سرنگ کے اندر مندر بنوایا جہاں صرف اہلیہ جاتی تھیں ۔۔ جانیے کراچی کے موہٹہ پیلس کو ہندو تاجر نے اہلیہ کے لیے کیوں بنوایا تھا؟

image

کراچی میں ایسے کئی مقامات ہیں، جو تاریخ کا حصہ تو ہیں ہی مگر آج بھی اپنے اندر ایک ایسا خوف اور راز رکھتے ہیں جو سب کو حیرت میں مبتلا ضرور کر دیتے ہیں۔

ایک ایسا ہی مقام ہے موہٹہ پیلس جو کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ہے۔ ویسے تو بہت سے لوگ موہٹہ پیلس کی منفرد اور تاریخی عمارت کے باعث اسے یاد کرتے ہیں

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسے کراچی کا تاج محل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی کہانی بھی کچھ اسی طرح ہے جیسے کہ تاج محل ممتاز محل کی یاد میں شہنشاہ نے بنایا تھا۔

کراچی کے ایک ایسے ہی تاجر رائے بہادر شیو رتن موہٹہ نے اپنی بیوی کے لیے کراچی میں ایک ایسا محل تعمیر کیا تھا جو اس کے لیے تحفہ تھا۔

کراچی کے اس مارواڑی تاجر کی زندگی اس وقت بدل گئی جب اس کی اہلیہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئی۔ تاجر اپنی اہلیہ سے بے حد پیار کرتا تھا اور وہ اہلیہ کی صحتیابی کے لیے کچھ بھی کر سکت تھا۔ یہ محل بھی کچھ اسی طرح بنایا گیا تھا۔

دراصل ہوا کچھ یوں کہ ڈاکٹرز کی جانب سے شیورتن موہٹہ کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ساحل کنارے اہلیہ کو لے جایا جائے جہاں تازہ ہوا سے اہلیہ کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ بس پھر کیا تھا شیو رتن موہٹہ نے اہلیہ کی خاطر بحیرہ عرب کے کنارے ایک ایسا محل بنوایا جس کی آج تک مثال نہیں ملتی ہے۔ مینار اور ہلکے لال رنگ سے بنائی گئی یہ عمارت رات کے وقت ایک دلہن کی طرح نظر آتی ہے، جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔

ظاہر ہے شوہر نے اہلیہ کے لیے سب کچھ کیا تو اہلیہ کیسے ٹھیک نہ ہوتیں، اہلیہ کی صحتیابی پر جشن صحتیابی منایا گیا تھا، جس میں اعلیٰ سرکاری عہدے دار بھی مدعو تھے۔

لیکن دونوں میاں بیوی اس وقت دلبرداشتہ ہو گئے جب سرکار نے سرکاری آفسز کی کمی کی وجہ سے ان شہروں کے ایک گھر کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا جن کے دو گھر تھے۔ شیو رتن موہٹہ اس خبر پر تلملائے مگر سوائے رنج اور غم کے کچھ نہ کر سکے۔

اور پھر دلبرداشتہ ہو کر یہ وطن چھوڑ گئے۔ اگرچہ شیو رتن اور اہلیہ اس ملک کو الوداع کر گئے مگر ان کے جانے کے بعد اس محل میں سرکاری ٹائپ رائٹر کی آوازیں گونجتی ہیں۔

اس محل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں ایک ایسی سرنگ موجود ہے جو کہ ایک مندر تک لے جاتی ہے۔ دراصل ایک محل کا ایک دروازہ اس سرنگ تک لے جاتا ہے جہاں یہ مندر واقع ہے۔ یہ مندر اور سرنگ تاجر شیو رتن نے اپنی اہلیہ کے لیے بنوایا تھا تاکہ اہلیہ بحفاظت عبادت کے لیے جا سکے۔

دوسری جانب دور حاضر میں موجود اس عمارت سے متعلق ملازمین کا خیال ہے کہ یہاں جنات اور آسیب کا قبضہ ہے جو اس مقام کو آسیب زدہ بنا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US