ایران میں جنوری 1979 کے آخری دو ہفتے انتہائی ڈرامہ خیز تھے جہاں خفیہ روابط اور ملاقاتوں کے پس منظر میں صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیزی سے بدل رہی تھی۔

آج سے ٹھیک 47 سال قبل (16 جنوری 1979) شاہ ایران محمد رضا پہلوی اپنی حکومت کے خلاف کئی ماہ سے جاری پُرتشدد مظاہروں کے بعد ایران چھوڑ گئے تھے۔ شاہ ایران اور اُن کی اہلیہ، ملکہ فرح، تہران سے روانہ ہو کر مصر کے شہر اسوان چلے گئے تھے۔
اس شاہی جوڑے نے اپنے تین کم عمر بچے ایک روز قبل ہی (15 جنوری) امریکہ منتقل کر دیے تھے۔
شاہ ایران کی روانگی سے قبل سرکاری بیانات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد رضا پہلوی ’چھٹیوں‘ اور علاج کی غرض سے ملک سے گئے ہیں تاہم بعدازاں یہ حقیقت سامنے آئی کہ انھیں جنوری 1979 کے آغاز میں ہی اُن کی جانب سے مقرر کیے گئے وزیرِاعظم نے ایران چھوڑنے کا کہہ دیا تھا۔
جنوری 1979 کے وسط تک شاہ ایران کی مخالفت ایک متحدہ تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی جس کی قیادت ایران کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کر رہے تھے۔
اسی پس منظر میں جنوری 1979 کے آخری دو ہفتے انتہائی ڈرامہ خیز تھے جہاں صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیزی سے بدل رہی تھی۔
بی بی سی ورلڈ سروس نے گذشتہ برسوں کے دوران ڈی کلاسیفائی ہونے والی خفیہ دستاویزات کی بنیاد پر جنوری کے انھی آخری دو ہفتوں کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ جون 2016 میں شائع کی تھی، جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
جنوری کے دو ہفتے: خمینی کا امریکہ کو خفیہ پیغام
27 جنوری 1979 کو آیت اللہ روح اللہ خمینی، ایران میں انقلاب کے روح رواں جنھوں نے امریکہ کو ’شیطان بزرگ‘ قرار دیا، نے واشنگٹن کو ایک خفیہ پیغام بھیجا27 جنوری 1979 کو آیت اللہ روح اللہ خمینی، ایران میں انقلاب کے روح رواں اور جنھوں نے امریکہ کو ’شیطان بزرگ‘ قرار دیا، نے واشنگٹن کو ایک خفیہ پیغام بھیجا۔
یہ وہ دور تھا جب خمینی پیرس کے نواح میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔ جلاوطنی کے دوران ہی خمینی نے امریکہ کی کارٹر انتظامیہ کو ایک عملی پیشکش کی: ’ایرانی فوجی رہنما آپ کی بات سُنتے ہیں، مگر ایرانی عوام میرے احکامات مانتے ہیں۔‘
خمینی نے تجویز دی کہ اگر صدر جمی کارٹر ایرانی فوج میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اُن کے اقتدار سنبھالنے کا راستہ ہموار کریں، تو وہ ایران میں امن لوٹا دیں گے، یوں ملک میں استحکام بحال ہو گا اور ایران میں امریکی مفادات اور امریکی شہری محفوظ رہیں گے۔
اس وقت ایران کا منظرنامہ شدید انتشار کا شکار تھا۔ مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، دکانیں اور مارکیٹیں غیرمعینہ مدت کے لیے بند تھیں جبکہ عوامی خدمات کا سلسلہ معطل تھا۔
اور اسی کے بیچ مزدوروں کی جانب سے کی گئی ہڑتالوں کے باعث ایران سے تیل کی ترسیل تقریباً رُک چکی تھی اور یہ وہ معاملہ تھا جو مغرب کے ایک اہم مفاد (ایرانی تیل) کو خطرے میں ڈال رہا تھا۔
صدر جمی کارٹر کے دباؤ پر ایران کے آمر حکمران یا شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی بالآخر ’چھٹیوں‘ کے بہانے ملک چھوڑ گئے۔ اپنے پیچھے ایران میں وہ ایک غیر مقبول وزیرِاعظم اور چار لاکھ اہلکاروں و افسران پر مشتمل مگر انتشار کا شکار فوج چھوڑ گئے جو ہر معاملے میں امریکی اسلحے اور مشوروں پر انحصار کرتی تھی۔
اور امام خمینی کو اِسی بے چین فوج سے خوف تھا کیونکہ شاہ کے قریب سمجھی جانے والی فوج کی اعلیٰ کمان خمینی کو سخت ناپسند کرتی تھی۔ خمینی کے لیے مزید تشویش کی بات یہ تھی کہ ایرانی فوج کی اعلیٰ کمان لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر ایک امریکی فضائیہ کے جنرل رابرٹ ای ہویزر سے ملاقات کر رہے تھے۔
جنرل رابرٹ ای ہویزر کو صدر جمی کارٹر نے ایک پراسرار مشن پر کچھ عرصہ قبل ہی تہران بھیجا تھا۔
15 سالہ جلاوطنی کے بعد آیت اللہ خمینی ایران واپسی کے لیے پُرعزم تھے اور وہ یہ بھی یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ’چھٹیوں‘ پر ایران چھوڑ کر جانے والے شاہ کی ان ’چھٹیوں‘ کو مستقل چھٹی میں بدل دیں۔ اسی لیے انھوں نے کارٹر انتظامیہ سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار کریں۔
ایک ذاتی پیغام میں آیت اللہ خمینی نے وائٹ ہاؤس کو یقین دلایا کہ امریکہ کو اس بات پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ شاہ ایران کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکہ اپنے37 سالہ پرانے سٹریٹجک اتحادی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا،اور یہ کہ وہ (خمینی) خود بھی امریکہ کے دوست ثابت ہوں گے۔
خمینی نے کہا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ہمارا امریکہ سے کوئی خاص عناد نہیں ہے۔‘ انھوں نے وعدہ کیا کہ اُن کی اسلامی جمہوریہ (ایران) ’انسانی اقدار پر مبنی ہو گی، جو امن اور سکون کے ساتھ پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو گی۔‘
خمینی کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو بھیجا گیا یہ پیغام رواں صدی کے ابتدائی برسوں میں منظرِ عام پر لائی گئی امریکی سرکاری دستاویزات کا حصہ ہے۔ یہ دستاویزات، جو سفارتی مراسلات، پالیسی نوٹس اور ملاقاتوں کے ریکارڈ پر مبنی ہیں، امریکہ کی خمینی کے ساتھ خفیہ روابط کی بڑی حد تک خفیہ رکھی گئی کہانی بیان کرتی ہیں۔
