سونا اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں صرف صفائی کرنے پر ہی سونا مل جاتا ہے۔ کم ہو یا زیادہ سونا ضرور ملتا ہے۔ آج ہم بات کر رہے ہیں ان خاکروبوں کی جو سونے کی صرافہ مارکیٹ میں گلیوں کی صفائی کرکے دن رات محنت کرکے سونا اکٹھا کرتے ہیں اور اس کو بیچ کر اپنے گھر کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں صرافہ بازار ہیں جہاں سونے کا کام ہوتا ہے۔ سونا بکتا بھی ہے اور بنتا بھی ہے۔ یعنی سونے کے بسکٹس وغیرہ سے سونے کے ہار اور جیولری کے ڈیزائن تیار کیے جاتے ہیں۔
کسی بھی ڈیزائن کو بنانے میں ظاہر ہے کہ تراش خراش کرنی پڑتی ہے۔ سونے کی تراش خراش سے اس کے چھوٹے چھوٹے ذرات بنتے ہیں جو کچرے کی صورت میں مارکیٹ میں پڑے ہوتے ہیں جن کو ایک عام آدمی تو کچرا سمجھتا ہے کیونکہ اس کو پہچان نہیں ہوتی۔ لیکن وہ لوگ جو سالوں سے سونے کو یوں چھاننے کا کام کرتے ہیں ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے سونا مل سکتا ہے۔ کونسا کچرا ان کے لیے فائدے مند ہے۔ یہ خاکروب روزانہ صبح فجر سے بھی پہلے مارکیٹ کی صفائی کرنے کے لیے نکل جاتے ہیں اور پھر دور دور تک کچرا صاف کرکے اس کو سمیٹ کر اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر یہ ایک بڑے تسلے یا مٹی کے پیالے میں اس کو ڈالتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے کچرے کو یہ ڈالتے ہیں اور اس میں تیزاب ڈالتے ہیں۔ تیزاب ڈالنے کے بعد یہ ہاتھ سے سارے کچرے کی چھان بین کرتے ہیں۔ جس میں ان کو سونے کے ذرات ملتے ہیں۔

یہ سونے کے ان ذرات کو الگ کرکے جمع کرتے ہیں اور پھر دوبارہ یہ صرافہ مارکیٹ کے انہی دکانداروں کو دے دیتے ہیں۔ یہ دکاندار اس کے عوض ان کو جو بھی پیسے دیتے ہیں وہی ان کی اصل کمائی ہوتی ہے اور یہ لوگ یونہی اپنے گھر کا گزر بسر کرتے ہیں۔
سونا حاصل کرنا چونکہ آسان بات نہیں ہے۔ اس لیے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سونے کے ذرات مل تو جاتے ہیں لیکن وہ اتنے باریک اور ریشے کی صورت میں ہوتے ہیں کہ اس سے زیادہ پیسے نہیں کمائے جا سکتے۔ اس لیے ان خاکروبوں کی ایک دن کی کمائی صرف 200 سے 800 روپے کم سے کم ہوتی ہے۔ جس دن زیادہ سونا مل جاتا ہے اس دن ان کو زیادہ پیسے بھی ملتے ہیں۔