پاکستان کے تعلیمی اداروں میں عام طور پر جامعات اور کالجز کو ہی شمار کیا جاتا ہے، لیکن مدارس کو مذہبی ہونے کی وجہ سے ایک مختلف نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے مدرسے کے بارے میں بتائیں گے جو کہ تاریخی مدرسہ ہے۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کا مشہور مدرسہ جامعہ حقانیہ کئی برسوں سے طالب علموں کو علم کی روشنی سے روشناس کر رہا ہے، اکوڑہ خٹک میں واقع یہ مدرسہ اس لیے بھی منفرد اور دلچسپی کا باعث ہے کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں طالب علم قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انڈیپینڈینٹ اردو کی جانب سے مدرسہ حقانیہ کے چانسلر حمید الحق حقانی سے ملاقات کی جو کہ جمیعت علمائے اسلام کے رکن بھی ہیں۔ حمید الحق کی جانب سے جامعہ حقانیہ سے متعلق کچھ ایسی معلومات فراہم کی جس نے سب کی توجہ حاصل کی۔
اس مدرسے میں پڑھنے والے طالب علم 8 سے 10 سال میں جید عالم دین اور جید محدث بن کر نکلتے ہیں، ان طالب علموں کو کبھی لنگر میں گوشت دیا جاتا ہے تو کبھی سبزی اور کبھی دال کھلائی جاتی ہے۔
اس مدرسے میں زیر تعلیم طلبہ کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا جاتا ہے، چانسلر حمید الحق حقانی کے مطابق اس مدرسے میں ساڑھے چار سے پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، لیکن اسکول کے طلباء کو ملا کر 5 ہزار کی تعداد ہو جاتی ہے۔
جبکہ تین ہزار ایسے طلباء ہیں جو کہ جامعہ کے ہاسٹل میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، اور دو ہزار بچے علاقوں میں رہتے ہیں۔
اس مدرسے کے لنگر پر بھی کُل 31 لاکھ ماہانہ خرچہ آتا ہے، انتظامیہ کے مطابق ہر دن 6 ہزار روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ چانسلر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ لنگر کا انتظام، اساتذہ کی تنخواہیں، بجلی گیس بل،، یہ تمام اخراجات سالانہ کروڑوں میں بنتے ہیں۔
اس خرچے کو پاکستانی عوام پورا کرتے ہیں جبکہ کچھ اس ادارے کے سفیر جا کر پورا کرتے ہیں۔ چانسلر حمید الحق کا کہنا تھا کہ رجب، شعبان، رمضان میں ایک اور سسٹم ہوتا ہے جس میں عوام کی زکوٰۃ سے بجٹ بنایا جاتا ہے۔
مدرسے کا سالانہ بجٹ مہتمم مولانا انوار الحق اور حمید الحق حقانی مل کر شوریٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بجٹ کو دو ڈھائی سو افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور پھر راولپنڈی میں ایک اچھے ادارے سے آڈٹ بھی کراتے ہیں۔
70 سال سے اسی طرح کام کر رہے ہیں جس میں آڈٹ کرا کے ہر چیز عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