وہی خمینی جو آگے چل کر اسلامی بنیاد پرستی اور دنیا بھر میں امریکہ مخالف جذبات کو جنم دینے والے مذہبی رہنما کے طور پر اُبھرنے والے تھے۔
یہ کہانی اُن تفصیلات کو بھی آشکار کرتی ہے کہ خمینی نے کس طرح امریکہ کے ساتھ نرمی اور تعاون کے لہجے میں بات کر کے ایران واپسی کا اپنا راستہ ہموار کیا، یہ ایک ایسا رویہ تھا جو اُن کی جانب سے پہلے کبھی سامنے نہیں آیا تھا۔
درحقیقت، آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جانب سے بھیجا گیا یہ پیغام دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اُن براہِ راست مذاکرات کا نتیجہ تھا، جو اُن (خمینی) کے غیر رسمی چیف آف سٹاف اور فرانس میں امریکی حکومت کے نمائندے کے درمیان ہوئے۔
اور یہی مذاکرات خمینی کی ایران واپسی اور اُن کے تیزی سے اقتدار میں آنے کا سبب بنے، اور آگے چل کر ایران و امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط شدید کشیدگی کی بنیاد بھی۔
ایران کے سرکاری بیانیے میں خمینی کو بہادری سے امریکہ کا مقابلہ کرنے والا اور ’شیطان بزرگ‘ (امریکہ) کو شکست دینے والا رہنما قرار دیا جاتا ہے، ایک ایسی شخصیت جس نے شاہ ایران کو اقتدار میں رکھنے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔
لیکن ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خمینی امریکہ کے ساتھ اس سے زیادہ رابطے میں تھے جتنا کہ ماضی میں دونوں حکومتوں (امریکہ اور ایران) نے تسلیم کیا ہے۔ امریکہ کو للکارنے کے بجائے، آیت اللہ خمینی نے کارٹر انتظامیہ کو اپنی طرف مائل کیا، ایسے خاموش اشارے دیے کہ وہ مکالمہ چاہتے ہیں اور ایک ممکنہ اسلامی جمہوریہ کو امریکی مفادات کے لیے سازگار ظاہر کیا۔
ایک طویل عرصے تک کارٹر انتظامیہ سے منسلک حکام یہ مؤقف رکھتے تھے کہ واشنگٹن، اگرچہ حکمت عملی کے معاملے پر شدید تقسیم کا شکار تھا، لیکن وہ (امریکہ) آخری وقت تک شاہ ایران اور اُن کی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔
تاہم دستاویزات پسِ پردہ امریکی رویے کی زیادہ تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔شاہ ایران کے تہران چھوڑنے کے صرف دو دن بعد (یعنی 18 جنوری کو) امریکہ نے خمینی کے ایک نمائندے کو بتایا کہ وہ اصولی طور پر ایرانی آئین میں تبدیلی کے خیال سے متفق ہیں اور اس کے لیے تیار ہیں (یعنی اس کا مطلب ایران سے بادشاہت کا خاتمہ تھا)۔
اسی کے ساتھ کارٹر انتظامیہ نے آیت اللہ روح اللہ خمینی کو ایک اہم اطلاع بھی دی، اور وہ یہ کہ ایران کے اعلیٰ فوجی افسران اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں لچکدار رویہ رکھتے ہیں۔
47 برس قبل امریکہ اور خمینی کے درمیان جو کچھ ہوا وہ محض سفارتی تاریخ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے اندر جن عناصر کو امریکہ عملی اور اس قابل سمجھتا تھا کہ اُن سے بات کی جا سکتی ہے وہ شاید آج بھی برقرار ہے۔ اسی طرح وہ سخت گیر امریکہ مخالف ورثہ بھی قائم ہے جو آیت اللہ خمینی نے ایران کے لیے چھوڑا۔
کینیڈی کو پیغام
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ آیت اللہ خمینی نے واشنگٹن سے رابطہ کیا تھا۔
سنہ 1963 میں خمینی شاہ ایران کے ایک شدید نقاد کے طور پر اُبھر کر سامنے آ رہے تھے۔ جون 1963 میں انھوں نے ایک سخت تقریر کی اور اِس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ شاہ ایران نے کینیڈی انتظامیہ کے دباؤ پر ’سفید انقلاب‘ کا آغاز کیا تھا، یہ انقلاب زرعی اصلاحات کا ایک بڑا پروگرام تھا جبکہ اس کے ایک حصے کے تحت ایرانی خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا تھا۔
اس تقریر کے بعد خمینی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اُن کی گرفتاری کے ردعمل میں فوراً ہی پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو تین روز تک جاری رہا مگر اس احتجاج کو فوج نے جلد ہی کچل کر رکھ دیا۔
چند برس قبل منظرِ عام پر آنے والی سی آئی اے کی ایک دستاویز سے انکشاف ہوا تھا کہ نومبر 1963 میں تہران میں نظر بندی کے دوران خمینی نے کینیڈی انتظامیہ کو ایک پیغام بھیجا تھا۔
یہ اس وقت ہوا جب ایرانی فوج کے ایک سکواڈ نے فائرنگ کر کے مظاہروں کے دو مبینہ منتظمین کی موت کی سزا پر عملدرآمد کیا۔ یہی وہ وقت تھا سوویت یونین کے سربراہ ایران کے دورے پر آنے والے تھے، جس نے امریکہ کے ان خدشات کو بڑھا دیا تھا کہ ایران سوویت یونین کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔
خمینی چاہتے تھے کہ شاہ ایران کے سب سے بڑے سرپرست (امریکہ) کو یہ سمجھ آ جائے کہ اُن (خمینی) کا امریکہ سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔
سنہ 1980 کی سی آئی اے کی ایک تجزیاتی رپورٹ بعنوان ’اسلام اِن ایران‘، جسے سنہ 2008 میں جزوی طور پر ڈی کلاسیفائی کیا گیا تھا، کے مطابق ’خمینی نے وضاحت کی کہ وہ ایران میں امریکی مفادات کے مخالف نہیں ہیں۔‘
اس کے برعکس، انھوں نے امریکہ کو بتایا کہ سوویت اور برطانوی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی موجودگی ضروری ہے۔
امریکی سفارتخانے کی وہ کیبل، جس میں خمینی کے پیغام کا اصل مکمل متن موجود ہے، آج بھی خفیہ ہے اور اسے منظر عام پر نہیں لایا گیا۔
