سوشل میڈیا پر پشاور سانحہ سے متعلق کئی خبریں موجود ہیں، لیکن ان سب میں ایک ایسا جوان بھی تھا جس نے اپنی جان دے کر بہت سے لوگوں کو بچا لیا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی شخص کے بارے میں بتائیں گے۔
جمعے کے روز ہونے والے سانحے میں اب تک 60 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، حملے کی ذمہ داری بھی دہشت گر تنظیم نے قبول کر لی۔ مگر جس طرف کی توجہ جانے چاہیے وہ تھی وہ اہلکار جس نے اپنے نوزائیدہ بچے کو صحیح طرح سے دیکھا بھی نہیں تھا۔
قصہ خوانی دھماکے میں جہاں جوان بیٹے بیٹیاں والد کی شفقت سے محروم ہوئے وہیں یہی ننھی پری جسے دنیا میں آئے ابھی دن ہی ہوئے تھے، والد کی شفقت ابھی صحیح طرح لی بھی نہیں تھی کہ والد کا سایہ اس بچی کے سر سے اٹھ گیا۔
پولیس اہلکار جمیل شہادت والے دن سے پہلے کی رات یعنی جمعرات کی پوری رات اسپتال میں اہلیہ اور ننھی پری کے ساتھ گزار کر آیا تھا، وہ اتنا خوش تھا کہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
شہید جمیل اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، جبکہ چند سال قبل شادی ہوئی تھی۔ بیٹی کی ولادت پر اس حد تک خوش تھا کہ ہر بیٹی کے پاس رہتا تھا۔ شہید کا ایک بڑا بیٹا بھی ہے۔ بھائی خلیل بتاتے ہیں کہ بیٹی کی خواہش تھی جو پوری ہو گئی، جمیل والدین سے بے حد محبت کرتا اور گاؤں والے بھی اسے پسند کرتے تھے۔
بھائی کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر خوشیاں چل رہی تھیں لیکن اس واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ جمیل نے اپنی بیٹی کا نام بھی ابھی نہیں رکھا تھا، اور وہ اسی سوچ میں تھا کہ اللہ کی طرف سے آئی اس رحمت کا کو نسا خوبصورت نام ہونا چاہیے۔