نظرِ بد سے حفاظت اور روحانیت تک: سرمے کی ہزاروں سال پرانی روایت میں چھپے راز

زہرہ ہنکر ایک روز سرمے سے متعلق بحث سننے کے بعد اس موضوع میں ایسے مگن ہو گئیں کہ پھر انھوں نے اس پر ایک کتاب ہی تحریر کر دی۔ ان کی یہ دلچسپی انھیں دنیا کے مختلف ممالک میں لے گئی اور پھر انھوں نے اس سے متعلق پائے جانے والے خیالات اور نظریات کو سن کر حقائق جمع کیے۔
A woman with black curly hair, wearing a black tank top and gold hoop earrings.
Zahra Hankir
صحافی زہرہ ہِنکر نے دنیا بھر کا سفر کیا تاکہ ای لائنر کی تاریخ دریافت کر سکیں

سرمہ کی روایت کب شروع ہوئی اور اب یہ کہاں کہاں زندہ ہے۔۔۔ اس پر بھی بات کرتے ہیں مگر پاکستان اور انڈیا میں تو یہ غزل کا موضوع بن کر کئی مشہور گانوں میں محفوظ ہو گئی جن میں محبوب کی دل کھول کر تعریف کی گئی ہے۔

اب شو کمار بٹالوی کے گیت پر ہی نظر دوڑا لیں ’اِنہاں اکھیاں چ پاواں کیویں کجلا وے، اکھیاں چ توں وسدا‘۔

حسرتؔ جے پوری کی غزل جو بالی وڈ میں پہنچ کر مقبول گیت کی صورت اختیار کر گئی ’آنکھوں میں کاجل ہے کاجل میں میرا دل ہے‘۔

اب تھوڑا کجلا، کاجل یا سرمے کی تاریخ پر بات کرتے ہیں۔

زہرہ ہنکر ایک روز سرمے سے متعلق بحث سننے کے بعد اس موضوع میں ایسے مگن ہو گئیں کہ پھر انھوں نے اس پر ایک کتاب ہی تحریر کر دی۔ زہرہ کی یہ دلچسپی انھیں دنیا کے مختلف ممالک میں لے گئی اور پھر انھوں نے اس سے متعلق پائے جانے والے خیالات اور نظریات کو سن کر حقائق جمع کیے۔

زہرہ ہنکر ایک صحافی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی گلوبل ویمن کو بتایا کہ’جب میں اپنے گھر سے بہت دور بروکلین کے فلیٹ میں سرمہ لگاتی ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اب اپنی ماں، دادی اور مشرقِ وسطیٰ کی خواتین جیسی بن گئی ہوں۔‘

گذشتہ دسمبر میں اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے عربی سرمہ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔

سرمہ ایک سیاہ رنگ دار مادہ ہے اور روایتی طور پر خواتین و مرد دونوں آنکھوں کی تازگی اور خوبصورتی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی قدیم تہذیبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

The image shows a bedouin woman dressed in elaborate attire, richly adorned with jewellry and textiles. The clothing is a vibrant red fabric with intricate gold patterns
Getty Images
عرب دنیا میں سرمہ ایک جانی پہچانی شے ہے

عربی دنیا میں اسے سرمہ کہا جاتا ہے، مگر دنیا کے مختلف خطوں میں اس کے الگ نام ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کاجل، نائیجیریا میں تیرو اور ایران میں سورمہ پکارا جاتا ہے۔ روایتی طور پر یہ اینٹیمونی، سیسہ یا دیگر معدنیات سے تیار کیا جاتا تھا جبکہ جدید سرمہ کی مصنوعات میں مختلف اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔

یہ سنگھار برطانوی-لبنانی مصنفہ زہرہ ہنکر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جن کا خاندان 1975 کی خانہ جنگی کے دوران لبنان سے برطانیہ منتقل ہوا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب ہم گھر سے دور رہتے تھے تو میں اپنی ماں کو میک اپ کرتے ہوئے دیکھا کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ کسی گہری چیز سے جڑ رہی ہیں۔‘