خمینی چاہتے تھے کہ شاہ ایران کے سب سے بڑے سرپرست (امریکہ) کو یہ سمجھ آ جائے کہ اُن (خمینی) کا امریکہ سے کوئی جھگڑا نہیں ہےیہ واضح نہیں کہ صدر کینیڈی نے کبھی یہ پیغام دیکھا بھی تھا یا نہیں کیونکہ یہ پیغام بھیجے جانے کے دو ہفتے بعد، کینیڈی کو ریاست ٹیکساس میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ایک سال بعد، آیت اللہ خمینی کو ایران سے جلاوطن کر دیا گیا۔ اس بار انھوں نے شاہ ایران کو اس فیصلے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت ایران میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کو عدالتی استثنا دیا گیا تھا۔
جلاوطنی سے قبل خمینی نے اعلان کیا ’امریکی صدر کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایرانی قوم کی نظروں میں سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والا شخص ہے۔‘
جلاوطنی کے 15 سال بعد خمینی پیرس میں تھے۔ اب وہ ایک ایسی تحریک کے رہنما بن چکے تھے جو ایران کو بادشاہت سے نجات دلانے کے قریب تھی۔ مگر فتح کے دہانے پر کھڑے آیت اللہ کو اب بھی امریکہ کی ضرورت تھی۔
جنوری 1979 تک آیت اللہ خمینی کے اپنی عوامی تحریک کو بام عروج پر لے جا چکے تھے لیکن انھیں ایک خدشہ تھا کہ کہیں آخری لمحے میں امریکہ مداخلت نہ کر دے، بالکل ویسے ہی جیسے سنہ 1953 میں ہوا تھا جب سی آئی اے نے شاہ ایران کو دوبارہ اقتدار میں لانے میں مدد دی تھی۔
ایران میں صورتحال اس وقت انتہائی کشیدگی کا شکار ہو گئی جب شاہ ایران کی جانب سے چند روز قبل تعینات کیے گئے وزیرِاعظم شاپور بختیار خمینی کی جنوری کے اختتام پر ایران میں متوقع واپسی کو روکنے کی غرض سے ایئرپورٹ اور اس کے قرب و جوار میں فوج اور ٹینک تعینات کر دیے جبکہ ایئرپورٹ پر تمام فلائیٹ آپریشنز معطل کر دیے۔
ایران خانہ جنگی کے دہانے پر دکھائی دے رہا تھا: شاہی فوج کے خصوصی دستے اپنے بادشاہ کے لیے جان دینے کو تیار تھے جبکہ امام خمینی کے پرجوش پیروکار مسلح جدوجہد اور ’شہادت‘ کے لیے تیار کھڑے تھے۔
وائٹ ہاؤس کو خدشہ تھا کہ ایران میں کوئی بھی ممکنہ خانہ جنگی امریکی سٹریٹجک مفادات کے لیے بُرے نتائج کا باعث بنے گی۔ ایران میں موجود ہزاروں امریکی فوجی مشیران کی زندگیاں، ایران میں موجود جدید امریکی ہتھیاروں کے نظام مثلاً ایف-14 جیٹ طیارے، تیل کی اہم ترسیل کے مقامات، اور ایران کا سب سے طاقتور ادارہ یعنی ایرانی فوج نشانے پر تھے۔
امریکہ خمینی کے برسراقتدار آنے اور پہلوی کے زوال سے اِتنا پریشان نہیں تھا، جتنا ممکنہ خانہ جنگی کے تصور سے۔
صدر جمی کارٹر نے اس سے قبل خمینی اور ایرانی فوج کے درمیان کسی سمجھوتے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
نو نومبر 1978 کو ایک مشہور سفارتی کیبل ’تھنکنگ دی ان تھنک ایبل‘ میں ایران میں امریکی سفیر ولیم سلیوان نے خبردار کیا تھا کہ شاہ کا اقتدار ختم ہونے والا ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ واشنگٹن کو چاہیے کہ شاہ ایران اور اس کے اعلیٰ فوجی افسران کو ایران سے نکال لے اور پھر خمینی اور فوج کے جونیئر کمانڈروں کے درمیان کوئی معاہدہ کروایا جائے۔
امریکی سفیر ولیم سلیوان کی یہ جرات مندانہ تجویز صدر کارٹر کے لیے غیر متوقع تھی، اس کے بعد اِن دونوں شخصیات میں تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
لیکن جنوری کے آغاز تک، صدر کارٹر نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایرانی عوام کو پرسکون کرنے کے لیے رضا شاہ پہلوی کا جانا ضروری ہے۔
صدر کارٹر نے تین جنوری کو اپنے اعلیٰ مشیروں کو طلب کیا۔ مختصر بحث کے بعد فیصلہ ہوا کہ شاہ کو خاموشی سے ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا جائے، بظاہر کیلیفورنیا میں ’چھٹیاں‘ گزارنے کے لیے۔
میٹنگ کے منٹس کے مطابق صدر کارٹر نے کہا کہ ’ایک حقیقی غیر جانبدار ایران کو امریکہ کے لیے نقصاندہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘
اسی روز صدر کارٹر نے جنرل رابرٹ ای ہویزر، جو یورپ میں امریکی افواج کے نائب کمانڈر تھے، کو تہران روانہ کیا تاکہ شاہ کے جرنیلوں کو یہ پیغام دیں کہ وہ وزیرِاعظم بختیار کے خلاف ’فوجی بغاوت میں نہ کودیں۔‘
لیکن بختیار کو اپوزیشن میں کوئی حقیقی حمایت حاصل نہ تھی اور اپوزیشن انھیں ’شاہ کا ایجنٹ‘ قرار دیتی تھی۔
امریکی سفیر سلیوان وزیراعظم بختیار کی بہادری کی تعریف اُن کے سامنے کرتے تھے مگر اُن کی جانب سے واشنگٹن کو بتایا گیا کہ یہ شخص ’غیر حقیقت پسند‘ ہے جو بڑے داؤ پر کھیل رہا ہے اور امریکہ کی ’رہنمائی‘ قبول نہیں کرے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے اُن کی حکومت کو ’ناقابلِ عمل‘ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس نے عوامی سطح پر وزیر اعظم بختیار کی حمایت کی، لیکن پسِ پردہ انھیں ہٹانے کے لیے فوجی بغاوت کے امکانات پر غور کیا گیا۔
نو جنوری 1979 کو نائب قومی سلامتی مشیر ڈیوڈ ایرن نے اپنے باس زبگنیو برژنسکی کو لکھا کہ ’میرے خیال میں بہترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ فوج (وزیراعظم)بختیار کے خلاف بغاوت کرے اور پھر فوج اور خمینی کے درمیان ایک معاہدہ ہو جائے جو بالآخر شاہ کو اقتدار سے بیدخل کر دے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے کہ یہ معاہدہ فوج کی جانب سے بختیار کے خلاف کارروائی کیے بغیر بھی ہو جائے۔‘
