جب بھی بیمار ہو کر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ مختلف دواؤں کے ساتھ اکثر کیپسول بھی دے دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کیپسول کھانا نسبتاً آسان لگتا ہے کیونکہ چکنی سطح ہونے کی وجہ سے وہ حلق سے آسانی سے نیچے اتر جاتی ہے اور کڑوی بھی نہیں ہوتی لیکن اکثر لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر کیپسول دو رنگوں سے کیوں بنائی جاتی ہے؟ تو چلیے آج آپ کو اس سوال کا جواب دے ہی دیتے ہیں
کیپسول کے دو رنگ کا کیا مطلب ہے؟
دراصل کیپسول کے اندر دوا پاؤڈر کی صورت میں بھری جاتی ہے۔ کیپسول کے ایک حصے میں دوا بھر کے دوسرے حصے سے بند کیا جاتا ہے۔ کیپسول کا دوا رکھنے والا حصی کنٹینر کہلایا جاتا ہے اور دوسرا حصہ کور کہلاتا ہے۔ مختلف رنگ اس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ کیپسول بنانے والے کنفیوژن کا شکار نہ ہوں اور کنٹینر والے حصے میں ہی دوا بھریں۔
دوائیوں کے رنگ
کیپسول اور دواؤں کا رنگ مریضوں کی بیماری کو مدنظر رکھ کر منتخب کیا جاتا ہے ۔ رنگوں کا انسانی نسفیات پر گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے دواؤں کا رنگ منتخب کرتے ہوئے ایسے رنگوں کو فوقیت دی جاتی ہے جو مریض کو پرسکون یا خوشی کا احساس دلانے میں مدد کریں۔
مختلف رنگ اور ان کا مریض پر اثر
نیلے رنگ کو طب کے شعبے میں خاص مقام حاصل ہے کیوں کہ یہ صفائی، معلومات، طاقت اور سکون کا اثر رکھتا ہے۔ اسے دوائیوں کے علاوہ اسپتال کے عملے اور پردوں وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سرخ، پیلا، نارجی رنگ پر اعتماد، انرجیٹک جیسا تاثر پیدا کرتا ہے۔ جبکہ سفید رنگ کی دواؤں کا ایک مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں شامل ہونے والے تمام اجزاء سفید رنگ کے ہیں۔