دعا زہرہ کو بیچنے کے لئے ظہیر اور گینگ نے ورغلا کر بلایا ۔۔ دعا کیس میں اقرار الحسن کا تہلکہ خیز انکشاف

image

دعا زہرہ کیس میں اقرارالحسن نے شروعات سے لے کر اب تک کوئی بیان نہیں دیا تھا اور نہ کسی قسم کا کوئی سوشل میڈیا پوسٹ، کمنٹ یا کوئی ویڈیو شیئر کی تھی۔ ہر کسی نے اس معاملے پر کمنٹ کیا لیکن اقرارالحسن نے رمضان سے اب تک کوئی بات نہ کی تھی۔ مگر اب انہوں نے اپنے فیس بک اور یوٹیوب پر ایک تفصیلی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اس کیس سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

٭ '' میں سلام پیش کرتا ہوں، اس باپ کو، اس ماں کو جس نے اپنی بچی کی یوں اغواء ہونے کی خبر کو سب کے سامنے لایا، سب کے سامنے بتایا، دکھلایا اور مکمل تحقیقات کروائیں، کورٹ کچہری کے چکر لگائے، لوگوں کی ہزاروں الٹی سیدھی باتیں سنیں، لیکن پیچھے نہ ہٹے اور آخری وقت تک بیٹی کو بازیاب کروانے کی مکمل کوشش کی، جب کیس بالکل ان کے ہاتھ سے کل گیا تو شہر کے ایک بڑے وکیل سے بھی مدد لی اور بچی کی عمر کے تعین سے متعلق ٹیسٹ بھی دوبارہ کروائے گئے جن میں والدین کی بات چونکہ سچی تھی، اس لیے سچ ثابت ہوگئی۔ بچی کے کیس پر میں نے کوئی بات اس لیے نہیں کی تھی اب تک کیونکہ میں جب تک مکمل ثبوت یا کوئی ٹھوس شواہد نہ حاصل کرلوں، کسی بھی کیس میں کوئی بات نہیں کرتا، میں نے سرِ عام میں پچھلے 10 سالوں سے آج تک جتنے بھی شوز کیے وہ مکمل ثبوتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیے اور ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کیس ہر پہلو سے الجھا رکھا ہے۔''

اقرار نے مزید کہا کہ: '' دعا کی والدہ نے مجھے ایک ویڈیو پیغام بھیجا اور کہا کہ میں آپ کو بھائی مانتی ہوں، میری بیٹی جن لوگوں کے پاس ہے، آپ جانتے ہیں وہ کتنے خطرناک ہیں، میں اپنی طرف سے ہر کوشش کر چکی ہوں، آپ نے بھی میڈیا پر سب کچھ دیکھا ہے، میری بچی کے دماغ کو قابو کرکے اس سے جھوٹ بلوایا جا رہا ہے، وہ عمر میں چھوٹی ہے، وہ بچی جو باپ کے سینے پر سر رکھ کر سوتی ہو، اس سے ایسی باتیں بلوائیں گئیں ہوں تو میرے دل پر کیا گزرے گی، آج سب کے گھر عید کا سماں ہے اور میرے گھر میں قیامت کا منظر ہے۔ آپ پلیز جائیں دیکھیں میری بچی کس حال میں ہے، اس کو کس طرح رکھا گیا ہے، وہ کیا بولتی ہے اس کو خود بھی نہیں معلوم۔ ''

اقرار الحسن نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ: '' دعا کو ایک جسم فروش گینگ نے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے، انہوں نے دعا کو کراچی سے شاید کا جھانسا دے کر ورغلایا اور لاہور تک بلوایا اور چونکہ دعا کے والد نے معاملہ میڈیا اور پولیس تک فوری طور پر پہنچا دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کو کسی جسم فروشی کے اڈے پر اب تک نہیں چھوڑا، بلکہ اس کو ایک گھریلو لڑکی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اس کو اب تک بیچا نہیں، جبکہ اس طرح کے ہزاروں کیسز ہم دیکھ چکے ہیں کہ بچیوں کو شادی کا جھانسا دے کر ظہیر اور اس کے گینگ جیسے لوگ بلواتے ہیں اور ان کو ایک گینگ سے دوسرے گینگ کو بیچ کر غلط کام کروائے جاتے ہیں۔ ''


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US