہلو بھی سامنے آیا یے جب میڈیا، سماج اور ہر عام آدمی سری لنکن مینیجر پریانتھا کمارا سے اظہار ہمدردی کر رہا ہے، اور ان کی غیر انسانی موت پر شرمندہ ہے۔
پریانتھا کمارا کو جمعہ کے روز توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے قتل کر دیا تھا اور پھر ان کی لاش کو سر عام جلا دیا تھا۔
خبر سوشل میڈیا پر آتے ہی دنیا بھر میں پھیل گئی۔ لیکن جیسے جیسے مشتعل ہجوم کا مکروہ چہرہ دنیا نے دیکھا اسی طرح ملک عدنان جیسا جاںباز جوان بھی موجود تھا جو کہ پریانتھا کمارا کو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بچا رہا تھا۔
اسی طرح سیالکوٹ کی تاجر برادری کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پریانتھا کمارا کی فیملی کے لیے کچھ رقم بھیجی جائے گی، رقم 1 لاکھ ڈالرز ہے جو کہ پاکستانی 17 کروڑ سے زائد کی رقم بنتی ہے۔
تاجر برادری کی جانب سے مزید بھی کہا گیا ہے کہ ماہانہ پریانتھا کمارا کی فیملی کو تنخواہ بھیجی جائے گی۔
اس سب صورتحال میں اگرچپ رقم تو محض چند پیسے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی اظہار یکجہتی کو واضح کر رہے۔