صرف ایک ہفتہ پہلے امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین کے حق میں تقریر کرتے ہوئے غلطی سے یوکرینی عوام کے بجائے “ایرانی عوام“ کے الفاظ کہہ گئے تھے۔ تہذیب والا معاشرہ ہے بات آئی گئی ہوگئی۔ میڈیا میں کچھ لوگوں نے بائیڈن کی اس غلطی کو پکڑا لیکن شاید امریکی عوام کے پاس وقت کی کمی ہے یا پھر کسی کی غلطی پر ہنسنا معیوب سمجھتے ہیں جو اس معاملے پر اکثریت نے کسی رائے کا اظہار ہی نہیں کیا۔
اب ہم واپس پاکستان آجاتے ہیں جہاں بلاول بھٹو جوش و خروش میں پنڈال سے مخاطب ہیں اور حکومت کو للکار کررہے ہیں۔ ان کی للکار اس وقت ایک مذاق میں بدل گئی جب انھوں نے غلطی سے “ٹانگیں کانپنے“ کے بجائے “کانپیں ٹانگنے“ کے الفاظ کہہ دیے۔ سوشل میڈیا پر فارغ بیٹھے عوام کے ہاتھ ایک نیا چٹکلہ آگیا۔ سارا دن بلاول کی تقریر کے ساتھ “کانپیں ٹانگنا“ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا اور لوگ ایک ایسی انسانی غلطی پر ہنستے رہے جو وہ خود بھی کرتے رہتے ہیں۔ زرا سوچیے کسی تقریر، پریزینٹیشن یا دفتری میٹنگ کے دوران آپ کے منہ سے غلط الفاظ نکل جائیں تو آپ سامنے والے سے غلطی کو درگزر کرنے کی توقع رکھیں گے یا آپ کا مذاق اڑانے کی؟
خیر یہ بات تو تھی عوام کی لیکن پھر وزیرِ اعظم کا بیان آتا ہے جس میں وہ خدا کا واسطہ دے کر زرداری سے اپنے بیٹے بلاول کو اردو سکھانے کی درخواست کررہے ہیں۔ عمران خان صاحب کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو سال میں انگریزوں کو اردو بولنا سیکھتے ہوئے دیکھا ہے جب کہ بلاول 15 سال گزرنے کے باوجود اردو گرامر میں غلطی کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم صاحب انسانی کمزوری پر چٹکلے پر چٹکلہ چھوڑتے جاتے ہیں اور سامنے کھڑے لوگ ہنس ہنس کر دوہرے ہوتے رہے۔
تاریخ گواہ ہے بولنے میں غلطی یا غلط الفاظ کی ادائیگی انسان کی کام کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اگر زبان پر عبور ہونا قابلیت کی بنیاد ہوتی تو دنیا آج ونسٹن چرچل کو ہر گز یاد نہ رکھتی جو speech impediment یعنی
بولنے میں رکاوٹ کا شکار تھا اور حرف “s” کو ٹھیک سے نہیں بول پاتا تھا۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے ایک دوسرے سے نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کا جملہ کسی کو ناگوار گزرا ہو لیکن صرف انسانی کمزوری کا تمسخر اڑانا ایک غیر مہذب عمل ہے۔ فواد چوہدری ہوں یا وزیر اعظم، الفاظ کی ادائیگی میں غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے اور یقیناً وہ بھی نہیں چاہیں گے کہ اس معمولی سی لغزش پر ان کا مذاق اڑایا جائے تو بہتر یہی ہے کہ حکومتی عہدیداران اور عوام انسانی لغزشوں کو درگزر کرکے اہم مسائل پر توجہ دیں۔