زندگی میں ہر انسان کسی نا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے، اور اس کی زندگی میں حائل مشکلات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، لیکن جب دوسرا اس کی مشکلات کا سنتا ہے تو ضرور یہ کہتا ہے کہ اللہ شکر ہے کہ میری مشکل آسان ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو 4 ایسی بہنوں کے بارے میں بتائیں گے جو کہ گھر میں دو سال سے قید تھیں۔
سماجی کارکن انصار برنی اس حوالے سے کافی مشہور ہیں کہ وہ پاکستان بھر میں خواتین اور بچوں کے حقوق اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے متحرک رہتے ہیں۔ ایک ایسا ہی کیس انہوں نے حل کیا جب انہیں اطلاع ملی کہ مبینہ ٹاؤن کے ایک گھر میں 3 بہنیں 2 سال سے قید تھیں۔
انصار برنی بتاتے ہیں کہ چند دن قبل تین بہنوں کے بھائی اور اس کی شادی شدہ بہن نے ہم سے رابطہ کیا اور انہی کی تین ایسی بہنوں کی مدد کرنے کی اپیل کی جو کہ دو سال سے گھر میں قید تھیں۔
دراصل یہ تینوں بہنوں کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا، البتہ چوتھی بہن جن کی شادی ہو چکی ہے، وہ بالکل ٹھیک ہیں اور انہی کے ساتھ رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چوتھی بہن بھی تینوں بہنوں کی قید میں تھی، بہر حال انصار برنی کی ٹیم نے پولیس کے ہمراہ گھر کو کھولا اور پھر ان تین بہنوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
انصار برنی بتاتے ہیں کہ تینوں بہنیں بھائی سے کھانے پینے کی چیزیں منگواتی تھیں، مگر پھر بھائی پر بھی شک ہو گیا کہ یہ ہمارا بُرا چاہتا ہے، اس طرح بھائی سے بھی چیزیں لینا بند کر دیں، ساتھ ہی محلے والوں اور پڑوسیوں کی مدد سے بھی انکار کرتیں۔
تینوں بہنوں کو شک تھا کہ کہیں ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے اور جادو تونے کی غرض سے ہمیں کھانا دیا جا رہا ہے، انصار برنی بتاتے ہیں کہ اگر ہم ان خواتین کی مدد نہیں کرتے تو ان کے پاس کھانے پینے کی بھی اشیاء ختم ہو گئی تھیں، یعنی کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں تھا۔
انصار برنی کی جانب سے نہ صرف ان خواتین کی مدد کی جا رہی ہے، بلکہ ان کے بھائی اور شادی شدہ بہن سے بھی تعاون کیا جا رہا ہے۔