لاشوں کو غسل دینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی ۔۔ پشاور دھماکے میں جاں بحق ہونے والے نمازیوں کے اہلِ خانہ اپنے گھر والوں کی یاد میں افسردہ

image

پشاور میں ہونے والا حادثہ ظُلم و بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہر وہ ماں تکلیف سے بلبلا رہی ہے جس کے بچے نماز پڑھنے کے لیے مسجد کو روانہ ہوئے، ہر وہ بیوی خون کے آنسو رو رہی ہے جس کا شوہر یہ کہہ کر گیا تھا نماز پڑھ کر آرہا ہوں پھر کھانا ساتھ کھائیں گے، ہر وہ بہن تڑپ رہی ہے جس کا بھائی اس سے ہر جمعے یہ کہتا تھا بہن میرے کپڑے استری کر دینا نماز پڑھنے جاؤں گا، ہر وہ بیٹی اذیت کا شکار ہے جس کے والد اس کو یہ کہہ کر گئے تھے کہ بیٹی تم بھی نماز پڑھ لو شام میں باہر لے چلوں گا تمہیں۔

کسی کو اذیت دینے سے قبل کوئی یہ بھی تو سوچے کہ اگر یہی قیامت اس کے گھر والوں پر گزرے تو کیا محسوس کرے گا؟ کون سا بیٹا ایسا ہے جو چاہے گا کہ اس کی ماں تڑپے، خون کے آنسو روئے۔ جب اپنی ماں کی تکلیف نہیں دیکھ سکتے تو ان ہزاروں ماؤں کی گود اُجاڑنے والے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ ماں کی تکلیف عرش کو بھی ہلا دیتی ہے۔

اس حادثے میں کئی ایسے خاندان ہیں جہاں ایک نہیں بلکہ 4 اور 5 لاشے بھی اٹھائے گئے ہیں۔ جن میں سے کچھ کا احوال بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آپ کو بتا رہے ہیں۔

پشاور میں کوچہ رسالدار کی مسجد میں دھماکے میں علی حیدر کے 7 قریبی رشتہ دار جان سے گئے۔ جن میں ان کے کزن، چچا اور ماموں شامل تھے۔ جن کے سوگواروں میں کم سن بچے اور بیوائیں ہیں۔ علی حیدر کہتے ہیں کہ:

'' حادثے کے بعد ہر گھر میں ایک دکھ بھری کہانی ہے جو تا حیات بھلائی نہیں جاسکتی۔ خوشیوں سے بھرا میرا گھرانہ تباہ ہوگیا۔ پہلے ایک سے دوسرے گھر چلے جاتے تھے اب وہ گھر ہی زندان بن گئے ہیں۔ جہاں صرف یادوں کے قیدی باقی ہیں۔ حیدریہ ٹرسٹ پشاور نے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کو تیار کفن فراہم کیے ہیں۔

حیدریہ ٹرسٹ پشاور کے حیات علی میر بتاتے ہیں کہ: '' ہم ایک گھر میں کفن دینے گئے تو اندر سے آواز آئی ہمیں ایک کفن کیوں دے رہے ہو، 4 کفن چاہیے ہمیں، ظالموں نے ہمارا گھرانہ اُجاڑ دیا۔ تین جنازے اور بھی پڑے ہوئے ہیں ۔ ''

اس واقعہ میں پشاورکا مشہور اخونزادہ بھی تکلیف سے گزرا کیونکہ ان کے تین افراد اخونزادہ مجاہد علی اکبر، اخونزادہ علی حسن اور اخونزادہ مظہر علی بھی جان سے گئے جو آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔ اخونزادہ مجاہد علی اکبر اور اخونزادہ مظہر تو نعت خواں تھے کبھی کسی سے بحث نہیں کی اور ظالموں نے ان کو بھی نہ بخشا۔

پاکستان کی مشہور ٹی زمانہ شاہ جی ٹی سٹور کے خاندان سے بھی 3 قریبی رشتے دار دنیا میں نہ رہے۔ علی حیدر بتاتے ہیں کہ: '' شاہ جی اسٹور کے مالک سید انیق حسین رضوی ان کے کزن اور بینک آفسیر سید افضال شاہ اور ان کے قریبی رشتہ دار سید انیس حسین رضوی بھی دنیا سے چلے گئے۔ سید افضال شاہ اور سید انیق شاہ ایک دوسرے کے بہنوئی تھے۔ دونوں کی گہری دوستی تھی۔ نماز بھی ساتھ ادا کرتے تھے کسی کو کیا معلوم تھا کہ اللہ کے گھر بھی ایک ساتھ جائیں گے۔''

ڈاکٹر علی رضا نے بھی اپنے گھر کے 5 قریبی لوگوں کو کھویا۔ مردہ خانوں میں اچانک اتنا رش بڑھ گیا کہ غسل دینے والے بھی پریشان ہوگئے۔ لاشوں کو غسل دینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی۔ مسجد کے قریب جتنے بھی گھر ہیں، ہر گھر میں سے چیخنے چلانے اور رونے کی صدائیں آتی ہیں۔ کہیں سے کوئی ماں اپنے بچے کو یاد کرکے روتی تو کہیں بیٹیاں باپ کو۔ ہر آنکھ عشکبار ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دلاسہ دے رہے ہیں لیکن جو گھر تباہ ہوئے ان کا نقصان کوئی ادا نہیں کر سکتا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US