انسان زندگی بھر جن رشتوں کے لیے قربانیاں دیتا ہے، ان کے ساتھ رہنے کے لیے اپنی خواہشات کو کنٹرول کرتا ہے، محبت سے ہر رشتے کو پروان چڑھاتا ہے تاکہ جب وقتِ نزع ہو تو یہ اپنے اس کو آخری آرام گاہ تک پہنچا دیں، اس کے کفن دفن کا انتظام کردیں۔ انسان اپنی زندگی میں ہی آخری وقت کی تیاری کرتا ہے، لیکن کچھ ایسے بھی لوگ اس دنیا میں ہیں جن کی اچانک موت ہو جاتی ہے اور ان کے گھر والے ان کی میت کو بھی نہیں دیکھ پاتے۔
کچھ ایسا ہی ان بزرگ کے ساتھ ہوا جو کراچی کے علاقے صدر میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب سڑک پر نصب بینچ پر جا کر بیٹھے اور تھوڑی دیر بعد وہیں لیٹ گئے۔ ایک گھنٹے بعد جب کسی شہری نے ہاتھ سے ہلایا اور اٹھانے کی کوشش کی تو وہ ان کی روح دنیا سے پرواز کرچکی تھی۔
قریبی لوگوں نے چھیپا کے ادارے کو اطلاع کی اور وہ لوگ ان کی لاوارث لاش کو اٹھا کر لے گئے، لیکن ان کا اپنا کوئی پوچھنے نہ آیا۔ ایسے کیسز میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی اپنے پیارے کو پوچھنے نہیں آتا اور پھر یہ سماجی ادارے ان افراد کی نامعلوم نمازِ جنازہ پڑھا کر ان کو دفن کر دیتے ہیں۔