دو دن بعد صدر کارٹر نے بالآخر افسردہ اور کینسر کے مرض کے شکار رضا شاہ پہلوی کو کہا کہ وہ ’فوراً (ایران سے) روانہ ہو جائیں۔‘
اس وقت تک امریکی قومی سلامتی کے اداروں میں ایک وسیع اتفاق رائے پیدا ہو چکا تھا کہ وہ آیت اللہ اور اُن کے قریبی حلقے کے ساتھ معاملات طے کر سکتے ہیں۔
خمینی نے بھی واشنگٹن کو اسی نوعیت کے اشارے بھیجے تھے۔
پانچ جنوری کو فرانس میں ایک ’امریکی مہمان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خمینی نے کہا کہ ’تیل کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔ یہ درست نہیں کہ ہم امریکہ کو ایرانی تیل فروخت نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے ’مہمان‘ کو تاکید کی کہ یہ پیغام واشنگٹن تک پہنچایا جائے۔ ’مہمان‘ نے ایسا ہی کیا اور گفتگو کے نوٹس امریکی سفارتخانے کے ساتھ شیئر کیے گئے۔
11 جنوری کو وائٹ ہاؤس کے ’سچوئیشن روم‘ میں ایک اہم اجلاس کے دوران سی آئی اے نے پیش گوئی کی کہ آیت اللہ خمینی پس منظر میں رہیں گے اور ایرانی حکومت کی باگ ڈور اُن کے معتدل، مغربی تعلیم یافتہ ساتھیوں اور خمینی کے نائب آیت اللہ محمد بہشتی کے ہاتھ میں ہو گی۔
امریکی حکام کے نزدیک آیت اللہ محمد بہشتی ایک غیر معمولی شخصیت تھے: ایک عملی سوچ رکھنے اور انگریزی بولنے والا مسلمان عالم جو ناصرف یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے بلکہ مغرب میں رہنے کا تجربہ بھی رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ خمینی کے قریبی ساتھی بھی ہیں۔ مختصر یہ کہ امریکی حکام کی نظر میں وہ ایک ایسے شخص تھے جن سے امریکہ بات چیت کر سکتا تھا۔
دوسری جانب صدر جمی کارٹر اس بات پر مطمئن تھے کہ جنرل ہویزر تہران پہنچ چکے ہیں۔ جنرل ہویزر احکامات پر عمل کرنے میں ماہر تھے اور ایرانی فوجی قیادت اُن پر اعتماد کرتی تھی۔
تہران پہنچنے کے بعد جنرل ہویزر کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ ایرانی فوجی قیادت کے رویے کا اندازہ لگائیں اور انھیں قائل کریں کہ وہ اپنی ’انا‘ کو پس پشت ڈال کر آیت اللہ محمد بہشتی سے ملاقات کریں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اس ملاقات کے ذریعے فوج اور خمینی کے درمیان کسی نہ کسی قسم کی ’مفاہمت‘ ممکن ہو سکے گی۔
جمود کو توڑنے کے لیے صدر کارٹر نے خود بھی اپنی انا کو ایک طرف رکھا۔ 14 جنوری کی شام امریکی وزیر خارجہ سائرس وینس نے پیرس اور تہران میں امریکی سفارتخانوں کو ایک خفیہ پیغام بھیجا: ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خمینی کے قریبی حلقے تک براہِ راست امریکی رابطہ قائم کرنا ضروری ہے۔‘
خفیہ ملاقاتیں
15 جنوری کی دوپہر فرانس میں امریکی سفارتخانے کے پولیٹیکل کونسلر وارن زیمرمین پیرس کے نواحی قصبے کے اس خاموش مقام پر پہنچے جہاں آیت اللہ خمینی قیام پذیر تھے۔ وارن زیمرمین نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنے باس کی نجی گاڑی استعمال کی جس پر سفارتی نمبر پلیٹ نصب نہیں تھی، ایسا اس لیے کیا گیا تھا تاکہ ان کا پیچھا نہ کیا جا سکے اور یہ ملاقات خفیہ رہ سکے۔
وارن زیمرمین نے برسوں بعد اپنی یادداشت میں لکھا کہ ’میں اندر گیا تو ایک بڑا ڈائننگ ہال تھا جو بالکل خالی تھا، صرف ایک شخص میز پر بیٹھا تھا، اور وہ یزدی تھے۔‘
یہ شخص دراصل آیت اللہ خمینی کے غیر رسمی چیف آف سٹاف ابراہیم یزدی تھے، جو ایک ایرانی نژاد امریکی معالج تھے۔
ٹیکساس میں رہائش پذیر ابراہیم یزدی پہلے ہی واشنگٹن میں امریکی حکام سے تعلقات قائم کر چکے تھے۔ یہ تعلقات ایک سابق سی آئی اے اہلکار کے ذریعے قائم کیے گئے تھے جو بعد میں شاہ مخالف اور لبرل سکالر رچرڈ کاٹم کے طور پر جانے گئے۔
خمینی سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا نہایت حساس معاملہ تھا۔ اگر یہ بات سامنے آ جاتی تو اسے امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی سمجھا جاتا، اور دنیا بھر کے لیے یہ واضح اشارہ ہوتا کہ واشنگٹن اپنے پرانے دوست، شاہ ایران رضا پہلوی، سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے۔
اُسی روز امریکی وزیر خارجہ سائرس وینس نے فرانسیسی حکومت کو آگاہ کیا کہ واشنگٹن کو فوری طور پر آیت اللہ خمینی کے قریبی حلقے سے براہِ راست رابطے کی ضرورت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ تہران میں آیت اللہ محمد بہشتی اور شاہ ایران کے فوجی و انٹیلیجنس سربراہان کے درمیان خفیہ مذاکرات کے لیے خمینی کی حمایت حاصل کی جائے۔
آیت اللہ محمد بہشتی نے امریکی سفیر سلیوان سے ملاقات کی تھی، لیکن حفاظتی خدشات کے باعث ایرانی جرنیلوں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر واشنگٹن نے بالآخر خمینی سے اپیل کی کہ وہ اپنے نائب کو کچھ لچک دکھانے پر آمادہ کریں تاکہ ’ملاقات کے مقام پر اتفاق‘ ہو سکے۔
جلد ہی ایک دوسرا اجلاس طے کیا گیا، اور وارن زیمرمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ یہ پیغام پہنچائیں کہ ایرانی فوج نے شاہ ایران کے جانے کے بعد بغاوت کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا تھا، لیکن جنرل ہویزر نے انھیں اس سے باز رکھا۔ تہران میں امریکی سفارتخانے کے ایک خفیہ پیغام کے مطابق (ایرانی) فوج ’اس عرصے میں پرسکون رہے گی، بشرطیکہ فوجیوں کو اشتعال نہ دلایا جائے۔‘
