کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا، جہاں 17 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ میں گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہوں تین ملزمان نے زبردستی گاڑی میں ڈالا اور بے ہوش کر کے اغوا کر لیا۔متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزمان کسی جنگل نما سنسان جگہ پر لے گئے جہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
لڑکی نے الزام عائد کیا کہ سردار نامی شخص نے اسے اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزاحمت پر وحشیانہ تشدد بھی کیا گیا۔متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ نے پولیس کے رویے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا واقعے کے بعد جب وہ تھانے پہنچے تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے میڈیکل رپورٹ لانے کا کہا اور میڈیکل مکمل ہونے کے باوجود پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے۔
پولیس کی جانب سے شنوائی نہ ہونے پر اہلخانہ نے پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی سے مدد طلب کی۔انہوں نے پولیس کی مبینہ غفلت اور مقدمہ درج نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