پاکستان میں زیادہ تر چیزوں پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس پر عوام میں غم و غصہ تو ہے ہی ساتھ ہی افسردگی کا عالم بھی چھایا ہوا ہے۔
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ تنخواہ پر بھی ٹیکس لگایا جاتا ہے، لیکن اس ٹیکس کے بارے میں اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب رواں سال کا مالی بجٹ پیش کیا گیا تھا، بجٹ پیش کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سالانہ انکم ٹیکس کی حد 600,000 روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ جس میں ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مشورہ دیا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر بھی 2۔5 فیصد ٹیکس لگایا جائے، یعنی 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کمانے والے افراد پر 2۔5 فیصد ٹیکس لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب 1 لاکھ سے 3 لاکھ ماہانہ کمانے والوں پر 12 اعشاریہ 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
فیڈریل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے ٹیکس ریٹ پر تجویز میں کہنا تھا کہ 36 لاکھ سے 60 لاکھ تک کمانے والوں پر بھی 17۔5 فیصد سے 20 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے۔ جبکہ 60 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ تک کے کمانے والوں پر 22۔5 فیصد سے 25 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان سب میں 50 ہزار سے کم کمانے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے، جبکہ مزدور دار طبقہ بھی اب تک بچا ہوا ہے۔