شاہ ایران کے ملک چھوڑ کے جانے پر ایک اخبار کی جانب سے لگائی گئی خیرمقدمی ہیڈلائن17 جنوری کو صدر کارٹر نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ وہ خمینی کو ایران آنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگلے ہی دن اُن کی انتظامیہ نے خمینی کو بتایا کہ اُن کی ’منظم‘ واپسی پر امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
کارٹر انتظامیہ نے خمینی کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد آیت اللہ اور ایرانی فوج کے درمیان ایک مشکل سمجھوتہ کروانا تھا۔ ممکن ہے کہ واشنگٹن خمینی کی آگے بڑھنے کی تیز رفتار کو سست کرنا چاہتا ہو یا اُن کے عزائم کو جانچنا چاہتا ہو، لیکن آگے چل کر اُن میں سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔
خمینی کسی سمجھوتے کے بجائے فیصلہ کُن فتح چاہتے تھے۔ تاہم واشنگٹن کے ساتھ حکمتِ عملی پر مبنی رابطہ اُن کے لیے موزوں تھا۔ دراصل خمینی کے پاس چند اہم سوالات تھے جن کے ذریعے وہ کارٹر کی شاہ ایران کے ساتھ وابستگی اور ایرانی فوج کے رجحان کو پرکھنا چاہتے تھے۔
اور آیت اللہ خمینی کو اس سب کے لیے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت نہ پڑی، اور امریکہ نے خود ہی اپنے پتے دکھا دیے (یعنی اپنے منصوبے ظاہر کر دیے)۔
’آئین کا تحفظ؟‘
وارن زیمرمین اور ابراہیم یزدی کی تیسری ملاقات تک، ان دونوں شخصیات کے پاس ایک دوسرے کو سنانے کے لیے خوشخبریاں تھیں۔
یہ 18 جنوری 1979 کی صبح تھی اور مقام وہی فرانس کا خاموش سرائے تھا جو آیت اللہ خمینی کے کمپاؤنڈ کے قریب اور پیرس کے نواح میں واقع تھا۔
ابراہیم یزدی نے تصدیق کی کہ آیت اللہ خمینی نے آیت اللہ محمد بہشتی کو ایرانی جرنیلوں سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ دوسری جانب وارن زیمرمین کے پاس آیت اللہ خمینی کے لیے ایک اہم وضاحت تھی۔
ان دونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی دوسری ملاقات کے دوران واشنگٹن نے خمینی کو خبردار کیا تھا کہ اُن کی ایران ’اچانک واپسی‘ تباہی کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ ایرانی فوج ’آئین کے تحفظ‘ کے لیے ردعمل ظاہر کر سکتی ہے۔
آئین میں واضح طور پر درج تھا کہ آئینی بادشاہت ’ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تغیر‘ (یعنی ہمیشہ قائم رہنے والی) ہے۔
لیکن ’آئین کے تحفظ‘ کا مطلب کیا تھا؟ کیا اس سے مراد بادشاہت کو برقرار رکھنا تھا یا فوجی ادارے کی سالمیت کو بچانا؟ خمینی اس معاملے پر ایک سیدھا جواب چاہتے تھے۔
یعنی صاف الفاظ میں، کیا امریکہ سمجھتا تھا کہ ایرانی فوج پہلوی نظام کی اعانت سے دستبردار ہو چکی ہے اور ’ایک نئے جمہوریت کے ڈھانچے میں کام کرنے پر آمادہ ہے؟‘
واشنگٹن کو اس سوال کی وضاحت دینے میں دو دن لگے۔ اس جواب میں، جو 35 برس تک خفیہ رکھا گیا، خمینی کے لیے واضح کیا گیا کہ امریکہ ایرانی سیاسی نظام کے بارے میں ’لچکدار‘ رویہ رکھتا ہے۔ حسبِ معمول بیان عمومی جملوں سے شروع ہوا اور اصل نکتہ آخر میں رکھا گیا۔
امریکی موقف تھا کہ ’ہم یہ نہیں کہتے کہ آئین تبدیل نہیں ہو سکتا، لیکن ہمارا یقین ہے کہ تبدیلی کے لیے طے شدہ اور منظم طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے۔ اگر ایرانی فوج کی سالمیت برقرار رہتی ہے تو قیادت مستقبل میں ایران کے لیے منتخب کسی بھی سیاسی نظام کی حمایت کرے گی۔‘
اس جواب میں، جو 35 برس تک خفیہ رکھا گیا، خمینی کے لیے واضح کیا گیا کہ امریکہ ایرانی سیاسی نظام کے بارے میں لچکدار رویہ رکھتا ہےدوسرے الفاظ میں واشنگٹن اصولی طور پر بادشاہت کے خاتمے کے لیے تیار تھا، اور شاہ کی فوج، جو روزانہ جنرل ہویزر سے ملاقات کرتی تھی، اس نتیجے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتی تھی بشرطیکہ یہ عمل تدریجی اور منظم انداز میں ہو۔
خمینی کا سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ طاقتور امریکہ پہلوی کو بچانے کے لیے آخری لمحے میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اس بار انھیں ایک واضح اشارہ ملا کہ امریکہ شاہ ایران کے باب کو ختم سمجھتا ہے اور دراصل ایرانی فوج کو بچانے اور کمیونسٹ قبضے سے بچنے کے لیے ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے۔
حسبِ معمول، خمینی کے چیف آف سٹاف نے فارسی میں تفصیلی نوٹس لیے تاکہ آیت اللہ خمینیتک پہنچائے جا سکیں۔
امریکی سفارتکار اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ایرانی نمائندہ بخوبی سمجھ سکے کہ اس پیغام کا اصل مطلب کیا ہے۔
فرانس میں امریکی سفیر نے واشنگٹن کو ایک علیحدہ خفیہ پیغام میں لکھاکہ ’اگرچہ وارن زیمرمین نے آئین سے متعلق نکات کا حوالہ دیا، لیکن انھوں نے ابراہیم یزدی کی توجہ خاص طور پر آخری دو جملوں پر مرکوز کی، جو بظاہر امریکی لچک کا پیغام دیتے تھے۔‘
امریکہ نے دراصل خمینی کو یہ باور کرا دیا تھا کہ فوج کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔ وارن زیمرمین نے اسی ملاقات میں ابراہیم یزدی سے کہا کہ ’یہ افسران نامعلوم حالات سے خوفزدہ ہیں، وہ ایک غیر یقینی مستقبل سے ڈرتے ہیں۔‘
واشنگٹن کے لیے یہ بات باعث اطمینان تھی کہ آیت اللہ نے فوج کو تباہ نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، اُن کے نمائندے نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران سے اپنے جدید ہتھیاروں کے نظام واپس نہ لے جائے۔
