کہیں بیٹا 12 سال پہلے ماں کو چھوڑ کر گیا تو کوئی جنازے پر نہیں آتے ۔۔۔ اولڈ ہوم میں رہنے والے بوڑھے والدین عید کیسے مناتے ہیں؟ دکھی دلوں کی فریاد

image

والدین کے بغیر گھروں میں نہ سکون ہوتا ہے اور نہ کوئی خوشی، لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنے بوڑھے والدین سے جان چھڑانے کے لیے ان کو اولڈ ہومز میں چھوڑ جاتے ہیں اور داخلہ کرواتے وقت انتظامیہ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ان کو پوچھنے کے لیے آتے رہیں گے، لیکن سالوں گزر جاتے ہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ نجی ٹی وی نے ایک اولڈ ہوم میں موجود بزرگوں کا انٹرویو لیا، جس میں انہوں نے لوگوں کے دلخراش احوال بتائے جو یقیناً ناگزیر ہیں، جان کر شاید آپ بھی ان والدین کی بے بسی کو سمجھ سکیں:

صحافی نے ان لوگوں سے پوچھا ان کو یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ، کسی کو کوئی پریشانی تو نہیں؟ آپ یہاں عید کیسی گزارتے ہیں؟ ان سوالوں کے وجاب میں سب نے یہی کہا کہ ہم یہاں بالکل ٹھیک اور محفوظ ہیں۔ ہمارے گھر والوں نے ہم سے جان چھڑانے کے لیے ہمیں یہاں بھرتی کروا دیا ہے، ہماری کوئی فریاد نہیں سنتا، یہ لوگ اچھے ہیں ہمارے رہنے اور کفن فدن کا انتظام کر دیتے ہیں ورنہ گھر والوں نے تو ہم سے ناطے ہی توڑ لیے ہیں۔ وہیں ان لوگوں کا خیال رکھنے والے منتظم نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کے گھر والوں کو اطلاع بھی دے دیں کہ ان کی میت ہوگئی ہے تو کوئی نہیں پوچھتا، کوئی میت کا آخری دیدار تک کرنے کے لیے نہیں آتا، مجھے ان کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔

خواتین سے بات کی تو معلوم چل اکہ ایک خاتون اپنا ذہنی توازن کھو بیتھی ہیں، ان کو صرف اپنا اکلوتا بیٹا یاد ہے جو 12 سال پہلے اولڈ ہوم میں یہ کہہ کر گیا تھا کہ میری ماں کو 1 سال کے لئے رکھ لو، میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جا رہا ہوں، میری ماں کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے، میں واپس آ کر ماں کو لے جاؤں گا۔ لیکن 1 سال بعد جب وہ واپس آیا اس سے ہم نے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف اپنی شادی کرنے کے لیے آیا ہے اور اپنی ماں کو بلایا نہ پوچھا اور نہ ملنے آیا، نہ ماں کی شکل دیکھی۔ ماں کو گہرا صدمہ لگ گیا، جبکہ ماں پڑھی لکھی خاتون ہے، جب بیٹے سے ہم نے کہا کہ ایک مرتبہ ان سے مل لو آکر تو اس نے کہا کہ مجھے ان سے کوئی رابطہ نہیں کرنا۔

ان کی عید اپنے رشتوں کی یادوں میں ہی گزر جاتی ہے، کہیں مائیں رو رو کر اپنا دن گزارتی ہیں تو کہیں بہنیں اپنے بھائیوں اور شوہروں کے ظلم و ستم کو یاد کرکے روتی ہیں، لیکن پھر بھی ان کو آس ہوتی ہے کہ شاید ہمیں کوئی پوچھنے والا آ جائے، لیکن جب کوئی ملنے نہیں آتا تو بجھے ہوئے دلوں سے آنکھوں میں آنسو لیے تڑپ کر رہ جاتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US