آج بھی باپ کہتا ہے بیٹی کیوں پیدا ہوئی؟ اولاد دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے تو بیٹی کی پیدائش پر قصور وار عورت کیوں؟ کچھ ایسے دلخراش واقعات جو آج بھی زندہ ہیں

image

بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ جب کسی جوڑے کو اللہ بیٹی سے نوازتے ہیں تو اس کی برکت سے والد کے رزق میں اضافہ کردیتے ہیں تاکہ کوئی بیٹی اپنے باپ پر بوجھ نہ بنے۔ اسلام میں بیٹیوں کی پیدائش باعثِ رحمت اور برکت ہے۔ لیکن آج بھی اس دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بیٹی کے پیدا ہونے پر افسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی جوڑا خود اپنی بیٹی کے لیے خوشی محسوس کرے تو اطراف کے لوگوں کو بھی چاہیے ان کی خوشی میں شامل ہوں۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ عام رواج ہے لوگ فوراً ہی کہہ دیتے ہیں کہ کاش بیٹا ہو جاتا کم سے کم بُڑھاپے کا سہارا تو بنتا۔ بڑھاپے میں آج بھی کروڑوں ایسے والدین اکیلے تنہا اولڈ ہومز کا سہارا لیے ہوئے بیٹھے ہیں جو سمجھتے تھے بیٹا انہیں بڑھاپے میں دو گز زمین دے دے گا۔

یہ صرف سوچ کا فرق ہے۔ بیٹیاں کسی بیٹے سے کم تو نہیں ہیں۔ بس ہمارا معاشرہ انہیں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آج ہر میدان میں لڑکیاں اپنی محنت کے دم پر کتنی ترقی کر چکی ہیں۔ لیکن معاشرے میں موجود کچھ کم عقل لوگ آج بھی ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔

کتنے ہی ایسے واقعات ماضی میں بھی سامنے آچکے ہیں اور اب بھی ہم سنتے رہتے ہیں کہ فلاح کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے بیوی کو گھر سے نکال دیا۔ کیا بچے کی جنس کا تعین کرنا عورت کے ہاتھ میں ہے؟ یا اولاد پیدا نہ ہو تو کیا یہ بھی عورت کی بدنصیبی ہے؟ وہ کون سی عورت ہے جو یہ نا چاہے کہ اس کی اولاد نہ ہو؟ کیا کوئی عورت خود سے بانجھ ہوسکتی ہے؟ کوئی بھی نہیں ہوگی ظاہر ہے کمی یا خامی اور بیماری کسی کو نہیں پسند تو ہم لوگ آج بھی بیٹی کو سوالیہ نشان بنائے گھومتے ہیں؟

حال ہی میں ضلع میانوالی کے محلہ نورپورہ میں والد شاہزیب نے غصے میں آکر اپنی 7 دن کی معصوم بچی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا کیونکہ وہ بیٹی کی پیدائش پر خوش نہیں تھا۔ کیا اس عمل کی کسی مذہب میں اجازت ہے یا انسانیت میں؟ کچھ وقت قبل اسلام آباد میں ایک ایسا دردناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں حاملہ خاتون اپنی ساس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس الٹراساؤنڈ لے کر گئی کہ پیدا ہونے والے جڑواں بچے بیٹیاں ہیں یا بیٹے؟ کیونکہ اس کی ساس کو صرف بیٹے ہی چاہئیں تھے۔ ڈاکٹر کو الٹراساؤنڈ میں لگا کہ بیٹے ہیں تو ساس یہ بات سن کر خوش ہوگئی، بہو کی بھی خوب آؤ بھگت کی۔ لیکن ستم ظریفی کی انتہا اس وقت ہوئی جب بہو کے ہاں جڑواں بیٹوں کی نہیں بلکہ جڑواں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی۔ ساس کو جونہی معلوم ہوا اس نےہسپتال میں چیخنا اور چلانا شروع کردیا، ڈاکٹر پر الزام لگائے واویلا کیا اور یہ کہہ کر اپنے بیٹے کے پاس آئی کہ تمہاری بیوی نے جڑواں بیٹے نہیں بیٹیاں پیدا کی ہیں۔ جاؤ اب اس منحوس کو ان بچیوں سمیت میکے چھوڑ کر آ جاؤ، اس کی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔

دنیا اتنی ترقی کرچکی ہے اور ہم آج بھی بیٹے اور بیٹی کے تنازعے میں لگے ہوئے ہیں۔ بیٹا یا بیٹی خُدا کی طرف سے عطا کردہ ہیں۔ بیٹا بھی والدین کے لیے وہی مقام بناتا ہے جو ایک بیٹی بھی بنا سکتی ہے۔ بیٹیاں پرائی ضرور ہوتی ہیں لیکن وہ بھی تو آپ کا ہی خون ہیں۔ ان کی تربیت آپ اپنی مرضی کے مطابق کریں وہ آپ کو ویسا ہی صلہ دیں گی۔ ان تمام باتوں سے اندازہ ہوسکتا ہےکہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر پا رہا۔ ہم اپنی سوچ کو آج بھی بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آخر کیوں؟

اپنے آپ کو اس بات کےلیے راضی کریں کہ بچے کی جنس بنانا اللہ کے ہاتھ ہے وہ جو چاہے عطا کرے۔ جب آپ کو خُدا اولاد سے نوازے تو اس پر ناشکری کرنے کے بجائے ایک مرتبہ ان جوڑوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھیں جو بچوں کے لیے تڑپ رہے ہیں اور خُدا ان کو اولاد نہیں دے رہا۔ ایک مرتبہ ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں، ان کے حال پر غور کرلیں شاید پھر آپ کو بیٹا یا بیٹی کا خیال ذہن میں نہ آئے بس خدا کی ذات کا شکر کرنا اچھا لگے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US