ویسے تو خانہ کعبہ ہر مسلمان کے لیے اہمیت رکھتا ہے، یہاں آنے اور اسے مقدس مقام کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ہر ایک کو دل کرتا ہے۔ لیکن خانہ کعبہ کے بارے میں بہت سی معلومات آج بھی صارفین کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
دور حاضر میں خانہ کعبہ جس طرح دکھائی دیتا ہے، ماضی میں کچھ مختلف تھا، یعنی وقت کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کے ارد گرد بھی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔
جیسے کہ مسجد الحرام کی تزئین و آرائش کا کام ہو پھر دیوہیکل کرینز کی مدد سے مسجد کی تعمیر کا عمل، لیکن اس سب میں خانہ کعبہ جوں کا توں ہے۔
خانہ کعبہ کے اندرونی حصے میں عام مسلمان نہیں جا سکتا ہے، اگرچہ خواہش تو ہر مسلمان کی ہوتی ہے، مگر اجازت نہی ہے۔ بیت اللہ میں داخلے کا صرف ایک ہی دروازہ موجود ہے جسے ملتزم یا باب کعبہ کہا جاتا ہے، جو کہ حرم کے فرش سے 2 اعشاریہ 13 فٹ اوپر ہے۔
کعبے کی شمال مشرقی دیوار پر موجود اس دروازے کی تنصیب اور تزئین و آرائش پر 14 ملین سعودی ریال یعنی تقریبا 37 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے استعمال ہوئے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں خانہ کعبہ کا دروازہ ہر ماہ دو سے تین مرتبہ کھولا جاتا تھا مگر اب پورے سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ ایک یکم شعبان اور دوسرا یکم ذوالحجہ پر خانہ کعبہ کو غسل دینے کے لیے۔ ایسا اس لیے کیا ہے کہ تاکہ عمرہ زائرین اور حجاج کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد تکالیف اور پریشانی سے بچا جا سکے۔
گیٹ وے آف الحرمین الشریفین ویب سائٹ کی جانب سے مراکش کے معروف مصنف ابو سالم العیاشی کا قول نقل کیا ہے جو کہ 1090 ہجری میں رحلت فرما گئے تھے۔ ان کے مطابق خانہ کعبہ کا دروازہ سال میں 7 مرتبہ کھولا جاتا تھا، قربانی کے دن، عاشورا کے دن، آقائے دو جہاں ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن، شعبان، رمضان اور زی القعدہ کے موقع پر کھولا جاتا تھا۔ مزید برآں قربانی کے دن کے علاوہ بھی ایک روز صبح سے لے کر زوال تک کے وقت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دوران کوئی بھی شخص کعبے میں داخل ہوسکتا ہے-
لائف ان سعودی عربیہ نامی ویب سائٹ کے مطابق 64 ہجری میں عبداللہ بن زبیر کی جانب سے دوسرا دروازہ تعمیر کیا گیا تھا، تاکہ عمرہ زائرین اور حجاج ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے باہر نکل سکیں۔
لیکن 75 ہجری میں حجاج بن یوسف نے ایک بار پھر پرانے طرز عمل کے مطابق ایک ہی دروازے کی روایت برقرار رکھی۔ 2018 میں دوران حج ایک طاقتور طوفان نےمکے کو اپنی گرقت میں لیا ہوا تھا۔ تیز ہواؤں میں جب خانہ کعبہ پر موجود غلاف ہٹا تو خانہ کعبہ کا ایک اوردروازہ بھی دکھائی دیا۔ یہ چھپا ہوا دروازہ اب بند ہے لیکن اس طوفان نے یہ دوسرا دروازہ بھی لوگوں کو دکھا دیا۔