زہرہ ہنکر کہتی ہیں کہ آج بھی جب وہ سرمہ استعمال کرتی ہیں تو انھیں وہی تعلق محسوس ہوتا ہے۔

A women's hand holding an old make up tool for Kohl eyeliner, and an old storage cup.
Getty Images
سرمہ رکھنے کے برتن کو عام طور پر مَخَلہ کہا جاتا ہے، جبکہ آنکھوں میں سرمہ لگانے کے لیے جو باریک ڈنڈی یا آلہ استعمال ہوتا ہے اسے مِرواد کہا جاتا ہے

زہرہ ہنکر کتاب ’آئی لائنر: اے کلچرل ہسٹری‘ کی مصنفہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یونیسکو کی جانب سے سرمہ کو تسلیم کرنا اسے ’کسی فیشن یا مصنوعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی روایت کو اجاگر کرتا جسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’اس طرح کی شناخت یا اعزاز سرمہ بنانے اور پہننے کے علم، روایات اور ہنر کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، تاکہ یہ نسل در نسل منتقل ہوں، دستاویزی شکل میں محفوظ رہیں اور ان کی قدر کی جائے، نہ کہ عالمی تجارتی بیوٹی کلچر میں مدھم یا گم ہو جائیں۔‘

زہرہ ہنکر بتاتی ہیں کہ ایک بار جب وہ اپنے ایرانی دوست کے ساتھ کھانے پر بیٹھی تھیں اور سرمہ کا باکس (مَخَلہ) نکالا تو اس کے تاریخی اور علامتی پہلو پر گفتگو شروع ہو گئی۔ یہی مکالمہ ان کے لیے تحریک بنا کہ وہ سرمہ اور آئی لائنر کی تاریخ پر مزید تحقیق کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سمجھنا کہ سرمہ خواتین، اقلیتی خواتین اور جلاوطنی میں رہنے والی خواتین کے لیے کچھ نہایت گہرا معنی رکھتا ہے، میرے لیے بہت اہم تھا۔‘

سرمہ اور خوبصورتی کا تعلق

A head sculpture of Egyptian Queen Nefertiti on a black background. Showing her wearing black eyeliner.
Getty Images
مصر کی ملکہ نفرتیتی کا مجسمہ کو 20ویں صدی کے آغاز میں دنیا کے سامنے لایا گیا

قدیم تہذیبوں جیسے مصر، میسوپوٹیمیا اور فارس میں سرمہ کی جڑیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ زہرہ ہنکر کے مطابق مصرِ قدیم میں یہ ہر شخص استعمال کرتا تھا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اسے صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ روحانیت کے اظہار اور آنکھوں کو بیماری سے بچانے کے لیے بھی لگاتے تھے۔‘

قدیم مصری اپنے ساتھ سرمہ کے برتن قبر میں دفن کرتے تاکہ اسے آخرت میں بھی ساتھ لے جا سکیں، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

زہرہ ہنکر مزید بتاتی ہیں کہ مصر کی ملکہ نفرتیتی شاید سرمے کے استعمال والی پہلی ’انفلوئنسر‘ تھیں۔ سنہ 1912 میں جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ لوڈوِگ بورخاردت کی سربراہی میں دریافت ہونے والے نفرتیتیکے مشہور مجسمے میں انھوں نے واضح طور پر سرمہ استعمال کر رکھا ہے۔

زہرہ ہنکر اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’ان کی بھنویں محراب دار، نہایت نفاست سے تراشی ہوئی اور دھوئیں جیسے سیاہ رنگ سے بھری ہوئی ہیں، غالباً اس کی وجہ سرمے کا استعمال ہے۔ رنگوں کا تضاد واضح نظر آتا ہے مگر ملکہ کا مجموعی انداز بے عیب دکھائی دیتا ہے۔‘

جرمنی میں خواتین نے اس ’غیر معمولی‘ انداز کو اپنانے کی کوشش کی اور سرمہ کو خوبصورتی، وقار اور طاقت کی علامت سمجھا۔

زہرہ ہنکر کہتی ہیں کہ نیفرتیتی کا میک اپ آج جدید فیشن میں بھی راج کر رہا ہے۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر سینکڑوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ ان ویڈیوز میں ملکہ کے چہرے کو نہایت باریکی سے نقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’یہ بلوغت میں داخلے کی رسم بھی ہے اور غیر شادی شدہ ہونے کی علامت بھی‘

