اپنے پیاروں کے انتقال کے بعد لوگ ان کی قبروں پر پانی ڈالتے ہیں اور لپائی کرتے ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم اس بات پر علماء کی رائے جانیں گے کہ آخر قبر پر پانی ڈالنے سے ہوتا کیا ہے۔
دارالافتاء کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے ایک تفصیلی سوال پوچھا گیا جس میں لکھا تھا کہ "
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ( 1) قبروں پر مٹی ڈالنا، ( 2) پانی چھڑکنا (3 ) اور لپائی کرنا کیسا ہے؟"
علماء کا جواب
علماء کے دئیے گئے جواب کو آسان لفظوں میں ہم یوں بیان کریں گے کہ اگر لپائی قبر کو پکی کرنے کے لئے کی جارہی ہے تو یہ غیر شرعی عمل ہے اور اگر یہ عمل بار بار کیا جائے تو اس میں پانی اور مٹی کا اسراف بھی شامل ہوجائے گا جو کہ درست نہیں۔ البتہ اگر صرف قبر کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے لپائی کی جارہی تو ایسا کرنا ٹھیک ہے۔
قبر پر پانی ڈالنے کا مردے پر اثر
اس سوال کے علاوہ قبر پر پانی ڈالنے سے مردے پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں ملتی۔ اسلام کے مطابق مردہ اپنے ساتھ صرف اپنے اعمال لے کر جاتا ہے البتہ اس کی مغفرت کے لئے دعا اور ایصال ثواب کی نیت سے اولاد اگر اچھے کام کرکے مغفرت کی دعا کرے تو وہ قبول ہوسکتی ہے۔