ملکہ کو کیلے بھی کوئی اور چھیل کر اور کاٹ کر دیتا ہے۔۔ شاہی خاندان کے افراد کے کھانے پینے کی عجیب و غریب عادتیں

image

یوں تو شاہی خاندان کے افراد کی ہر بات ہی نرالی ہے لیکن کھانے پینے میں بھی اتنے نخرے ہیں کہ عام انسان جان کر حیران رہ جاتا ہے۔ آج ہم شاہی خاندان کے کھانے پینے کی عجیب و غریب روایات کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔

پیاز اور لہسن نہیں کھا سکتے

پرنس چارلس کی بیوی اور اگلی ممکنہ ملکہ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ انھیں یہ بات پسند نہیں لیکن ان کے سسرال میں لہسن کھانا سختی سے منع ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کو کبھی بھی انٹرویو دینا یا لوگوں سے ملنا پڑتا ہے اور لہسن کھانے سے منہ میں ناگوار بو آتی ہے۔ لہسن کی طرح پیاز کھانے میں ڈالنے کی بھی سختی سے ممانعت ہے یہاں تک کے باورچی بھی کھانے میں ان دو چیزوں کا استعمال نہیں کرتے۔

کیلے بھی خود نہیں چھیلتیں

ملکہ کیلے کھانا تو پسند کرتی ہیں لیکن انھیں چھیلنا انھیں سخت ناگوار گزرتا ہے۔ کیلے کو چھیل کر کھانے کو ملکہ بند کی طرح کھانا قرار دیتی ہیں۔ ملکہ برطانیہ کو کیلے چھیل کر اور چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کرپیش کیے جاتے ہیں جنھیں وہ چمچ اور کانٹے سے کھاتی ہیں۔

کھانے کا وقت ختم ہوگیا

شاہی خاندان ہر معاملے میں ملکہ کی بات ماننے کا پابند تو ہے لیکن یہ سلسلہ کھانے کی میز پر بھی جاری رہتا ہے۔ اگر کھانا کھانے کے وقت ملکہ کا پیٹ بھر جائے اور وہ اپنا بیگ ٹیبل پر رکھ دیں تو اس کا مطلب ہے کہ کھانے کا وقت پورا ہوگیا اب سب کو ٹیبل سے اٹھنا پڑے گا چاہے انھیں کتنی ہی بھوک کیوں نہ ہو۔

سب کو تیار ہو کر ٹیبل پر آنا پڑتا ہے

گھر میں انسان آرام دہ حلیے میں کھانا کھاتا ہے لیکن شاہی خاندان کے افراد کے لئے کھانا کھانا بھی ایک ڈیوٹی کی طرح ہے انھیں مقررہ وقت پر اچھی طرح تیار ہوکر آنا ضروری ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہوٹل کی طرح مینو کارڈ بھی موجود ہوتا ہے جس سے کھانا منتخب کیا جاتا ہے

شہزادہ چارلس دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے اور ملکہ پیزا نہیں کھاتیں

آج کے دور میں شاید ہی کوئی پیزا کھانا پسند نہ کرتا ہو لیکن ملکہ الزبتھ کے باورچی کا کہنا ہے کہ ملکہ کبھی بھی پیزا نہیں کھاتیں جبکہ ان کے بیٹے شہزادہ چارلس دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے البتہ ملکہ کو چاکلیٹ بہت پسند ہے اور وہ ڈارک چاکلیٹ بہت شوق سے کھاتی ہیں


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US