گزشتہ رات سوشل میڈیا پر میاں چنوں کے حوالے سے ایک خبر کافی وائرل تھی جس میں بتایا جا رہا تھا کہ میاں چنوں میں پاکستان آرمی کا ائیر کرافٹ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
اس حوالے سے بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے خوب پراپیگنڈہ کیا لیکن آئی ایس پی آر نے ان تمام پراپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ 9 مارچ کی رات بھارت کی طرف سے پاکستانی حدود میں کوئی چیز داخل ہوئی تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ گزشتہ رات بھارتی میزائل کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے پر کامیابی کے ساتھ میزائل کو ناکام بنا دیا گیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بنا کسی پائلٹ کے دکھائی دینے والا یہ سپر سونک میزائل کسی حساس مقام پر نہیں گرا۔
ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ چیز پاکستانی حدود میں داخل ہوئی، اس کی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی تھی، تاہم اڑنے والی چیز غیر مسلح تھی جس کی پاکستان ائیر فورس مکمل مانیٹرنگ کیے ہوئے تھی۔
واضح رہے ہوا سے ہوا میں وار کرنے والے اس میزائل میں 2 پیڑول ٹینکس ہوتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ پاکستان اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور ہر بات کو ثبوت کے ساتھ پیش کرتا ہے، تاہم اس پاکستان سمجھداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارت ایسے ہتھکنڈوں سے پاکستان کا اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میاں چنوں کا مقام بھارتی سرحد سے تقریبا 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق یہ واقعہ رات 6:43 کے قریب پیش آیا تھا۔
بروقت معلومات اور جدید سسٹم نے بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پر مجبور کر دیا ہے۔
اس سے پہلے رواں سال ہی بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں جاسوسی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