عمران بیرونی ایجنٹ ہے، مگر اس نے امریکہ کو ناراض کر دیا ۔۔ جانیے اگلا وزیر اعظم آئے گا یا پھر عمران خان انہیں رُلائے گا؟

image

سوشل میڈیا پر اس وقت سیاسی گرما گرمی کا ماحول ہے، اسی ماحول میں جہاں حکومتی اراکین عمران خان کو سپورٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں وہیں اپوزیشن پارٹیز کے ممبران بھی اپنے دفاع میں مختلف حربے آزما رہے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ آج اسی حوالے سے چند ایسے پہلوؤں کے بارے میں بتائے گی جو ہو سکتا ہے آپ بھی نہیں جانتے ہوں۔

اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایک طرف اور باقی سیاست دان آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن، دیگر چھوٹی جماعتیں ایک طرف ہیں۔

اس سب صورتحال میں جہاں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی ہے، اور حکومتی شکست کی خوشی ابھی سے نمایاں نظر آ رہی ہے یا یوں کہیں کہ اپوزیشن اس بات مکمل اعتماد کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔

مگر پاکستان کی سیاست میں کب کیا ہو جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، اس وقت بھی صورتحال اس لیے خطرناک ہے کیونکہ سیاسی تاریخ میں کوئی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا ہے۔ اب اسے اتفاق کہیں یا کوئی خفیہ پالیسی۔

اگر خان صاحب جاتے بھی ہیں تو بھی تبدیلی آئے گی اور اگر اس سیاسی طوفان کو برداشت کر بھی لیتے ہیں تو بھی تبدیلی آئے گی یعنی دونوں صورتحال میں تبدیلی کا آنا یقینی ہے۔

اس وقت عدم اعتماد کے ووٹوں کی بات کی جائے تو اس وقت قومی اسمبلی میں 341 سیٹس ہیں یعنی 341 ووٹوں کا معاملہ ہے۔ ان 341 ووٹوں میں سے 155 پاکستان تحریک انصاف کی سیٹس ہیں یعنی 155 ووٹس پی ٹی آئی کے ہیں، اتحادی ایم کیو ایم کی 7 سیٹس ہیں، ق لیگ کی 5 اور بلوچستان عوام پارٹی کی بھی 5 سیٹس ہیں۔ اسی طرح جی ڈی اے کی تین سیٹس، اے ایم ایل، جے ڈبلیو پی اور آزاد امیدوار کی 1،1 سیٹس موجود ہے۔ یعنی حکومت کے پاس کُل 178 ووٹس موجود ہیں، دوسری جانب اپوزیشن اتحاد ہے جس میں ن لیگ کی 84 سیٹس ہیں، پی پی پی کی 56، جے یو آئی ایف کی 14، ایم ایم اے جی اور اے این پی کی 1،1، بی این پی مینگل کی 4 اور 3 آزاد امیدوار موجود ہیں، یعنی کُل 163 ووٹس موجود ہیں۔

لیکن صورتحال اس وقت تبدیل ہوگی جب ووٹنگ بوتھ میں ووٹ تبدیل ہوں گے، ساتھ ہی ساتھ پیسوں کے عوض ووٹ خریدے جائیں گے۔ بہر حال اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، مگر صورتحال اس لیے بھی کافی دلچسپ ہوگی کیونکہ عمران خان ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہیں، اگرچہ پی ٹی آئی کے ترین گروپ نے حکومت پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ جس عمران خان پر یہوی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا جاتا تھا، آج یہودیوں کو آنکھیں دکھا کر عمران خان نے غلط کیا ہے۔

سوشل میڈیا صارف کی جانب سے لکھا گیا کہ شہباز شریف پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ عمران نے امریکہ اور یورپ کو برہم کر دیا ہے، جبکہ اسی دوران مولانا فضل الرحٰمن بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، جوکہتے ہیں کہ خان ایک بیرونی ایجنٹ ہے۔

اگر ملکی مفاد میں دیکھا جائے تو عمران خان نے تو ملک کا مفاد دیکھا ہے، اس بات سے ہر پاکستانی خوش ہے کیونکہ پاکستان یہودی اور بیرونی طاقت کے غلبے سے باہر نکل رہا ہے۔ خود مولانا کہتے تھے کہ خان یہودی ایجنٹ ہے، اب جب عمران خان بیرونی ایجنٹس کو دھتکار رہے ہیں تو بھی مولانا غصہ؟

صورتحال یوں بھی کافی دلچسپ ہوگی کہ اگر عدم اعتماد کا ووٹ وزیر اعظم حاصل نہ کر پائے تو اپوزیشن کامیاب ہو سکتی ہے لیکن پھر خود پی ڈی ایم میں سے وزیر اعظم، صدر اور اعلیٰ عہدوں کے لیے جنگ شروع ہو جائے گی اور پھر آج کا اتحادی کل ایک بار پھر پھر ایک دوسرے کو چور چور کہہ کر مخطاب کر رہا ہوگا۔

بہر حال یہ سیاست ہے جہاں اونٹ ہر دوسرے دن کروٹ بدل کر بیٹھتا ہے، دیکھنا یہی ہوگا کہ اس اونٹ کی آخری کروٹ کس طرف ہوگی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US