جب سے حضرت ابراہیم السلام علیہ السلام نے مکہ کی بے آب وگیاہ اور چٹیل وادی میں قدم رکھا تب سے آج تک بلکہ تا قیامت یہ ودای انسانوں کے لیے کعبہ اللہ اور مسلمانوں کے لیے قبلہ کا درجہ اختیار کر گئی۔ خانہ کعبہ کو زمانہ جاہلیت میں بھی غلاف سے ڈھانکا گیا اور اس غلاف کو کسوہ کہا جاتا ہے۔ اس کو تبدیل کرنے کی بھی ایک معروف تاریخ ہے۔
پہلی بارغلافِ کعبہ کس نے چڑھایا؟
روایات میں آیا ہے کہ ہجرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے220برس قبل یمن کے بادشاہ تبع ابوکرب اسعد نے خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ شریف پر غلاف چڑھا رہا ہے یہ خواب اس نے کئی بار دیکھا ایک جنگ سے واپسی پر وہ مکہ مکرمہ سے گزرا تو اسے اپنا خواب یاد آیا۔ چنانچہ اس نے یمن سے قیمتی کپڑے کا غلاف بنوا کر خانہ کعبہ پر چڑھایا اسعد نے پہلی بارکعبے کے دروازے کےلئے ایک تالہ اور چابی بنوائی۔ شاہ اسعد کے بعد یمن کے ہر بادشاہ نے یہ سعادت حاصل کی اور ہر بادشاہ نے کعبہ شریف کےلئے غلاف بنوایا۔ مورخین کی نظر میں یہ واقعہ اس لئے زیادہ درست ہے کہ ایک بار کچھ لوگ اسعد نامی بادشاہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اسعد حمیری کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا۔ یہ غلاف سرخ دھاری دار یمنی کپڑے سے بنایا گیا تھا۔ قریش مکہ ہر سال دس محرم کو کعبے کا غلاف بدلتے تھے اس دن وہ احترام کی خاطر روزہ بھی رکھتے تھے۔
غلافہ کعبہ کے سات رنگ:
تاریخی روایات کے مطابق کعبہ شریف کے غلاف کے رنگوں کی تعداد سات تک ملتی ہے۔ خاکی، سرخ، سفید، زرد، سبز، سیاہ اور سنہری رنگوں کے غلاف بنائے گئے۔ سیاہ غلاف کعبہ شریف کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک استعمال ہوا۔ سیاہ کپڑے پر سنہرے رنگ کا دور اسلام کے بعد کا دور ہے۔ سیاہ کپڑے پر قرآنی آیات یا دیگر مقدس عبارات تحریر کی جاتیں۔ اس وقت غلاف کعبہ کے دو رنگ سفید اور سرخ اس کی تزئین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یمنی کپڑے کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے۔
تبدیلی غلاف کعبہ:
خانہ کعبہ پرغلاف رکھنے کا عرصہ بھی مختلف رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ہرسال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض دفعہ غلاف کعبہ کو سال میں تین تین بار بھی تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کی مشہور تاریخوں میں یوم عاشور، یکم رجب، 27 رمضان، یوم الترویہ اور قربانی کا دن زیادہ مشہور ہے۔

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاتح مکہ کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت قریش مکہ کا تیار کردہ غلاف کعبہ کی زینت تھا۔ آپ صلی اللیہ علیہ وسلم نے اسے تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے باقی رکھا گیا۔ جب خانہ کعبہ میں خوشبو چھڑکنے والی ایک خاتون کے ہاتھوں غلاف کعبہ کا کچھ حصہ جل گیا تو آپ نے سفید اور سرخ رنگ کا یمنی کپڑے کا نیا غلاف بنوایا۔ آپ کے بعد آپ کے خلفاء حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سفید رنگ کا غلاف کعبہ تیار کرایا۔ اسے قباطی کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ بہت پتلا کپڑا تھا جسے مصر میں تیار کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیت المال سے سال میں دو بار غلاف بنایا اور تبدیل کیا جاتا۔ ان کے دور میں تبدیلی کے بعد پہلا غلاف شیبہ بن عثمان الحجی کے پاس رکھ دیا جاتا تھا۔ فاطمی دور میں غلاف کعبہ زرد رنگ کا رہا۔ محمد بن سبکتگین کے دور میں زرد ریشمی کپڑے کا غلاف بنایا گیا۔ عباسی خلاف ناصر نے سبز ریشم اور اس کے بعد سیاہ ریشم استعمال کیا جو آج تک جاری ہے۔
کعبے کو سیاہ رنگ کے کمخواب کا غلاف سب سے پہلے خلیفہ الناصر العباسي (متوفى 622هـ) نے چڑھایا۔ اس نے پہلے کعبے کو سبز کمخواب کے غلاف سے آراستہ کیا اور پھر سیاہ کمخواب کا استعمال کیا اور یہ ہی سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے
غلاف کعبہ کا کارخانہ
سنہ 1346ھ میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے غلاف کعبہ کے لیے الگ سے ایک ادارہ اور کارخانہ قائم کرنے کا حکم دیا۔ غلاف کعبہ کی نگرانی وزیر خزانہ عبداللہ بن سلیمان کو سپرد کی گئی۔ ان کے دور میں سال میں تین بار غلاف کعبہ تبدیل ہونے لگا۔

خانہ کعبہ کا بیرونی غلاف یعنی کسوہ ہر سال 9 ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ ریشم ، کاٹن ، اور سونے چاندی کے تاروں سے تیار کیا جاتا ہے۔ کسوہ کی بلندی 14 میٹر ہوتی ہے۔ اوپر کے ایک تہائی حصے میں بیلٹ موجود ہوتی ہے جس کی چوڑائی 95 سینٹی میٹر اور لمبائی 47 میٹر ہوتی ہے۔ بیلٹ کے نیچے آیات قرآنی موجود ہوتی ہیں۔ یہ تمام علیحدہ فریموں میں تحریر ہوتی ہیں۔ درمیانی خلاؤں کے بیچ قندیل کی شکل کے اندر "يا حي يا قيوم، يا رحمن يا رحيم، الحمد لله رب العالمين" تحریر ہوتا ہے۔ بیلٹ پر بہت نمایاں طور پر کڑھائی کی جاتی ہے اور یہ چاندی کے تاروں سے بھری ہوتی ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے اور پورے خانہ کعبہ کا احاطہ کرتی ہے۔ کسوہ میں کعبے کے دروازے کا پردہ شامل ہوتا ہے۔ ریشم سے تیار کیا گیا یہ پردہ 6.5 میٹر بلند اور 3.5 میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ اس پر قرآنی آیات تحریر ہوتی ہیں اور اسلامی نقش ونگار منقش ہوتے ہیں۔
خانہ کعبہ کا کسوہ پانچ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر حصہ کعبے کی ایک سمت کو ڈھانپ لیتا ہے جب کہ پانچواں حصہ وہ پردہ ہوتا ہے جو کعبے کے دروازے پر لگایا جاتا ہے۔ ان تمام حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا گیا ہوتا ہے۔
پرانےغلاف کہاں جاتے ہیں؟
پرانے غلاف کعبہ کو حرم مکی کے قریب موجود میوزیم میں رکھا جاتا ہے یا تحفے کے طور پر کسی دوسرے مسلمان ملک کو دے دیا جاتا ہے۔ محفوظ رکھنے کے لیے اتارے جانے والے غلاف کو کھول کر اس کے حصے الگ الگ کیے جاتے ہیں۔
حج کے ایام میں غلافِ کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ لیتے تھے جن کو میت کی آنکھوں میں ڈالنے کےلئے لاتے تھے جو کہ ایک توہم پرستی ہے۔