ہر مسلمان کا خواب ہوتا ہے کہ وہ آقائے دو جہاں ﷺ کے روضہ اقدس کے اطہر مبارک کے پاس اپنے دل کا حال سنائے، کیونکہ اس مقام پر جو سکون ہے وہ دنیا جہاں کے سکون کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو روضہ اقدس سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔
روضہ اقدس ﷺ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویسے تو کئی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، لیکن آج آپ کو روضہ اقدسﷺ سے متعلق وہ معلومات فراہم کریں گو جو شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
روضہ اقدس میں جب داخلی دروازے سے داخل ہوتے ہیں تو سامنے ہی ایک بڑا سے پردہ موجود ہے، جو کہ سبز اور لال رنگ کی پردہ نما چادر ہے، جس کے بارے میں لوگوں کا گمان ہے کہ اس پردے کے پیچھے آقائے دو جہاں کی قبر انور ہے، لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ ایک پردہ ہے جو عام انسان اور دنیا کی عظیم ہستی کے درمیان موجود ہے۔
ہرے اور لال پردے پر قرآنی آیات اور دعائیں درج ذیل ہیں جبکہ اسی پردے پر آقائے مصفطیٰ ﷺ کے لیے پڑھا جانے والا درود و سلام بھی لکھا ہوا ہے۔ اس پردے کو دیکھ کر ایک عجیب سا سکون ملتا ہے، خوشبو بھی کچھ ایسی ہے جو کہ عام خوشبوؤں سے یکسر مختلف ہے۔
روضہ اقدس میں داخل ہونے سے پہلے ایک عجیب ماحول ہوتا ہے اور جیسے ہی روضہ اقدس میں انسان قدم رکھتا ہے تو اسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا سے کٹ سا گیا ہے، پُرسکون ماحول جو اسے کبھی میسر نہیں آیا ہوتا وہ اسے اس مقدس مقام پر چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہی تیری منزل ہے مگر کب اور کتنی جلدی یہ وقت گزر جاتا ہے معلوم ہی نہیں ہوتا۔
چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوو بھی انہی خوش قسمت شخصیات میں شامل ہیں جنہیں روضہ اقدس میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ ابھی ٹھیک طرح سے اس مقدس مقام کی زیارت بھی نہیں کی تھی، اور اس ماحول کو آنکھیں بند کر کے محسوس بھی نہیں کیا تھا کہ رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا۔
سید مزین ہاشمی جو کہ ریسرچر ہیں، بتاتے ہیں کہ گنبد خضریٰ کے نیچے دو حجرے موجود ہیں جن میں سے ایک اما عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہے جبکہ دوسرا حجرا آقائے دو جہاں کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرہ کا ہے، جبکہ حضرت فاطمہ الزہرہ کے حجرے میں محراب بھی موجود ہے۔
ان دونوں حجروں کی مختلف دیواریں ہیں جبکہ ان سے آگے قباۃ النور ہے جسے گنبد نور بھی کہا جاتا ہے، جو کہ گنبد خضریٰ کے عین نیچے واقع ہے۔ جس میں گنبد خضریٰ کے جیسی ایک کھڑی موجود ہے ان کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور تک جانے کا بس یہی ایک راستہ ہے ۔
قباۃ النور کی کھڑی کو کھولا جائے تو اس کے بعد سامنے وہی چھت نظر آتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے کھجور کے پتوں اور اونٹ کی کھال سے بنائی گئی ہے اور اس چھت مبارک کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور موجود ہے جہاں تک کسی کو جانے کی نہ تو اجازت اور قبر انور کو آخری کنگ عبداللہ کے دور میں خدمت کیلئے کھولا گیا تھا۔