ملک میں ان جیسی قدآور اور کوئی شخصیت موجود نہیں ہے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ہے تو یہ ان کے بغیر ممکن نہیں۔
ان کی حکومت کا تختہ فوج نے الٹ دیا تھا جس کے بعد ایسے مختلف مقدمات میں انھیں سزاسنائی گئی جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ الزامات درست نہیں تھے۔
اب ان کی قید کو بہت عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن ان کی صحت کے بارے میں کوئی اطلاعات سامنے نہیں آ رہی ہیں۔ ان کے بیٹے اور خاندان کو بھی جیل میں ان تک رسائی حاصل نہیں۔
ان کے وکلا کو بھی ان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی اور ان کا واحد رابطہ صرف جیل کے عملے سے ہی ہوتا ہے۔ اس دوران فوج نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ان کی مقبولیت کو کم کیا جا سکے لیکن آج بھی، طویل قید کے باوجود، ان کی تصاویر عوامی مقامات پر نظر آتی ہیں۔
ان کی رہائی کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں اور فوجی جنرلوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ ملک میں جاری طویل تنازع کو بات چیت سے ختم کیا جائے۔
ملک میں ان جیسی قدآور اور کوئی شخصیت موجود نہیں ہے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ہے تو یہ ان کے بغیر ممکن نہیں۔
ہم بات کر رہے ہیں میانمار کی آنگ سان سوچی کی جن کی حکومت فروری 2021 میں فوجی بغاوت میں ختم ہونے کے بعد سے ہی انھیں ایک فوجی جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان کے بیٹے کم نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ وہ کس حال میں ہیں۔‘ تاہم حکمران جنتا کے ترجمان کے مطابق ان کی صحت بلکل ٹھیک ہے۔
حکومت گرنے کے بعد انھیں مختلف مقدمات میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن عوام کی نظر سے دور ہو جانے کے باوجود ملک پر ان کا سایہ چھایا ہوا ہے۔ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ میانمار کی فوج اور عوام بیچ جاری تنازع ختم کروانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں؟
یہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ 2010 میں میانمار کی فوج کو اقتدار میں 50 سال ہو چکے تھے، ملک میں اپوزیشن اور جمہوریت کو برے طریقے سے کچل دیا گیا تھا۔ فوج نے ایک ایسا الیکشن کروایا جس میں آنگ سان سوچی کی جماعت کو شامل نہیں ہونے دیا گیا اور فوج کی حمایت یافتہ یو ایس ڈی پی کو جتوانے کی کوشش کی گئی۔
اس الیکشن کی زیادہ تر ملکوں نے مذمت کی تھی لیکن اسی سال کے اختتام پر آنگ سان سوچی کو رہا کر دیا گیا تھا۔ 18 ماہ بعد وہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکی تھیں اور 2015 میں ان کی جماعت نے 1960 کے بعد ملک میں پہلا آزادانہ الیکشن جیت لیا تھا۔
بیرونی دنیا کو یہ جمہوری طرز حکومت کی جانب معجزانہ پیش رفت دکھائی دے رہی تھی کہ شاید فوجی جنرل واقعی اصلاحات کے حامی ہیں۔
اس وقت بھی ملک میں انتخابات جاری ہیں جو تین مراحل میں اس ماہ کے آخر میں مکمل ہو جائیں گے لیکن کیا ایک بار پھر ماضی خود کو دہرا سکتا ہے؟ بہت کچھ بدل چکا ہے۔
اس وقت فوجی قیادت اور اقوام محتدہ کے سفیروں کے درمیان کئی سال تک ملاقاتیں ہوتی رہی تھیں جن میں اس بات پر غور کیا جاتا رہا کہ میانمار کی فوجی حکومت کو باقی دنیا سے کیسے دوبارہ جوڑا جائے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب میانمار کی عسکری قیادت جنوب مشرقی ایشیا میں موجود ہمسائیوں کو تیزی سے مغربی دنیا سے تجارت کرتے دیکھ رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کی حکومت پر عائد پابندیاں ختم ہوں۔
