جون جولائی عام طور پر پورے ملک میں ہی مون سون کا موسم ہوتا ہے۔ اس دفعہ موسمی تغیرات کے باعث بارشوں نے پورے ملک میں سارا نظام تلپٹ کردیا ہے۔ کئی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ کہیں مکان بہہ گئے، کہیں مال مویشی بہہ گئے، کہیں زندہ انسان اس پانی کی نذر ہو گئے۔ ایسے میں کہیں وہ بھی ہیں جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں، راہئ ملک عدم کے مسافر، ہمارے پیارے، کسی کے والد، کسی کے بھائی، کسی کا بیٹا، کسی کی بیوی ، کسی کا شوہر، کسی کی ماں ، کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی۔

جانے والے چلے جاتے ہیں کہتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے، اب ان کا اس دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان بارشوں میں جہاں طوفانی بارشوں نے سارے ملک میں تباہی مچادی ہے، وہیں قبرستانون کی بھی حالت دیکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ کچھ قبریں وہاں ایسی بھی ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، لوگ اپنے پیاروں کو سپردِ خاک کر کے ایسا گئے کہ پلٹ کے ان کی خبر تک نہ لی، ان طوفانون میں ، ان بارشوں میں جب بھی قبرستان کا چکر لگائیں تو ایسی قبروں کو بھی دیکھ لیا کریں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ان قبروں کے مکیں اپنے پیاروں کے منتظر رہتے ہیں۔ ان قبرستانوں کے مکین آپ کے وہ پیارے، آپ کے وہ عزیز ہیں جو آپ کو اپنی جان سے زیادہ پیار کرتے تھے، جو بجلی کی چمک یا بادل کی گرج میں آپ کو اپنے سینے میں چھپا لیتے تھے۔ جو سارے زمانے کے طوفانوں اور حوادث سے بچا کر آپ کو اپنی آغوش میں بھر لیتے تھے ، اب یہ بجلی جب کڑکتی ہو گی تو ان پیاروں کے پاس کوئی نہیں ہوتا ، کوئی نہیں جو ان کی بہتی ہوئی قبروں کو سنبھال سکے ، کوئی نہیں جوان کی قبر پر کوئی پودا لگا کر ان کے لئے صدقہ جاریہ بنا دے۔ ان بارشوں کے بعد اپنے ان پیاروں اپنے ان عزیزوں کی ان ابدی رہائش گاہوں کا چکر ضرور لگا لیا کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان بارشوں نے ان قبروں کو کھول دیا ہو اور کوئی جانور یا کوئی موقع پرست ان کو کوئی نقصان پہنچائے۔