ابراہیم یزدی نے مزید وضاحت کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیل اور ایران کے یہودی شہریوں میں فرق کرے گا۔ یہ بات اس پس منظر میں تھی کہ شاہ کی کمزور ہوتی بادشاہت کے نتیجے میں ایران میں موجود یہودی شہری بڑی تعداد میں ایران چھوڑنے لگے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ امریکی یہودیوں کو بتا سکتے ہیں کہ ایران میں یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں فکر نہ کریں۔‘
خمینی اور کارٹر دونوں فوج اور اپوزیشن کے درمیان خونریز تصادم سے بچنا چاہتے تھے، لیکن اُن کے مقاصد بنیادی طور پر مختلف تھے۔
کارٹر ایرانی فوج کو بچانا چاہتے تھے، جسے سفیر سلیوان نے ایک غیر متوقع ’زخمی جانور‘ قرار دیا تھا،تاکہ مستقبل میں اسے دباؤ ڈالنے کے لیے ایک طاقتور آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ لیکن خمینی اس ’زخمی جانور‘ کو قابو میں لا کر ختم کرنا چاہتے تھے۔ ایرانی فوج اُن کے نظام کے لیے ایک طویل مدتی خطرہ تھی۔ اس کی قیادت کا خاتمہ اور ڈھانچے کی تباہی اُن کی اولین ترجیح تھی۔
واشنگٹن نے خمینی کے سوالات کا جواب دے دیا تھا، یعنی بادشاہت کے مستقبل اور فوج کے رجحان کے بارے میں۔ اب باری آیت اللہ خمینی کی تھی۔ کارٹر انتظامیہ جاننا چاہتی تھی کہ ایران میں امریکی بنیادی مفادات کا مستقبل کیا ہو گا: امریکی سرمایہ کاری، تیل کی فراہمی، سیاسی و فوجی تعلقات، اور سوویت یونین کے بارے میں موقف کیا ہو گا۔
خمینی نے اگلے ہی دن ان سوالات کے تحریری جواب دیے، جو ابراہیم یزدی کے ذریعے امریکیوں تک پہنچائے گئے۔
ابراہیم یزدی نے وارن زیمرمین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’روس کی حکومت لادین اور مذہب دشمن ہے۔ ہمارے لیے روسیوں کے ساتھ گہری سمجھ بوجھ پیدا کرنا یقیناً مشکل ہو گا‘یہ ایک نہایت باریک بینی سے تیار کردہ تصویر تھی جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کو اس انداز میں پیش کیا گیا، جیسا کہ صدر کارٹر نے اُسی ماہ گواڈیلوپ جزیرے پر عالمی رہنماؤں کی کانفرنس میں بیان کیا تھا: ایک ایسا ایران جو سوویت یونین کے اثر سے آزاد ہو، غیر جانبدار ہو یا کم از کم امریکہ کے لیے دوستانہ جذبات رکھتا ہو، جو انقلاب کے سلسلے کو آگے نہ بڑھائے اور مغرب کو تیل کی فراہمی بند نہ کرے۔
خمینی نے لکھا کہ ’ہم اپنا تیل ہر اُس خریدار کو فروخت کریں گے جو اس کی منصفانہ قیمت ادا کرے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد تیل کی فراہمی جاری رہے گی، سوائے دو ممالک کے: جنوبی افریقہ اور اسرائیل۔‘
خمینی نے تحریر کیا کہ ملک کی ترقی کے لیے ایران کو دوسروں کی مدد درکار ہو گی، ’بالخصوص امریکیوں کی۔‘
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی امریکہ کا کردار متوقع تھا۔ خمینی نے اشارہ دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ٹینکوں کے بجائے ٹریکٹر خریدنے میں (یعنی زراعت کے فروغ میں) دلچسپی رکھے گا، اور یہ بھی واضح کیا کہ انھیں روسیوں سے کوئی ’خاص قربت‘ حاصل نہیں ہے۔
ابراہیم یزدی نے وارن زیمرمین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’روس کی حکومت لادین اور مذہب دشمن ہے۔ ہمارے لیے روسیوں کے ساتھ گہری سمجھ بوجھ پیدا کرنا یقیناً مشکل ہو گا۔‘
یزدی نے مزید کہا کہ ’آپ مسیحی ہیں اور خدا پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ وہ (روسی) نہیں رکھتے۔ ہمیں آپ کے قریب ہونا روسیوں کے مقابلے میں آسان لگتا ہے۔‘
خمینی نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ خطے کو غیر مستحکم نہیں کریں گے۔ انھوں نے لکھا کہ ’دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت‘ مستقبل کی ایرانی حکومت کی پالیسی ہو گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران، شاہ کے نظام کے برعکس، خلیج کا ’پولیس مین‘ نہیں بنے گی اور نہ ہی انقلاب برآمد کرنے کے کاروبار میں پڑے گی۔ خمینی نے لکھا: ’ہم سعودی عرب، کویت یا عراق کے عوام سے یہ نہیں کہیں گے کہ وہ غیر ملکیوں کو نکال باہر کریں۔‘
ایران میں جاری اِس انتشار نے اس کے بیشتر عرب پڑوسیوں کو خوفزدہ کر دیا تھا، انھیں اندیشہ تھا کہ شاہ کے زوال کے بعد مسلح مارکسسٹ گروہ اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔
سی آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب قدامت پسند رہنماؤں کے لیے یہ ماننا مشکل تھا کہ خمینی یا اُن کے نظریات سے وابستہ کوئی حکومت ایران میں دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن آیت اللہ نے جلد ہی ان تمام مارکسسٹ گروہوں کو ختم کر دیا جو اُن کی جدوجہد میں شریک تھے۔ بائیں بازو کو ختم کرنے سے پہلے خمینی اور اُن کے انقلابی ساتھیوں نے معتدل عناصر کو باہر نکالا، جن میں ابراہیم یزدی بھی شامل تھے، اس بنیاد پر کہ وہ ’امریکہ نواز‘ تھے اور ’حقیقی انقلابی‘ نہیں تھے۔
24 جنوری کو خفیہ اسلامی انقلابی کونسل کے اہم ارکان، جن میں ایک عالم آیت اللہ موسوی اردبیلی بھی شامل تھے (جو بعد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے چیف جسٹس بنے اور جنھوں نے خمینی کے ہزاروں سیاسی مخالفین کو سزائیں دینے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا) امریکی سفیر ولیم سلیوان سے ملے۔
