امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کے دوسرے مرحلے کے دوران بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس کارروائی میں جفیر بیس پر اسلحہ کے کئی گودام، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سینٹر اور امریکی افواج کے زیرِ استعمال ایک اہم عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ بیان میں کہا گیا کہ پیٹریاٹ ریڈار سسٹم، ففتھ فلیٹ کا فضائی کنٹرول ریڈار، سی-رام (C-RAM) ارلی وارننگ سسٹم اور سمندری ڈرونز کے کنٹرول سینٹر کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ ترین لہر مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ مسلسل تیسری رات تھی جب ایران میں مختلف عسکری اہداف پر کارروائیاں کی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ایران کے شہروں بندر عباس، بوشہر، قشم، کیش اور ابو موسیٰ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ وسطی ایران کے شہر امیدیہ میں بھی امریکی میزائل گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
سینٹ کام کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن میں بوشہر، چاہ بہار، اسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون سائٹس، اور بحری صلاحیت سے متعلق اہداف کو جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