نوجوان ملکہ الزبتھ دوم کی ایک پرانی تصویر جس میں وہ سر پر اسکارف اور گورسیڈ لباس میں ملبوس ہیں ، یہ ایک حیرت انگیز تصویر کے ساتھ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ برطانوی ثقافت میں کبھی ہیڈ اسکارف کتنے اہتمام سے پہنا جاتا تھا۔ یہ مسلم ثقافت کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے لیکن پہلے مغربی ممالک میں یہ ان کی بھی ثقافت میں اہم تھا۔ اس لیے ایک لحاظ سے حجاب کا خیال برطانیہ کے لئے اجنبی یا نیا نہیں ہے۔ یہ ان کے بھی تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔
اس وقت سوشل میدیا پر ملکہ الزبتھ دوم کی ایک تصویر وائرل ہے جوکہ 1946 کے ایک ویلش کلچرل ایونٹ کی ہے جس میں انہوں نے حجاب اور عبایا پہنا ہوا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ملکہ نے اپنا سر اسکارف سے ڈھانکا۔ ملکہ کی اکثر تصاویر میں اب بھی ان کا سر اسکارف یا ہیٹ سے ڈھکا ہوتا ہے یہ ان کی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے جو کہ اب ناپید ہوتا جارہا ہے۔
ملکہ الزبتھ کی سوشل میڈیا پر وائرل تصویر 1946 میں گورسیڈ کے ویلش لیگویج اینڈ کلچرل ایونٹ کے موقع پر لی گئی جہاں ملکہ کو یہ حجاب اور عبایا پہنایا گیا تھا۔ یہ وہاں کا روایتی لباس تھا جوکہ اس پروگرام میں شرکت کے لئے ملکہ کو پہنایا گیا۔
اس سوسائٹی کی بنیاد 18 ویں صدی عیسوی میں رکھی گئی۔ چنانچہ ملکہ کا یہ لباس اس بات کی خوب اچھی طرح وضاحت کر رہا ہے کہ حجاب یا سر کا ڈھانپنا برطانوی روایات کا ایک اہم حصہ رہا ہے