پیٹ کی خاطر انسان سب کچھ کرتا ہے۔ بھوک انسان سے ہر مشکل سے مشکل کام کروا لیتی ہے۔ کوئی بھاری سے بھاری اینٹیں اٹھا لیتا ہے تو کوئی کچرے میں نکال کر کھا لیتا ہے۔ کوئی باسی کھانا تک کھانے سے گریز نہیں کرتا۔ کچھ روز سے سوشل میڈیا پر ایک غریب بچے کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کو کھانے کے لئے جب صرف ایک روٹی دی گئی تو وہ اس قدر خوش ہوگیا کہ اس کی بانچھیں کھل اٹھیں۔ بچے سے جب ماں نے روٹی چھیننے کی کوشش کی تو اس نے اپنی پوری جان لگا دی لیکن روٹی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور بنا کسی سالن کے روٹی کو یونہی کھانا شروع کر دیا۔
صرف یہ ایک بچہ نہیں بلکہ اس جیسے جتنے بھی ضرورتمند بچے ہیں وہ تکلیف میں ہیں۔ ان کو کھانے پینے کے لیے جو کچھ بھی ملتا ہے وہ کھا لیتے ہیں۔ صاحبِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی طرح غریبوں کے بچوں کو بھی سمجھیں۔ روزانہ نہ دیں کسی کو لیکن ہفتے میں ایک مرتبہ تو اپنے کھانے میں سے چند لقمے ان ضرورتمندوں اور بھکاریوں کو دیں تاکہ ان کی بھی بھوک پیاس مٹ سکے۔
پاکستان میں دن بہ دن غربت کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، جو لوگ کل تک ایک روٹی سکون سے کھالیتے تھے آج ان کے لیے آدھی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ مہنگائی سے سب کی چیخیں نکل گئیں ہیں۔ والدین بے بس ہیں وہ مجبوری کے باعث اپنے بچوں کو مار رہے ہیں، کوئی خودکشی پر اتر آیا ہے تو کوئی فاقے کر رہا ہے۔
ہم لوگ میتوں کو تو کندھا دے دیتے ہیں اور اپنا ثواب اکٹھا کرتے رہتے ہیں مگر کبھی اپنے اندر نہیں جھانکتے، اپنے اطراف موجود ان ضرورتمندوں کو سہارا نہیں دیتے۔ ان کی فکر نہیں کرتے جبکہ بھوکے کو ایک وقت کی روٹی کھلانا بھی انسانیت کے بڑے درجوں میں شمار ہوتی ہے۔