امریکہ نے پاکستان اور ایران سمیت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ غیر معینہ مدت تک روک دی ہے۔ کیا اس امریکی فیصلے کا تعلق پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات سے ہے یا اس کی وجہ کچھ اور ہے؟
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرینٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے اسے منسوخ نہیں کیا جا رہاامریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی جانب سے دی گئی ویزے کی ایسی درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے جن کی مدد سے وہ امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے۔
تاہم اس نئی پابندی کا اطلاق امریکہ کے سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزے پر نہیں ہو گا۔
یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور ویزا پابندیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں یہ امریکہ کا سب سے سخت اقدام ہے۔
پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش،بھوٹان اور نیپال جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
اس فہرست میں وہ 19 ممالک بھی شامل ہیں جن کے تارکین وطن پر امریکہ میں پناہ حاصل کرنے، شہریت لینے اور گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے پر نومبر 2025 میں پابندی لگائی گئی تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دیں۔
تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرینٹ ویزا جاری کیا جا چکا ہے اسے منسوخ نہیں کیا جا رہا۔ اور متاثرہ ممالک کے شہری امیگرنٹ ویزا کی نئی درخواستیں بھی جمع کروا سکتے ہیں اور انٹرویوز دے سکتے ہیں لیکن جب تک پابندی لاگو رہے گی اس وقت تک انھیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پابندی کا شکار ملک میں رہنے والا شخص اگر دوہری شہریت رکھتا ہے، اور جس دوسرے ملک کا پاسپورٹ اس کے پاس ہے وہ پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، تو ایسے فرد پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔
پابندی کا شکار ممالک کون سے ہیں؟
جن 75 ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایشیائی ممالک کے علاوہ مشرقِ وسطی، یورپ، افریقہ، کیریبیئن اور وسطی و جنوبی امریکہ کے ممالک بھی شامل ہیں۔
براعظم ایشیا اور پیسیفک سے جو ممالک پابندی کا شکار ہوئے ہیں ان میں پاکستان، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، فیجی، جارجیا، قزاقستان، کرغزستان، لاؤس، منگولیا، میانمار، نیپال، تھائی لینڈ اور ازبکستان شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، شام اور یمن کے شہریوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ البانیہ، روس، بیلاروس، بوسنیا، کوسووو، مالدووا، مونٹی نیگرو اور مقدونیہ جیسے یورپی ممالک کے شہری بھی اس پابندی کی زد میں آئے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تارکین وطن کو مالی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے اور امریکیوں پر مالی بوجھ نہیں بننا چاہیےکریبیئن اور وسطی امریکہ سے انٹیگوا اور باربیوڈا، بہاماس، بارباڈوس، بلیز، کیوبا، ڈومینیکا، گرینیڈا، گوئٹے مالا، ہیٹی، جمیکا، نکاراگوا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز اور سینٹ لوسیا جیسے ممالک اس فہرست میں رکھے گئے ہیں۔
جنوبی امریکہ سے برازیل، کولمبیا اور یوراگوائے کا نام شامل کیا گیا ہے۔
افریقہ سے سب سے زیادہ 25 ممالک اس فہرست کا حصہ ہیں جن میں الجزائر، کیمرون، کیپ وردے، کوٹ ڈی ووآر، جمہوریہ کانگو، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، گھانا، گنی، لائیبیریا، لیبیا، مراکش، نائیجیریا، کانگو، روانڈا، سینیگال، سیرالیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، تنزانیہ، گیمبیا، ٹوگو، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔
امیگرنٹ ویزا کی پابندیوں والی اس فہرست میں شامل کچھ ممالک کی شمولیت پر حیرانی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خلیج میں بیوروچیف ویویان نیرم ایکس پر لکھتی ہیں: ’مجھے یہ جاننے کا تجسس ہے کہ کویت، جو تیل سے مالا مال ملک ہے، جہاں کے شہریوں کی اوسط آمدن 60 ہزار ڈالر سے زیادہ ہے، وہ اس فہرست میں کیسے شامل ہو گیا۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے کالم نگار سدانند دھومے نے ایکس پر لکھا: 'مجھے حیرت ہوئی کہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری عارضی پابندیوں کی فہرست میں کویت، تھائی لینڈ، برازیل، اور یوراگوئے بھی شامل ہیں۔ ان ممالک کو تو نسبتاً خوشحال سمجھا جاتا ہے۔'
امریکی پابندیوں کی وجہ کیا ہے؟
امیگرنٹ ویزا کی پابندیوں والی اس فہرست میں شامل کچھ ممالک کی شمولیت پر حیرانی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہےامریکہ کے اس فیصلے کا تعلق ان ممالک سے امیگریشن کے خواہش مندوں پر ہو گا لیکن اس کی وجہ حقیقت میں ان ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ افراد ہیں جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں اور حکومتی امداد حاصل کرتے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تارکین وطن کو مالی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے اور امریکیوں پر مالی بوجھ نہیں بننا چاہیے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں تمام پالیسیوں، ضوابط کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان ممالک سے آنے والے تارکین وطن امریکہ میں حکومت پر بوجھ نہ بنیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ حکومت اس نظام کا ’غلط استعمال‘ ختم کرنا چاہتی ہے۔
نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ کا کہنا تھا کہ ’محکمہ خارجہ اپنے اختیارات استعمال کرے گا تاکہ ایسے ممکنہ تارکین وطن کو نااہل قرار دیا جا سکے جو امریکہ پر بوجھ بن سکتے ہیں اور امریکی عوام کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
پیگوٹ نے کہا کہ ویزا کا عمل عارضی طور پر اس لیے معطل کیا گیا تاکہ اس کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے اور ان غیر ملکیوں کو روکا جا سکے جو فلاحی اور عوامی فوائد کی سکیموں پر انحصار کر سکتے ہیں۔
رواں برس کے پہلے ہی ہفتے میں امریکی حکام نے اس فہرست میں مزید 25 ممالک کو شامل کیا تھا جن کے شہریوں کے لیے امریکہ کے کاروباری یا سیاحتی ویزے کی درخواست دیتے ہوئے 15 ہزار ڈالرز تک کی ضمانتی رقم (بانڈ) جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
38 ممالک کی اس فہرست میں شامل زیادہ تر براعظم افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ملک ہیں جبکہ جنوبی ایشیا سے بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اس کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے ان ممالک پر بھی امیگریشن کے حوالے سے پر پابندیاں بڑھا دی ہیں جنھیں ٹرمپ انتظامیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
نومبر میں جب ایک افغان تارک وطن پر واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو ارکان کو گولی مارنے کا الزام عائد کیا گیا تب ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے شہریوں کا داخلہ بند کر دیا تھا یا سخت پابندیاں لگا دی تھیں۔ دسمبر میں یہ سفری پابندی مزید پانچ ممالک تک بڑھا دی گئی تھی۔
امریکہ کن شہریوں کو بوجھ سمجھتا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 جنوری 2026 کو سماجی رابطوں کے لیے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک فہرست شائع کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس کس ملک سے نقل مکانی کر کے امریکہ منتقل ہونے والے کس شرح سے حکومتی امداد لیتے ہیں۔
120 ممالک کی اس فہرست کے مطابق سب سے زیادہ امداد بھوٹان سے امریکہ جانے والے شہری لیتے ہیں، جو 81.4 فیصد ہے۔ 75.2 فیصد کے ساتھ یمن کے شہری دوسرے اور 71.9 فیصد کے ساتھ صومالیہ کے شہری تیسرے نمبر پر ہیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے 68.1 امریکی شہری حکومتی امداد لیتے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستانی امیگرنٹس کی امداد لینے کی شرح 40.2 فیصد ہے، جب کہ 32.9 فیصد چینی نژاد امریکی شہری حکومتی امداد لیتے ہیں۔
انڈیا کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر پابندی کیوں لگائی؟‘
حال ہی میں پاکستان امریکہ تعلقات میں گرم جوشی دیکھی گئیپاکستان میں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس رائے کا اظہار کرتے نظر آئے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہترین تعلقات اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بارہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کے باوجود پاکستان کا نام اس فہرست میں کیوں شامل ہے؟
حالیہ دور میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی بھی سفارش کی تھی۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ جا کر صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ اسی دوران ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا تھا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات بھی کی تھی۔
پاکستانی سیاست دان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس پر لکھا: ’ہم تو سمجھتے تھے امریکہ سے ہمارے اچھے ہیں اور انڈیا کے خراب ہیں، لیکن انڈین شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ جاری رہے گی اور پاکستانیوں کے لیے ایسی کوئی سہولت نہیں۔‘
تاہم، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسین ندیم کا خیال ہے کہ پاکستان اس فہرست میں زیادہ دیر نہیں رہے گا۔
حسین ندیم نے ایکس پر لکھا: ’پاکستان اس فہرست میں زیادہ دیر نہیں رہے گا؛ امکان ہے کہ جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو شروع سے ہی ویزا فریز لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔‘
جنوبی ایشیا میں جغرافیائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اس فہرست میں پاکستان کے نام کے بارے میں لکھا: ’پاکستان ان 75 ممالک میں شامل ہے جن پر ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر ویزا کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔ امریکہ سے تعلقات میں حالیہ گرم جوشی بھی پاکستان کو اس فیصلے سے نہ بچا سکی۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی شامل ہیں۔‘
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے انٹریو میں سابق امریکی مشیر سلامتی جان بولٹن نے امریکہ کے نکتہ نظر سے اس کا مختلف تجزیہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’طالبان اور افغانستان میں دیگر گروہوں کے خلاف ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی کچھ مشترکہ مفادات ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم پاکستان کے ساتھ کام کریں اور یہ احساس دلائیں کہ چین پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ انڈیا کے لیے۔ تب آگے بڑھنے کے لیے یہ بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ٹرمپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں یا نہیں، لیکن میں ان کا مشیر ہوتا تو یہی کہتا۔‘