پاکستان کے ایسے کئی علمائے کرام ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، اپنے خوش اخلاق، انسانیت پسندانہ رویے کی وجہ سے ان علمائے کرام کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک مشہور مذہبی رہنما حاجی عبدالوہاب سے متعلق آپ کو بتائیں گے۔
1922 میں بھارتی شہردلی کے قریب پیدا ہونے والے حاجی عبدالوہاب کے گھرانے نے پاکستان بننے کے بعد یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد یہاں آ کر مذہبی طور پر فعال کردار ادا کرنے لگے۔
امیر تبلیغی جماعت کے عہدے پر رہنے والے حاجی عبدالوہاب 2018 میں طویل علالت کے بعد رائیونڈ میں انتقال کر گئے تھے، تاہم ان سے متعلق مولوی فہیم صاحب نے ایک بیان فرمایا تھا، جسے سُن کر بہت سے چاہنے والے اشک بار ہو گئے تھے۔
مولوی فہیم صاحب نے اپنے ایک بیان میں حاجی عبدالوہاب کے واقعے سے متعلق بتایا تھا، حاجی صاحب کو بڑے بزرگ موت کا فرشتہ کہتے تھے، لیکن ایک مرتبہ موت کا فرشتہ حاجی صاحب کو واپس چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
جب وہ اسپتال میں تھے تو ڈاکٹرز نے خیر خواہوں سے کہا کہ حاجی صاحب تو دنیا سے رخصت ہو گئے، ڈاکٹرز کو اس حد تک یقین تھا کہ انہوں نے حاجی صاحب کے انگوٹھے بھی باندھ دیے، پٹیاں بھی باندھ دیں، یہاں تک کے آنکھیں بھی بند کر دی تھی۔
حاجی صاحب کو لے جانے کا بھی انتظام ہو گیا تھا، مولوی فہیم بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ ان کے انتقال کے 35 سال پرانا ہے، ڈاکٹرز کو تقریبا 3 سے 4 منٹ ہوئے تھے جب وہ حاجی صاحب کے خاندان سے خبر شئیر کرنے آئے، لیکن جب ڈاکٹرز واپس اندر گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے حاجی صاحب کی آنکھیں کھلی ہیں جسے وہ خود بند کر کے گئے تھے۔
حاجی صاحب کو اس طرح دیکھ کر خود ڈاکٹرز بھی حیران تھے لیکن جب حاجی صاحب نے ڈاکٹرز سے کہا یہ سب کیا باندھا ہوا ہے مجھے، کھولو ان سب کو۔ تو ڈاکٹرز کی بھی جان میں جان آئی، حاجی صاحب نے بتایا کہ مجھے موت کے فرشتے لے گئے تھے، میں ان کا چہرا تو نہیں دیکھ سکا البتہ وہ مجھے جنت البقیع لے گئے۔
موت کے فرشتوں سے ان کا مکالمہ بھی ہوا حاجی صاحب نے پوچھا کہ تم مجھے کہا لے آؤ ہو، فرشتوں سے ہونے والی یہ گفتگو مولوی فہیم صاحب نے اپنے بیان فرمائی۔