سلیوان نے واشنگٹن کو رپورٹ کیا کہ یہ عالم (آیت اللہ موسوسی) معقول نظر آتے ہیں، وہ زیادہ مضبوط شخصیت کے حامل تھے لیکن ’انتہا پسند نہیں ہیں۔‘
تین روز بعد، 27 جنوری کو خود خمینی نے وائٹ ہاؤس کو براہِ راست اپیل کی۔ اپنے پہلے ذاتی پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’یہ مناسب ہو گا کہ آپ (ایرانی) فوج کو مشورہ دیں کہ وہ (وزیر اعظم) بختیار کی پیروی نہ کرے۔‘
خمینی کے دراصل تین مطالبات تھے: اُن کی واپسی کا راستہ ہموار کیا جائے، آئینی حکومت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جائے اور فوج کو سرِ تسلیم خم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
آیت اللہ نے اس معاملے میں ایک نرم مگر واضح انتباہ بھی شامل کیا کہ اگر ایرانی فوج نے کریک ڈاؤن کیا تو اُن کے حامی اپنا غصہ ایران میں موجود امریکی شہریوں پر نکالیں گے۔
اس کے باوجود انھوں نے پیغام کا اختتام مثبت انداز میں کیا اور بحران کے پرامن حل کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
ابراہیم یزدی کے ذریعے پہنچایا گیا یہ پیغام فرانس میں امریکی سفارتخانے سے واشنگٹن بھیجا گیا اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں تک پہنچا۔
اسی روز ایک ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی وزیر دفاع ہیروالڈ براؤن نے جنرل ہویزر کو خمینی کے خفیہ پیغام اور صدر کارٹر کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا۔ براؤن نے واضح کیا کہ خمینی کی واپسی ایک ’تکنیکی‘ معاملہ ہے جسے ایرانی حکام پر چھوڑ دینا چاہیے۔
ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز کے مطابق امریکی انتظامیہ اس بات پر خوش تھی کہ آیت اللہ نے براہِ راست رابطے کے طریقے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
امریکہ کے مجوزہ جواب میں خمینی کو ایران میں اپنی حکومت قائم کرنے سے خبردار کیا گیا اور اُن پر زور دیا گیا کہ اس بحران کو ایرانی حکام کے ساتھ مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اس مجوزہ جواب کا متن امریکی سفارتخانے (تہران) کو رائے کے لیے بھیجا گیا، لیکن وہاں فائلوں میں ہی رہ گیا اور کبھی خمینی تک فرانس میں نہ پہنچ سکا۔
لیکن اس کی کوئی خاص اہمیت نہ رہی کیونکہ جلد ہی آیت اللہ خمینی اپنی جلاوطنی ختم کرتے ہوئے ایران واپسی کے سفر پر روانہ ہونے والے تھے۔
آپشن سی
یکم فروری کی صبح آیت اللہ خمینی تہران ایئرپورٹ پر پہنچے، جہاں ہزاروں حامیوں نے اُن کا پرجوش استقبال کیاواشنگٹن پہلے ہی خمینی کے مطالبات کے ایک بڑے حصے پر خاموشی سے رضامند ہو چکا تھا۔ امریکی جنرل ہویزر نے ایرانی فوجی قیادت کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی جگہ پر قائم رہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ صرف خمینی کی واپسی بذاتِ خود ’آپشن سی‘، یعنی فوجی بغاوت، کو نافذ کرنے کے لیے کافی وجہ نہیں ہے۔
29 جنوری کو شدید اندرونی دباؤ کے تحت ایرانی وزیرِاعظم شاپور بختیار خمینی کے لیے ایرانی فضائی حدود کھولنے پر مجبور ہو گئے۔ بختیار نے اپنے ’پلان بی‘ پر انحصار کیا: خمینی کو تہران کے قریب مذہبی شہر قم میں ’علما کے ہجوم میں ڈبو دیا جائے۔‘
انھوں نے امریکی سفیر کو بتایا کہ ’اس سے شاید وہ زیادہ معقول ہو جائیں یا کم از کم سیاسی معاملات میں کم مداخلت کریں۔‘ یہ بیان انھوں نے اس وقت دیا جب صرف دو ہفتے بعد وہ خود خمینی کی تحریک کے سیلاب میں بہہ گئے۔
آیت اللہ کی آمد سے دو روز قبل، شاہ ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے خمینی کے نمائندوں کو واضح یقین دہانی کرائی کہ فوج اصولی طور پر سیاسی تبدیلیوں کی مخالفت نہیں کرے گی، حتیٰ کہ ’کابینہ‘ میں تبدیلیوں کی بھی۔
امریکی سفارتخانے کو ایک معتبر ذریعے نے بتایا، جس کی تفصیلات نومبر 2013 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئیں کہ ’آئین میں تبدیلیاں بھی قابلِ قبول ہوں گی، بشرطیکہ وہ آئین اور قانون کے مطابق کی جائیں۔‘
امریکی سفیر ولیم سلیوان اس پیش رفت پر مطمئن تھے۔ انھوں نے واشنگٹن کو رپورٹ کیا کہ ’لگتا ہے کہ ایرانی فوج خمینی کی آمد کو قبول کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے اور تعاون کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔‘
یکم فروری کی صبح آیت اللہ خمینی تہران ایئرپورٹ پر پہنچے، جہاں ہزاروں حامیوں نے اُن کا پرجوش استقبال کیا۔ ایران آمد کے چند ہی دنوں میں انھوں نے ایک متوازی وزیرِاعظم مقرر کر دیا۔
اس وقت تک فوج کو حکومت کی شکل میں تبدیلی پر کوئی بنیادی اعتراض نہ تھا، بشرطیکہ یہ تبدیلی ’قانونی اور تدریجی‘ انداز میں ہو۔ یہ نتیجہ ایک سی آئی اے رپورٹ میں درج ہے جو 2016 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی اور پانچ فروری 1979 کو مرتب ہوئی تھی۔
تاہم فوجی اتحاد بُری طرح کمزور ہو چکا تھا۔ کئی جونیئر افسران اور نئے بھرتی ہونے والے سپاہی خمینی کے ساتھ جا ملے تھے۔
جلد ہی ایرانی فضائیہ میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ اپوزیشن نے خود کو مسلح کر لیا اور انقلابی مارکسسٹ گروہوں کی قیادت میں دارالحکومت بھر میں فوجی چھاؤنیوں اور پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے گئے۔
