جنات شادی کیسے کرتے ہیں اور ان کی شادی میں کیا ہوتا ہے ۔۔ وہ وقت جب مولانا صاحب نے جنات کا نکاح پڑھایا، پھر ان کے ساتھ کیا ہوا؟ دیکھیے

image

اللہ نے اس دنیا میں ہر طرح کی مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے جس میں انسان، حیوان، جنات اور فرشتے شامل ہیں۔ اور اللہ نے انہی میں سے ان کے جوڑے بھی پیدا فرمائے ہیں۔ اس دنیا میں ان اشیاء کے وہ جوڑے بھی موجود ہیں جنہیں انسان نہیں جانتا یا دیکھ نہیں سکتا ان کا اس مخلوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج ہم آپ کو اس خبر میں جنات کی شادی سے متعلق دلچسپ باتیں اور ایک حقیقی واقعہ بتائیں گے جنہیں جان کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنات شادی نہیں کرتے۔ لیکن قرآن کریم کے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ جنات شادی بھی کرتے ہیں اور بچوں کو بھی پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ جنات کے بچوں کو جنم دینے کا عمل انسان سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ جنات انسانوں کی طرح مادی وجود رکھنے کے بجائے روح کا وجود رکھتے ہیں۔ مگر یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنات کی شادی کیسے ہوتی ہے؟ کیا انسان کی شادی بھی انسانوں کی شادی کی طرح ہوتی ہے؟ ان کی شادی میں نکاح پڑھایا جاتا ہے؟ اس حوالے سے 'ہماری ویب' ڈاٹ کی اس خبر میں جانیں گے۔

یہ بات سچ ہے کہ جنات بھی شادی کرتے ہیں اور ان کی شادی بھی انسانوں کی طرح ہی ہوتی ہے جس طرح انسانوں کی شادی میں ڈھول بجانا، جاچ گانا کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جنات بھی اپنی شادی ڈھول باجے بجانے اور رقص بھی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی شادی میں سب سے بہترین کھانے پینے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ جنات اپنے کھانوں میں مور اور ہرن کا استعمال بہت زیادہ شوق سے کرتے ہیں۔ اور میٹھے میں بھی بہت کچھ رکھتے ہیں۔ ان کا کھانا انسان کے کھانوں سے بہت لذید ہوتا ہے۔ اور ان کی شادیوں میں دوسرے قبیلے یا گاؤں کے جنات سرداروں کو مہمان مدعو بھی کیا جاتا ہے۔

جنات کی شادی میں نکاح بھی پڑھایا جاتا ہے۔ جس کا اعتراف ایک مولانا صاحب نے خود کیا۔ ان مولوی صاحب کا نام 'نواب علی شاہ' ہے۔ انہوں نے واقعہ سنایا کہ رات کے کسی پہر میں سو رہا تھا تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میری عادت یہ تھی کہ میں جتنی بھی گہری نیند میں ہوتا ہوں اگر دروازے پر ذرا سی بھی دستک ہوتی ہے تو میری آنکھ فوراً کھل جاتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ میں اٹھ گیا۔ دروازہ کھولا تو دو اجنبی نوجوان میرے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے ان دونوں کی نہیں پہچانا اور پوچھا کیا کام ہے؟ اس پر انہوں نے کہا مولانا صاحب ہمارے ہاں شادی ہے اس لیے ہم آپ کو نکاح پڑھانے کی غرض سے لینے کے لیے آئے ہیں۔ میں نے کہا مجھے معاف کیجیے میں آپ کو پہچانتا نہیں ہوں آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اُنہوں نے کہا کہ ہم دونوں پڑوس والے گاؤں سے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اس کا نام جھنجھار ہے۔ مولانا صاحب نے دل میں سوچا کہ کافی عجیب نام ہے۔

تھوڑی دیر بعد میں ان کے ساتھ چل دیا۔مولانا نواب علی صاحب بتاتے ہیں کہ مارچ کا مہینہ تھا اور رات تھوڑی تھوڑی ٹھنڈی تھی۔ وہ دونوں میرے آگے چل رہے تھے اور میں ان کے پیچھے چل رہا تھا۔آخر کار ہم اس گاؤں کے میدان میں پہنچے جہاں شامیانہ سجا ہوا تھا۔ وہاں خوب رونق اور چہل پہل تھی۔ روشنی کا بھی خوب انتظام تھا۔ میں ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک آواز آئی خوش آمدید مولانا صاحب! میرے سامنے ایک شخص شلوار قمیض میں کھڑا تھا جو دولہے کا باپ تھا اور اس کا نام سردار مانس تھا۔ سردار نے کہا کہ آئیں میں آپ کو لیئے چلتے ہوں۔ جب ہم تھوڑا آگے گئے تو سردار مانس نے میری ملاقات دلہن کے باپ سے کروائی جن کا نام شرمد تھا۔ کیونکہ سب چہرے وہاں اجنبی تھے اور میرا جاننے والا وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ حالانکہ میں اس گاؤں کے بہت سے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا تھا۔

میں نے دلہن کے باپ سے عرض کیا کہ یہاں اس گاؤں کا کوئی بھی فرد موجود نہیں اس پر شرمد صاحب نے کہا کہ اچھا تو یہ مسئلہ ہے۔ شرمد صاحب نے ایک لڑکے کو آواز دی اور قریب آنے پر اس لڑکے کو کچھ کہا۔ مولانا صاحب نے کہا کہ اس کے تھوڑی دیر بعد میں نے نظر صاب کو آتے دیکھا جو گاؤں میں دکاندار تھے اس کے بعد اور بھی جاننے والے مجھے شادی میں نظر آنے لگے جنہیں دیکھ کر مجھے اطمینان ہوا۔ میں نے نظر صاحب سے پوچھا کہ آپ کی دکانداری کیسی چل رہی ہے تو انہوں نے چونکتے ہوئے بولا کہ اچھی چل رہی ہے۔

اسی میں مجھے دلہا کے والد نے کہا کہ مولوی صاحب آیئے اور نکاح پڑھایئے دیر ہو رہی ہے۔ میں نے جاکر ان کا نکاح پڑھایا۔ انہوں نے مجھے میٹھائی اور پیسے بھی دیئے۔ بعد میں مجھے کھانا بھی کھلایا جو بےحد لذیذ تھا۔ اس کے بعد افد اور جھنجھار نے جو مجھے یہاں لائے تھے انہوں نے مجھے گھر چھوڑ دیا اور خود بھی واپس چلے گئے۔ مولانا صاحب نے کہا کہ جب میں صبح ان لوگوں سے ملا جن سے میری ملاقات کل رات شادی میں ہوئی تھی تو ان سے رات کے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم رات کو تو کہیں نہیں گئے بلکہ اپنے گھر پر سو رہے تھے اور کسی بھی شادی میں شرکت نہیں کی۔ مولانا صاحب بہت حیران ہوئے اور گھر واپس آگئے۔ گھر پہنچ کر میں نے میٹھائی اور نکاح کے پیسے دیکھے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ میرا وہم نہیں بلکہ میں نے رات میں شادی میں شرکت کی تھی۔ بعد میں مجھے اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ رات میں جس شادی میں شکرت کے لیے گیا تھا وہ انسانوں کی نہیں بلکہ جنات کی شادی تھی۔ دراصل جنات ہی روپ بدل کر نظر صاحب اور دیگر لوگوں کا روپ دھار کر شادی میں آئے تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US