ہر سال کی طرح اس بار بھی عیدالضحیٰ پورے جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ بہت سے لوگوں نے جانوروں کی قربانی کی تو کسی نے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈال کر سنتِ ابراہیمی پر عمل کیا۔ کسی نے گائے بکرے قربان کیے تو کہیں اونٹ ذبح کیے گئے۔
عرب ممالک میں زیادہ تر اونٹوں کی قربانی عمل میں لائی جاتی ہے کیونکہ اونٹ کی قربانی کو بہت افضل سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اب اونٹ کی قربانی کا رواج پروان چڑھنے لگا ہے۔ بہت سے افراد عام دنوں میں بھی اونٹ کے گوشت کھانوں میں استعمال کرنے لگے ہیں لیکن وہیں بہت سے لوگ اس حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے یا نہیں اور کیا اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنی چاہیئے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے۔
قرآن مجید میں اونٹ کے 13 مختلف نام آئے ہیں مگر واضح طور پر اونٹ کو قرآن کریم نے إبِل کے نام سے پکارا ہے۔ یہ واحد اور جمع دونوں معنوں میں اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں یہ لفظ دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 144 اور سورۃ الغاشیہ کی آیت نمبر 17 میں یہ لفظ لغت میں باطل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا کتنا لازم ہے؟ اس حوالے سے مختلف مکتبہ فکر کے مابین اختلاف موجود ہے۔ احادیث کی روشنی میں صحیح مسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا ذکر حضرت جابر بن سمرہؓ کے حوالہ سے معروف ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو وضو کرو، اور اگر چاہو تو نہ کرو اس شخص نے پوچھا ”کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کریں؟ جس پر آپ ﷺنے فرمایا کہ ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
پھر اس شخص نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کیا میں اونٹ بٹھانے کی جگہ نماز پڑھ لیا کروں؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں۔
ویسے ہی دوسری حدیث کا حوالہ دیا گیا کہ حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کیا کرو، بکری کا گوشت کھا کر وضو مت کیا کرو اور بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو۔ ان احادیثِ مبارکہ میں وضو کرنے سے مراد پانی استعمال کرنا ہے۔ اونٹ کے گوشت میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہاتھ اور منہ دھونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان روایات میں اونٹ کا گوشت کھا کر ہاتھ دھونے اور کلی کرنے کا درس دیا گیا ہے نہ کہ باقاعدہ وضو کرنے کا۔
اسی طرح ایک سوال یہ آیا کہ کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے پہلے سے کیا ہوا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ یہی جمہور صحابہ، جمہور فقہ،امام اعظم امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافی رحمتہ اللہ کا مسلک ہے۔ اور جس حدیث مبارکہ میں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد لؑغوی وضو ہے یعنی منہ اور ہاتھ دھونا۔ کیونکہ اونٹ کے گوشت میں چکناہٹ اور ایک قسم کی بو ہوتی ہے۔