گذشتہ روز اندرونی سندھ اور شہر کراچی میں لسانی جھگڑوں کی بناء پر کشیدہ صورتحال دیکھنے میں آئی جس کے باعث دفاتر سے گھر جانے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور حالات کافی خراب رہے۔
اس ساری صورتحال سے قبل حیدرآباد میں ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک ہوٹل میں چند روز قبل 35 سالہ بلال کاکا کا قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد سندھ کے مختلف اضلاع میں لسانی بنیادوں پر کشیدگی بھڑک اُٹھی۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں ایک ویڈیو کلپ جس میں اورنگزیب نامی شخص کی دکان پر مشتعل افراد بند کروانے آئے اور اسے ڈرایا دھمکایا جس کے بعد وہ شخص خوف کے باعث اپنا ہوٹل بند کرنے کے لیے مجبورا مان جاتا ہے۔
اورنگزیب نامی ہوٹل کا دکاندار یہ سوال کرتا رہتا ہے میرا کیا قصور ہے؟ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اورنگزیب شروعات میں تو اپنا ہوٹل بند کرنے سے منع کرتا ہے مگر مظاہرین کا دباؤ اس پر اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنا ہوٹل بند کرنے پر رضامندی ظاہر کر دیتا ہے۔
دیکھیئے مشتعل افراد اس شخص سے اور کیا کچھ بولتے ہیں نیچے ویڈیو میں دیکھیں۔