بارش نے عید کا لطف تو دوبالا کیا ہے لیکن کیا کہیں کہ اب خاتون خانہ کا موڈ بھی خراب ہے۔ ہر تھوڑی دیر میں ہوتی طوفانی بارش نے سڑکوں پر گھٹنوں سے اوپر پانی پانی کھڑا کردیا ہے ایسے میں یوم سسرال منانا... ہمارا مطلب ہے عید کے اگلے دن سسرال جانے کا پروگرام کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔
عید کے اگلے دن سسرال کے نام
پاکستانی رسم و رواج کے مطابق ہر خاندان میں عید کا دوسرا، تیسرا دن خاتونِ خانہ کے میکے اور مرد حضرات کے سسرال میں گزارا جاتا ہے۔ اس دن شوہر حضرات کی ایک نہیں چلتی اور سال بھر ساس نندوں کی خدمت کرتی بیگمات شوہروں کو ان کے سسرال پر حاضری دلوا کر ہی دم لیتی ہیں۔
ڈائپرز ،دودھ کے ڈبے اور گوشت کے تھیلے سے سجی سواری
یقین نہ آئے تو عید کے دوسرے یا تیسرے روز سڑک پر کھڑے ہو کر دیکھ لیں۔ گاڑی تو گاڑی ہر دوسری موٹر سائیکل پر شوہر صاحب منہ بنائے، ایک بچے کو آگے بٹھائے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جبکہ ان کے پیچھے بیٹھی بیگم بھی ایک یا دو بچے ساتھ بٹھا فخریہ مسکراہٹ سجائے بیٹھی ہوں گی۔ موٹر سائیکل پر ہی بچوں کے پیمپر، دودھ کا ڈبہ اور گوشت کا بڑا سا تھیلا یہ بتانے کے لئے کافی ہوگا کہ سواری صاحب خانہ کے سسرال کی جانب رواں دواں ہے۔
سسرال میں بیٹی اور داماد کی خاطر تواضع
اس دن سسرال میں شادی شدہ بہنوں اور بیٹیوں کے لیے دعوت کا اہتمام ہوتا ہے جس میں مختلف کھانے پکائے جاتے ہیں۔ چائے کا تکلف بھی کیا جاتا ہے۔ سسر اور سالے گھر آئے داماد اور بہنوئی کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔ یہ دن شادی شدہ خواتین کے لئے مان بھرا ہوتا ہے جسے وہ کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتیں۔ خواتین اس دن اپنی تیاری کا بھرپور خیال رکھتی ہیں تاکہ کہیں ان کی بہنوں اور بھابھیوں کو یہ نہ لگے کہ ان کے شوہر ان کا خیال نہیں رکھتے۔ بچے بھی ماں کو خوش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور نانی کے گھر میں کزنز کے ساتھ خوب کھیلتے کودتے ہیں۔
بہانہ نہیں یوم سسرال منائیں
ہماری مانیے تو آپ اس دن کو بارش کا بہانہ بنا کر ضائع کرنے کے بجائے بیگم کی خوشی کی خاطر اسی طرح گزاریں جیسے وہ چاہتی ہیں۔ ہمیشہ آپ کی خوشی میں خوش رہنے والی بیگم بھی تو آپ پر کچھ حق رکھتی ہیں۔