غیرقانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی نوجوان مبینہ طور پر لاپتا ہوگئے ہیں، جبکہ ان کے اہلِ خانہ نے اغوا اور تاوان طلب کیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور بازیابی کی اپیل کی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق لاپتا ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے باٹاپور سے ہے، جبکہ تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی انہی میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عامر نامی مبینہ ایجنٹ نے لاکھوں روپے وصول کرکے نوجوانوں کو غیرقانونی راستے سے بیرونِ ملک بھیجنے کا انتظام کیا۔
خاندانوں کے مطابق نوجوان ایران پہنچنے کے بعد کچھ دیر تک اہلِ خانہ سے رابطے میں رہے، تاہم بعد ازاں ان سے تمام رابطہ منقطع ہوگیا۔ بعد میں وقاص کے موبائل فون سے اہلِ خانہ کو مزید رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں تین نوجوانوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی موصول ہوئیں، جن میں وہ انتہائی خراب حالت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیوز میں نوجوانوں کے گلے میں زنجیریں بندھی ہوئی ہیں اور وہ روتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ سے رقم کا انتظام کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق ابتدا میں فی نوجوان 10 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جو ادا کر دیے گئے، تاہم اب ہر نوجوان کی رہائی کے لیے مزید 6 ہزار امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عامر نامی مبینہ ایجنٹ، جو باٹاپور کا رہائشی بتایا جاتا ہے، نے نوجوانوں کو ڈنکی کے ذریعے بیرونِ ملک پہنچانے کا جھانسہ دیا تھا۔
متاثرہ خاندانوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع کرتے ہوئے واقعے کی درخواست جمع کرا دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتا نوجوانوں کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ اس معاملے میں ملوث انسانی اسمگلرز اور دیگر ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