A picture of a Japanese Geisha with white make-up and black and red eyeliner. She is wearing a headdress with flowers and ornaments.
Getty Images
آئی لائنر کی تاریخ صرف سرمہ تک محدود نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سنگھار مختلف شکلوں اور انداز میں دنیا بھر میں اپنایا گیا ہے

زہرہ ہنکر کی تحقیق انھیں دنیا کے مختلف خطوں تک لے گئی۔ کیرالہ سے لے کر چاڈ، میکسیکو، اردن اور جاپان تک ان کے سفر سے یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ سرمہ مختلف انداز اور معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا ایک مشترکہ پہلو تحفظ حاصل کرنا ہے۔ اس کے استعمال میں سورج کی تپش اور نظرِ بد سے بچاؤ، مذہبی رسومات اور طبی مقاصد شامل رہے ہیں۔

جاپان میں زہرہ ہنکر نے ایک روایتی جاپانی فنکار گیشا سے ملاقات کی جو موسیقی، رقص اور گفتگو میں مہارت رکھتی ہیں۔ وہ سرخ سرمہ لگاتی ہیں جو تحفظ کی علامت ہے اور آج بھی وہاں لوگ اس روایت پر کاربند ہے۔

میکسیکو میں ’امریکی چولا کلچر‘ میں سرمہ کو شناخت، مزاحمت اور ثقافتی فخر کی طاقتور علامت سمجھا جاتا ہے۔ زہرہ ہنکر کہتی ہیں کہ بالکل مصرِ قدیم کی طرح آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں سرمہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

چاڈ میں انھوں نے وڈابی قبیلے کے ساتھ وقت گزارا، جو خانہ بدوش فلانی گروہ ہے اور اپنے سالانہ حسن کے مقابلے کے لیے مشہور ہے، جہاں خواتین مردوں کے حسن کا فیصلہ کرتی ہیں۔

اردن کے پیترا میں بدو مرد سرمہ لگاتے ہیں تاکہ سورج سے بچ سکیں، اپنی مذہبی شناخت کو ظاہر کریں اور ساتھ ہی اپنی خوبصورتی کو نمایاں کریں۔ زہرہ ہنکر مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ بلوغت میں داخلے کی رسم بھی ہے اور غیر شادی شدہ ہونے کی علامت بھی۔‘

A man applying black eyeliner wearing a brown shirt and a traditional scarf or Arabic man's headdress tied around his head which is red and white.
Getty Image
بہت سے بدوی مرد خاص وجوہات کی بنا پر سرمے کا استعمال کرتے ہیں

سرمہ بچوں کی آنکھوں میں بھی لگایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ انھیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دراصل عربی بولنے والے ممالک میں لوگوں کو اکثر ایسے نام دیے جاتے ہیں جیسے کاجل یا کہیلین، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سُرمہ ثقافتی طور پر کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔

زہرہ ہنکر کہتی ہیں کہ یونیسکو کی جانب سے سرمہ کو تسلیم کرنا ’بہت دیر سے کیا گیا قدم‘ ہے اور ’ان کمیونٹیز کو اس کا سہرا جاتا ہے جو گلوبل ساؤتھ میں، خاص طور پر عرب دنیا میں اکثر جلاوطنی، نوآبادیاتی دور میں ہونے والی تبدیلیوں اور ثقافتی چیلنجز کے باوجود اس روایت کو صدیوں تک محفوظ اور قائم رکھے ہوئے ہیں۔‘

لیکن مصنفہ زہرہ ہنکر کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سُرمہ لگانے کا عمل انھیں اپنی ثقافت سے جوڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ تقریباً ایک روحانی عمل ہے۔ جب آپ اسے لگاتے ہیں تو یہ ایک رسوماتی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ آپ صرف اپنی آنکھوں میں لکیر کھینچنے یا پلکوں پر رنگ بھرنے کا عمل نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہری چیز سے جڑ رہے ہوتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US