اس وقت میانمار کی فوج امریکہ سے بھی تعلقات بہتر کرنے کی حامی تھی کیوں کہ وہ چین پر انحصار کم کرنا چاہتے تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب امریکی صدر اوباما نے ایشیا سے تعلقات کو اہمیت دی۔ اگرچہ میانمار کے سب سے اعلی فوجی جنرل سخت گیر تھے تاہم کچھ سینئر افسران کا ایسا گروہ موجود تھا جو سیاسی مفاہمت چاہتے تھے۔
یہ واضح نہیں کہ آخرکار عسکری قیادت کو کس بات نے رضامند کیا لیکن انھیں 2008 کے آئین پر یقین تھا جس کے تحت مستقبل کی پارلیمان میں افواج کو ایک تہائی سیٹوں کی گارنٹی دی گئی تھی۔ ان کے خیال میں یہ آنگ سان سوچی کو رہا کرنے کے بعد ان کا اثرورسوخ محدود رکھنے کے لیے کافی تھا۔
لیکن فوجی جنرل آنگ سان سوچی کی عوامی شہرت کا درست اندازہ نہیں لگا پائے اور اس بات کا بھی کہ دہائیوں سے جاری فوج کی حکومت کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد کیسے ان سے متنفر ہو چکی تھی۔
2015 کے انتخابات میں یو ایس ڈی پی، جو فوج کی حمایت یافتہ تھی، نے صرف چھ فیصد سیٹیں جیتی تھیں۔ تاہم 2020 میں، جب آنگ سان سوچی کی جماعت کی پانچ سالہ حکومت کی کارکردگی سے بہت سے لوگ مایوس ہو چکے تھے، توقع کی جا رہی تھی کہ یو ایس ڈی پی زیادہ نشستیں جیتے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس بار یہ جماعت صرف پانچ فیصد سیٹیں جیتی۔
آنگ سان سوچی کی حکومت کی کارکردگی سے مایوس لوگوں نے بھی فوج کی سیاسی جماعت پر انھی کو ترجیح دی۔ اس سے اس بات کا امکان پیدا ہوا کہ شاید وہ اتنی اکثریت جیت جائیں کہ آئین میں تبدیلی کر کے فوج کو حاصل سیاسی اثرورسوخ ختم کر پائیں۔
تاہم اگر ایسا ہوتا تو فوج کے کمانڈر من آنگ کی خود ملک کا صدر بننے کی امید ختم ہو جاتی۔ انھوں نے یکم فروری، 2021 کو بغاوت کر دی۔ اسی دن آنگ سان سوچی کی نئی حکومت نے حلف اٹھانا تھا۔
اس بار فوج میں کوئی اصلاح پسند موجود نہیں ہے اور ایسی کسی مفاہمت کی امید بھی نہیں ہے جیسی 2010 میں ہوئی تھی۔
فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر جس طرح تشدد کیا گیا اس کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں نے اسلحہ اٹھا لیا ہے۔ ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ دونوں جانب ہی رویے سخت ہو چکے ہیں۔
آنگ سان سوچی اس سے پہلے پندرہ سال قید میں رہ چکی ہیں جس کا آغاز 1989 میں ہوا تھا۔ لیکن اس وقت وہ اپنے گھر میں ہی نظر بند تھیں۔
اس بار ان کی قید کے حالات مختلف ہیں۔ تاہم ان کی مزاحمت نے میانمار سمیت پوری دنیا میں ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا اور اکثر وہ اپنے گھر کے باہر سے صحافیوں کو انٹرویو دے دیا کرتی تھیں یا خطاب کر سکتی تھیں۔
آج وہ نظر نہیں آ سکتیں۔ ان کا پرامن مزاحمت کا نظریہ مسلح مزاحمت کرنے والوں نے ٹھکرا دیا ہے جن کا ماننا ہے کہ میانمار کی سیاست سے فوج کا کردار ختم کرنے کے لیے لڑنا ضروری ہے۔
آنگ سان سوچی کے دور اقتدار پر ہونے والی تنقید بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
جب انھوں نے بین الاقوامی عدالت میں میانمار کی فوج کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے الزامات کے دفاع کا فیصلہ کیا تو ان کا بین الاقوامی امیج متاثر ہوا۔ بہت سے لوگ اب روہنگیا بحران کے حوالے سے ان کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔
80 سال کی عمر میں یہ واضح نہیں کہ اگر انھیں رہا کر بھی دیا جائے اور وہ کوئی مرکزی کردار ادا کرنے کی خواہش مند بھی ہوں تو وہ کس حد تک اثرانداز ہو سکیں گی۔ لیکن فوجی حکومت کے خلاف ان کی طویل مزاحمت نے ان کا نام ایک جمہوری مستقبل سے جوڑ دیا ہے۔