آج کے دور میں لوگوں نے شادی کو ایک بہت بڑا مسئلہ بنا لیا ہے۔ جہیز کا معاملہ ہو یا پھر رخصتی کا یا اس کے علاوہ شادی پر جو مکمل اخراجات آتے ہیں اس سے والدین بہت پریشان ہوتے ہیں کیونکہ وہ تمام خرچے اُٹھانے کی استعطات نہیں رکھتے۔ بہت کم ہی سننے میں آتا ہے کہ لڑکے والوں نے جہیز لینے سے اِنکار کر دیا ہو لیکن آج آپ کو ایک ایسی خاتون کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جن کے شوہر نے نہ صرف جہیز لینے سے انکار کیا بلکہ لڑکی کی شادی کے بھی اخراجات اٹھا کر بہترین مثال قائم کی۔
خاتون نے نیشل پوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شادی اور جہیز کے موضوع پر لازمی بات ہونی چاہئے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور اس مسئلے کو کافی گہرائی سے دیکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کافی ایسے گھرانوں کو دیکھا ہے جس میں لڑکیاں صرف اس لیے گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ اُن کے والدین کے پاس جہیز خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔
خاتون نے کہا کہ آج کے دور میں جب جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو میں نے لڑکی کے ماں باپ کو مارکیٹ سے وہ چیزیں بھی خریدتے ہوئے دیکھا ہے جو ان کے گھر میں زندگی میں کبھی موجود نہیں تھیں۔ جہیز کا مطالبہ پورا کرتے کرتے ان کی زندگی گزر جاتی ہے تاکہ ان کی بیٹی سسرال میں خوش اور آرام کے ساتھ رہ سکے۔
باہجاب خاتون کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ خدایا! جو لوگ جہیز کی ڈیمانڈ (مطالبہ) کرتے ہیں ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب ایک ماں باپ اپنی بیٹی کو پال بوس کا بڑا کرتے ہیں، آپ کی زندگی میں بھجوا دیتے ہیں جو آپ کی نسل بھی پیدا کرتی ہے آپ کا زندگی بھر ساتھ دیتی ہے تو جہیز کا کیا کرنا ہے وہ سب چیزیں یہیں پڑی رہ جائیں گی۔
ایک سوال کے جواب میں خاتون نے کہا کہ میں اپنے شوہر کی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے. جب میری والدہ نے شوہر سے جہیز کے معاملے میں بات کی کہ جہیز میں کیا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ مجھے جہیز میں ایک روپیہ بھی نہیں چاہیئے۔ آپ کی بیٹی میرے گھر آرہی ہے یہی میرے لیے بہت بڑی بات ہے۔ یہاں تک خاتون کے شوہر نے یہ بھی کہا کہ آپ کی بیٹی کی شادی میں آںے والے جو بھی اخراجات ہوں گے وہ سب میں اپنی جیب سے پورے کروں گا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے ساتھ جہیز میں کچھ بھی لے کر نہیں گئی تھی۔ میرے کمرے ایک بستر ایک صوفہ ہے جو کہ وہ بھی شوہر کا دیا ہوا ہے بس اور اس کے علاوہ کچھ فضولیات کی چیزیں نہیں ہیں۔
شادی کو آسان بنائیں نہ کہ مشکل اور کوشش کی جائے کہ جہیز جیسی چیزوں کا ہمارے معاشرے سے صفایا ہو تاکہ غریب والدین اپنی بیٹیوں کو باآسانی رخصت کر سکیں۔
آپ سب نے یہ آرٹیکل پڑھ کے کیا سبق حاصل کیا؟ اپنی رائے کا اظہار آپ 'ہماری ویب' فیسبک کے کمنٹس سیکشن میں کرسکتے ہیں۔