امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زور دار اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کے خواہاں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ طویل جنگ کے بجائے مختصر مگر مؤثر حملے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی طویل تنازع سے بچتے ہوئے ایسی کارروائی چاہتے ہیں جس کے فوری اور واضح نتائج سامنے آئیں۔ اسی تناظر میں خطے میں عسکری اور سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری طور پر دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر الرٹ رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل پیشگی وارننگ دے گا۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے بقول معتبر ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے قطر میں واقع امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکالنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ برطانیہ نے بھی اسی امریکی فوجی اڈے سے اپنے عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں امن قائم ہے اور صورتِ حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوموں کے عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، ایران اور اسرائیل سے آنے والے حالیہ بیانات اور اقدامات خطے میں ایک نئے ممکنہ بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