پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب واقع جامع مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو قصہ خوانی بازار اور اس پر ہونے والے حملوں سے متعلق بتائیں گے۔
قصہ خوانی بازار میں اس سے پہلے بھی کئی حملے ہو چکے ہیں، جن میں ایک دو نہیں بلکہ متعدد افراد جان سے گئے۔ ان میں بچے، بوڑھے، جوان غرض مختلف عمر کے لوگ شامل ہیں۔
2007 کا واقعہ:
قصہ خوانی بازار میں جنوری 2007 میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ملک محمد سعد اور ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) خان رازق ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے، اس واقعے نے پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
2009 کے دھماکے:
قصہ خوانی بازار میں 2009 میں بھی یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے جس میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ سے دس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
2010 کے دھماکے:
پشاور کے قصہ خوانی بازار میں 2009 کے سانحہ کے بعد اگلے سال یعنی 2010 میں بھی دو دھماکے ہوئے، پہلا دھماکہ اسکول کے باہر ہوا جبکہ دوسرا دھماکا قصہ خوانی بازار میں ہوا جس میں 22 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 42 زخمی ہوئے۔
اس حملے میں ڈی ایس پی گلفت حسین اور جماعت اسلامی کے دوست محمد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
2012 کا حملہ:
2012 میں بھی قصہ خوانی بازار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، خود کش حملے میں اے این پی کے بشیر احمد سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
2013 کا افسوس ناک واقعہ:
2013 میں ایک قصہ خوانی بازار کے پاس کوہاٹی کے مقام پر آل سینٹس چرچ میں خودکش حملے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 250 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے، اس واقعہ نے پورے ملک کی فضا کو سوگوار کر دیا تھا۔
2014 کا حملہ:
2014 میں بھی ایک ایسا ہی حملہ ہوا جس میں 8 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 42 کے قریب زخمی ہوئے، یہ حملہ بھی اسی مقام پر ہوا جہاں آج حملہ ہوا ہے۔
2016 کا واقعہ:
2016 میں مشہور تاجر رہنما حاجی حلیم خان کو قصہ خوانی بازار میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ اب تک کے وہ واقعات تھے جن میں متعدد افراد بشمول مشہور شخصیات شہید ہو چکی ہیں، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں، آج کا واقعہ بھی قصہ خوانی بازار کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیونکہ اب تک خودکش حملے میں 30 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