لوگ بغیر کسی کام کے بلاتے ہیں اور تنگ کرتے ہیں.. روزی کے لیے مجبوراً ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والی لڑکیوں کی کہانی

image

ثانیہ بار بار سر پر اسکارف ٹھیک کرتی اور بس میں بیٹھے مسافروں کے کام نمٹاتی رہتی۔ امجد اور ماہم بھی بس میں سوار تھے۔ تھوڑی دیر میں امجد نے ثانیہ کو بلایا اور ہوچھا "بیٹا آپ دیکھنے میں پڑھی لکھی لگ رہی ہیں"

ثانیہ نے جواب دیا "جی میں نے میٹرک میں اے ون گریڈ سے امتحان پاس کیا ہے مگر پھر پڑھائی چھوڑنی پڑی"

بہن کا جہیز بنانے کے لئے پڑھائی چھوڑ کر نوکری کر لی

امجد کے پوچھنے پر ثانیہ نے بتایا کہ ان کے والد کی کچھ عرصہ پہلے وفات ہوچکی ہے جبکہ کچھ مہینوں میں بڑی بہن کی شادی ہے جس کی وجہ سے ان کا سارا گھر ہی محنت مزدوری کر کے بہن کے لئے جہیز اکھٹا کررہا ہے۔ اسی وجہ سے ثانیہ کو بھی پڑھائی چھوڑ کر ملازمت کرنی پڑی جبکہ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی۔

اس عمر کی بچیاں تو گھر کی لاڈلی ہوتی ہیں

یہ بتاتے ہوئے ثانیہ کی آنکھوں اور لہجے میں بہت کرب تھا۔ امجد سوچ رہا تھا کی اس کی چھوٹی بہن بھی ثانیہ جتنی عمر کی ہے جو پورے گھر کی لاڈلی ہے جب کہ اسی جگہ ثانیہ پر سارے گھر کی ذمہ داری ہے۔

غریب لڑکی جو گھر کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے

پورے سفر میں امجد یہ دیکھتا رہا کہ ایک معصون بچی کو بے بس سمجھ کر مسافر بار بار اسے کام کے لئے بلاتے اور اکثر جھڑک کر بات کرتے جسے وہ بچی کڑوا گھونٹ سمجھ کر پینے پر صرف اس لئے مجبور تھی کیونکہ وہ غریب تھی۔

ہر لڑکی کی جگہ بہن بیٹی کو رکھ کر سوچیں

کاش کے امجد کی طرح ہر شخص بس میں کام کرنے والی لڑکیوں کی جگہ اپنی بہن اور بیٹیوں کو رکھ کر سوچے جنھیں گھر میں پیسوں کی تنگی اور مجبوریاں ملازمت کرنے پر مجبور کردیتی ہیں تو شاید انھیں بھی ان معصوموں پر ترس آجائے۔

ہر لڑکی کسی کی بہن بیٹی ہوتی ہے

صرف بس ہی نہیں بلکہ کام کے لئے نکلنے والی ہر عورت ہی کسی نہ کسی کی بہن، بیٹی یا ماں ہوتی ہے اور اسی عزت کی مستحق ہوتی ہے جو آپ اپنے گھر کی عورتوں کی کرتے ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے لہجہ اور نگاہیں نیچی رکھیں تاکہ اپنے دکھوں اور مسائل سے لڑتی یہ باہمت لڑکیاں جینے کا حوصلہ ہی نہ کھو دیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US