پاکستان میں پہلے دور میں گھروں میں مختلف تقریبات کیسی ہوتی تھیں؟ کچھ دلچسپ تصاویر اور ویڈیوز جو یقیناً آپ کے گھر میں بھی موجود ہوں گی

image

آپ نے اپنے بڑوں سے اکثر یہ سنا ہوگا کہ ہمارے زمانے میں تو ایسا رواج تھا، یا ہمارے زمانے میں تو ایسا ہوتا تھا۔ ہمارا زمانہ تو ایسا تھا۔۔۔ ویسا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ تو آپ کو بھی یہ اشتیاق ہوتا تو ہوگا کہ کیسا تھا وہ زمانہ؟ ہم نے اپنی نانیوں دادیوں سے سنا اور ان کے پاس تصویریں دیکھیں ، یقیناً آپ کے گھر میں بھی ایسی کئی تصاویر موجود ہوں گی جس میں خاںدان بھر جمع ہوگا۔ اور اس ایک تصویر سے آپ کو اپنے پورے خاندان کا تعارف مل جاتا ہوگا، کہ فلاں تمہاری تائی کی اماں تو فلاں آپ کے ماموں کے سسر تو فلاں دور کے رشتہ دار وغیرہ ۔۔ چھوٹی سی بھی کوئی تقریب ہوتی تھی تو سار امحلہ تو جمع ہوتا ہی تھا، دور دور سے رشتہ دار بھی پہنچ جاتے تھے۔ اب جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے وہیں رشتے ناتوں سے بھی دور کردیا ہے۔ یہاں ہم آپ کو پرانے زمانے کی کچھ تقریبات کا حال بتا رہے ہیں۔

شادی کی تقریبات

شادی کی تقریب میں شادی والے دن تو سارا خاندان موجود ہی ہوتا تھا لیکن اس سے ایک ہفتے پہلے سے دولہا یا دلہن کے گھر سارے رشتہ دار موجود ہوتے تھے، مل بانٹ کر سارے کام کر لیے جاتے تھے ، کوئی کھانا پکا رہا ہے تو کوئی جوڑے پیک کر رہا ہے، کوئی صفائیاں کر رہا ہے تو کوئی دلہن کے ابٹن مل رہا ہے، کوئی رشتہ داروں کی فہرست تیار کر رہا ہے، اور لڑکے لڑکیاں گانوں کی تیاری کر رہے ہوتے تھے، ایک سے کپڑے بنائے جاتے تھے، ایک سے دوپٹے رنگوائے جاتے تھے، گوٹا کرن ان پر لگائی جاتی تھی۔ کسی بھی ماموں چاچا کو مہمانوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی تھی، کسی کو سسرال والوں کی خاطر مدارات میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دینے کی ذمہ داری دی جاتی تھی۔ کسی کو لفافے سنبھالنے کا ذمہ دیا جاتا تھا۔ کوئی چھوہارے بانٹنے کا ذمہ دار ہوتا کوئی ہار پھول کی ذمہ داری لے لیتا۔ غرض سارے کام ہنسی خوشی سب کے درمیان بٹ جاتے تھے۔ اورایک سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ سارے خاندان کے گروپ فوٹو بنوانا کہ کوئی رہ نہ جائے۔ کیونکہ خاندان والوں کے سب سے زیادہ موڈ اسی وقت خراب ہوتے ہیں جب ان کی تصویر نہ کھنچے یا ان کو تصویر کے لئے نہ بلایا جائے۔ آرسی مصحف،دودھ پلائی، جوتا چھپائی، ساری رسومات ان تقریبات کی جان تھیں۔ یہ تو تھیں شادی کی تقریبات کی کچھ جھلک۔ اب کچھ اور تقریبات پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں۔

سالگرہ کی تقریبات

آج کل تو اگرکوئی صاحبِ حیثیت ہے تو وہ ایونٹ پلانرکو تقریب کا مقام بتادیتے ہیں، دن، وقت بتادیا جاتا ہے، ایک اچھے خاصے اماؤنٹ کے بدلے آپ کی تقریب کی اچھی سی ڈیکوریشن کردی جاتی ہے، کپڑوں اور رنگوں کا تھیم بتادیا جاتا ہے، سب اسی حساب سے تیار ہوکرآتے ہیں، تقریب میں شریک ہوئے، تحفے تحائف کا تبادلہ ہوا اور اللہ اللہ خیر صلا۔

پہلے تو بچوں کی سالگرہ بھی بڑے دھوم دھام اور اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ گھر کی صفائیاں ہوتی تھیں ، نئے صاف ستھرے چادریں، کشن، جھالروالے میزپوش نکالے جاتے تھے، گھر میں ہی کئی طرح کے پکوان بنائے جاتے تھے ،خاص طور پر سالگرہوں میں شام کی چائے کا اہتمام ہوتا تھا، چھولے، دہی بڑے، کباب، نمکواوراسی طرح کی متفرق چیزیں بنائی جاتی تھیں، غباروں اور رنگین کاغذی پٹیوں سے گھر کو سجایا جاتا تھا، اور سارے رشتہ داروں کو بلایا جاتا تھا۔ آخرمیں سارے غبارے پھوڑے جاتے تھے، رنگین ٹوپیاں لگائی جاتی تھیں، اور یوں یہ تقریب بھی ہنسی خوشی اپنے اختتام کو پہنچتی تھی۔

آمین (ختمِ قرآن) کی تقریبات

پہلے ختمِ قرآن کی تقریبات بھی بڑے اہتمام اور عقیدت سے منائی جاتی تھیں۔ بچوں کا ختمِ قرآن بہت بڑی سعادت سمجھی جاتی تھی۔ قرآن پڑھانے والے مولوی صاحب یا استانی کو الگ سے جوڑا دیا جاتا تھا، ان کے لئے ہار پھول مٹھائی آتی تھی، ان کوعلیحدہ لفافہ بھی دیا جاتا تھا کہ انہوں نے بچے کا قرآن ختم کروایا، صاحبِ حیثیت لوگ استانی جی کے لئے سونے کی انگوٹھی یا بالیاں وغیرہ بھی بنواتے تھے۔ بچے کو بھی خوب اچھا نیا جوڑا پہنایا جاتا یے، جو رشتے دار آتے وہ ہار پھول لے کر آتے اور بچے کے لئے لفافہ یا جوڑا لے کر آتے تھے، سارا خاندان اس سعادت کی خوشی مناتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ رواج ختم ہوگیا۔ اب تو بچہ قرآن ختم کرے تو مولوی صاحب یا استانی جی کو ان کے گھر یا مدرسے یا مسجد میں ہی لفافہ یا مٹھائی پہنچا دی جاتی ہے۔ اور بس ایک رسم پوری ہوگئی۔

کیا آپ بھی ان تقریبات کو یاد کرتے ہیں یا ان کی کمی محسوس کرتے ہیں ؟ کیا آپ کی یادوں کے البم میں ایسی کچھ تقریبات موجود ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US