معاملہ اتنے لاکھ میں طے ہوجائے تو دعا گھر جا سکتی ہے۔۔ اقرار الحسن نے نئی ویڈیو میں دعا سے متعلق کس تہلکہ خیز منصوبے کی بات کردی؟

image

معروف پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن سید اقرار الحسن نے اب سے کچھ دیر قبل اپنی نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے دعا سے متعلق ایک بات پھر تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے۔ 11 منٹ 39 منٹ کی طویل ویڈیو میں اقرار الحسن نے کہا ٹیم سر عام دعا زہرا کیس پر تحقیقات کر رہی تھی جس کے حوالے سے میں اپنے پچھلے ویلاگ میں نے کچھ گزارشات بھی کی تھیں کہ ان تحقیقات کے دوران ہم پر ایک تہلکہ خیز انکشاف ہوا جس کی بنیاد پر ہم نے فوراً ان تحقیقات کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ انکشاف اسی گینگ کے ایک کارندے کی طرف کیا گیا۔ اِقرار نے اپنے ویلاگ میں اُن تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ان کی خبر کو سنجیدگی سے لینے کی گزارش کی ہے۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ دعا زہرا کو جان سے مارنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس گینگ کا جو شخص ہم سے رابطے میں تھا اور جس کی مدد سے ہم تمام تر ثبوت اکھٹا کر رہے تھے اور بہت سے ثبوت ہمارے پاس اس وقت موجود ہیں جو ہم عدالت میں اور پوری قوم کے سامنے لے کر آئیں گے لیکن فی الحال ہم آگے اس تحقیات کو آگے نہیں بڑھا سکتے اس بات کے بتائے جانے کے بعد دعا کو جان سے مار دیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ کہ وہ تمام لوگ جو اس کیس میں اس گینگ کو بے نقاب کر رہے ہیں چاہیں وہ دعا کے والدین ہوں یا وہ صحافی ہیں انہیں یہ بتایا جا سکے کہ آپ کی وجہ سے دعا زہرا کی جان گئی ہے۔ بعد ازاں اس کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے گا۔

سید اقرارالحسن نے کہا کہ دعا کا کوئی بھی انٹرویو اٹھا کر دیکھ لیں اس بچی سے بار بار یہ کہلوایا جارہا ہے کہ میں ظہیر کے بغیر زندہ نہیں رہوں گی، میں ظہیر کی غیر موجودگی میں خودکشی کرلوں گی۔ یہ جملے دعا سے بار بار اس لیے کہلوائے جا رہے ہیں کیونکہ کیس ظہیر اور گینگ کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور فیصلہ ان کے خلاف آنے والا ہے۔ اس کے بعد جو بھی برا ہوتا ہے اس کا سارہ ملبہ والدین کے سر ڈال دیا جائے گا۔

سید اقرار الحسن نے قانون نافذ کرنے والوں سے دوبارہ اپیل کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور دعا جیسے معصوم بچی کو گینگ سے نجات دلائی جائے کیونکہ اب ریڈ لائن کراس ہونے جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US