عرب میں خواتین عید پر اپنی رنگت نکھارنے کے لئے کیا استعمال کرتی ہیں، جانیے عربی خواتین کی خوبصورتی کا راز

image

سجنا اور سنورنا تو ہر عورت کا پیدائشی حق ہے اور اس حق کو استعمال کرنا بھی وہ بہت اچھی طرح جانتی ہیں ، اور پھر موقع ہو عید کا تو اس پر تو انہیں سنورنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا ۔ یہاں ہم عید پر اپنی رنگت کو گلو دینے کے لئے عرب خواتین کا ایسا سیکریٹ آپ کے سامنے بتانے جارہے ہیں جو اس سے پہلے آپ کو معلوم نہیں ہو گا۔ عید الاضحٰی پر کیونکہ گھر کے اور کچن کے کام بہت ہوتے ہیں تو ایسے میں خواتین کو پارلر جا کرنہ فیشیل کا موقع ملتا ہے اور نہ بلیچ کروانے کا موقع ملتا ہے، ایسے میں اپنے چہرے اور رنگت کے نکھار کے لئے خواتین کیا کریں کہ یہ پتہ نہ چلے کہ آپ پارلر نہیں گئیں اور آپ کا چہرہ فریش اور خوبصورت بھی نظرآئے۔ تو ایسے میں ہم آپ کے لئے گھر میں ہی رنگت نکھارنے کی بہترین ٹپ لے کر آئے ہیں جس کے لئے آپ کو باہر سے کوئی چیز لانے کی ضرورت نہیں سب چیزیں گھر میں ہی مل جائیں گی۔

کھیرا (چھلکا اتار لیں) 1 عدد

لیموں 1عدد

دہی 2 کھانے کے چمچ

عرقِ گلاب 2 کھانے کے چمچ

کارن فلاور 1 کھانے کا چمچ

بچے ہوئے بیوٹی سوپ کا ٹکڑا

کھیرے کو چھیل کر اس کو کدوکش کر لیں اور پھر اسے ایک چھلنی کی مدد سے چھان لیں اس کا جو جوس نکلے گا، وہ آپ لے لیں۔

اسے ایک پین میں ڈال کر چولہے پر رکھیں ، میڈیم آنچ پر رکھ کر اس میں دہی ، لیموں کا رس ، عرقِ گلاب اور پھر کارن فلاو ر ڈال کر 2 سے 3 منٹ پکائیں۔

یہ آپ کا لوشن کی شکل کا مکسچر تیار ہے اس کو چولہے سے اتار لیں اب اس میں اپنے بچے ہوئے بیوٹی سوپ کا کوئی ٹکڑا لے کر کدو کش کر لیں اور اس کے اندر ملا دیں اور خوب اچھی طرح یک جان کر لیں۔

اب اسے ہاتھوں اور پیروں پر لگائیں ، چہرے پر لگانے سے پہلے اس کا پیچ ٹیسٹ کر لیں کہیں ایسا نہ ہو اس میں شامل اجزاء میں سے کوئی آپ کی جلد کو سوٹ نہ کرے اور الرجی یا سرخی کا باعث بن جائے۔

اس ہوم میڈ بلیچ سے آ پ کو بالکل وہی رزلٹ ملے گا جو کہ پارلر کے بلیچ سے ملتا ہے ۔ اسے بنائیں اور عید پر اپنے ہاتھوں اور پیروں کی رنگت کو نیا نکھار دیں۔ ہاتھوں اور پیروں کو بلیچ کرنے کے بعد ان پر کوئی اچھا موئسچرائزنگ لوشن یا کریم لگا لیں تاکہ اسکن ڈرائی نہ ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US