فوجی قیادت کے پاس مکمل خانہ جنگی جیسی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی حوصلہ نہ تھا۔ وزیر اعظم بختیار کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی قیادت نے ہنگامی اجلاس بلایا اور اپنی غیر جانبداری کا اعلان کر دیا۔ دراصل یہ اُن کے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا۔ یہ پیش رفت سامنے آنے کے بعد شاہ کے وزیرِاعظم اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے۔
جس روز خمینی نے اپنی پہلی فتح حاصل کی، صدر کارٹر واشنگٹن میں موجود نہ تھے۔ وہ ہفتے کے اختتام پر کیمپ ڈیوڈ کے قریب موجود تھے۔ اتوار 11 فروری کی صبح کارٹر اور ان کے وزیرِ خارجہ چرچ میں تھے اور وقتی طور پر اُن سے رابطہ نہیں ہو سکتا تھا۔
ان کی غیر موجودگی میں صدر کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے وائٹ ہاؤس کے ’سچوئیشن روم‘ میں ہنگامی اجلاس طلب کیا۔
انقلاب کی پہلی سالگرہ پر اعلان ہوا کہ ’ایران دنیا بھر میں امریکی سامراج کے خلاف لڑے گا‘کبھی طاقتور سمجھی جانے والی ایرانی مسلح افواج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھیں۔ کارٹر انتظامیہ میں شاہ کے سب سے بڑے حامیوں میں شمار ہونے والے برژنسکی ’آپشن سی‘، یعنی فوجی بغاوت، پر غور کر رہے تھے لیکن انھیں بتایا گیا کہ فوج کی حالت کے پیش نظر یہ ممکن نہیں رہا۔
جلد ہی جنرل ہویزر یورپ سے ایک محفوظ ٹیلی فون لائن کے ذریعے 'سچوئیشن روم' سے منسلک ہو گئے۔ انھیں جلد ہی ان عوامی الزامات کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ تہران اس مقصد سے گئے تھے کہ شاہ کی فوج کو غیر مؤثر بنا کر خمینی کی فتح کا راستہ ہموار کریں۔
یہ الزام انھوں نے سختی سے رد کر دیا۔ اُن کی بیشتر رپورٹس آج بھی واشنگٹن میں خفیہ ہیں۔
تاہم 11 فروری کو جنرل ہویزر کا لہجہ کچھ مختلف تھا۔ انھیں اس بات پر کوئی حیرت نہ ہوئی کہ ایرانی فوج نے خود کو کھیل سے باہر کر لیا ہے۔ فون کال کے ریکارڈ کے مطابق جنرل ہویزر نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ فوج کو سمجھوتے کرنے پر زور دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ براہِ راست (مہدی) بازرگان کے پاس گئے۔‘ بازرگان ایک معتدل اسلام پسند تھے جنھیں خمینی پہلے ہی وزیرِاعظم نامزد کر چکے تھے۔
لیکن فوج کی تمام رعایتیں بھی خمینی کے لیے کافی نہ تھیں۔ 15 فروری کو چار اعلیٰ فوجی جرنیلوں کو ایک ہائی سکول کی چھت پر فوری طور پر پھانسی دے دی گئی۔ یہ تو صرف آغاز تھا، اس کے بعد پھانسیوں کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔
کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ کارٹر انتظامیہ، جو انٹیلیجنس کی ناکامیوں اور اندرونی تقسیم کا شکار تھی، شاہ کے تیز رفتار زوال پر بڑی حد تک خاموش تماشائی رہی۔
تاہم اب یہ واضح ہے کہ بحران کے آخری مراحل میں امریکہ نے دراصل دونوں جانب قدم جما کر یہ امید رکھی تھی کہ شاہ کے زوال کے بعد کوئی نرم لینڈنگ ممکن ہو سکے۔ لیکن کارٹر کی یہ حکمت عملی ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ اصل خطرے کو نظرانداز کیا گیا، خمینی کی خواہشات کو کم سمجھا گیا اور ان کے اقدامات کو غلط انداز میں پرکھا گیا۔
کارٹر کے برعکس، خمینی نے ایک مستقل حکمتِ عملی اپنائی اور اسے نہایت مہارت سے آگے بڑھایا۔ اسلامی جمہوریہ کے قیام کے واضح وژن کے تحت آیت اللہ نے امریکہ کو کھوکھلے وعدوں میں الجھایا، اس کے عزائم کو سمجھا اور کامیابی کی طرف بڑھتے گئے۔
ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، جب خمینی نے ایرانی یرغمال بحران کے دوران امریکی ناظم الامور اور درجنوں دیگر امریکیوں کو قید کر رکھا تھا، انھوں نے اعلان کیا کہ ’امریکہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔‘
اس کے بعد انھوں نے انقلاب کی پہلی سالگرہ ایک بڑے اعلان کے ساتھ منائی کہ ’ایران دنیا بھر میں امریکی سامراج کے خلاف لڑے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنا انقلاب پوری دنیا میں برآمد (پھیلائیں) کریں گے۔‘ اور ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ’یہ ایک اسلامی انقلاب ہے۔‘
برطانیہ کا تجزیہ
ایران میں برطانوی سفیر انتھونی پارسنزایران میں برطانوی سفیر انتھونی پارسنز نے 20 جنوری 1979 کو لکھا کہ انھیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران کے عوام کی اکثریت ’خمینی کے اسلامی جمہوریہ کے نسخے (ورژن)‘ کی خواہاں ہے۔
برطانوی سفیر پارسنز نے وضاحت کی اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایرانی فوج نفسیاتی طور پر ’خمینی کے پیکج‘ کے لیے تیار نہیں تھی۔
پارسنز نے ایک خفیہ پیغام میں کہا کہ جو نومبر 2013 میں ڈی کلاسیفائیڈ ہوا ’ایرانی جنرلرضا پہلوی کے انخلا اور وزیراعظم بختیار کی حمایت پر اس شرط کے ساتھ راضی ہوئے کہ 1906 کا آئین، جس میں بادشاہت شامل ہے، برقرار رہے گا۔‘
برطانوی سفیر کا خیال تھا کہ جتنا جلد خمینی اور فوجی جرنیل آپس میں ملاقات کریں اور فوج اپنی وفاداری کو اُن کے حق میں تبدیل کرے، اتنے ہی زیادہ امکانات ہیں کہ ملک کو بچایا جا سکے۔
پارسنز کا یہ صاف گوئی پر مبنی تجزیہ کارٹر انتظامیہ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔
امریکی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خفیہ پیغام دراصل 27 جنوری 1979 کو نائب صدر والٹر مونڈیل کی میز پر موجود تھا، وہی دن جب خمینی کا پہلا ذاتی پیغام وائٹ ہاؤس پہنچا تھا۔