ہم میں سے اکثر لوگ اپنی غربت اور حالات کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں مگر یہ شکر ادا نہیں کرتے کہ ہم بہت سے لوگوں سے اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے شخص کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جسے گردے کی بیماری ہوگئی اور ڈاکٹر نے ڈائیلاسز تجویز کیا تو اس نے غربت سے مجبور ہو کر خود ہی کچن کے برتنوں کی مدد سے ڈائیلاسز مشین بنانے کی ٹھانی۔ پھر کیا ہوا؟ آئیے جانتے ہیں
2 دوست اس مشین کے استعمال سے مر چکے ہیں
ہو سونگ وین کا تعلق چین کے ایک دیہی قصبے سے ہے جہاں اچھے اسپتال کی سہولت کم ہے اور ہے بھی تو ہو جیسے غریب شخص کے لئے ان تک رسائی حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔ ہو سونگ نے بتایا کہ ان کے دو دوستوں نے بھی ایسی ہی مشین بنائی تھی جسے استعمال کرنے سے ان کی موت بھی ہوگئی تھی لیکن وہ اتنے مجبور تھے کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور انھوں نے باورچی خانے کے آلات سے ڈائیلاسز مشین بنائی۔
خودکار ڈائیلاسز مشین کیسے بنائی اور یہ کتنی خطرناک ہے؟
ڈائیلاسز کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب گردے بھرپور طریقے سے فعال نہیں رہتے اور فضلہ خون میں شامل ہونے لگتا ہے۔ ہو سونگ نے اس مشین کے دو کمپارٹمنٹس بنائے جس میں ایک کمپارٹمنٹ خون پمپ کرکے زرات صاف کرکے اگلے کمپارٹمنٹ میں جانے دیتا ہے جبکہ ڈائیلاسز لیکئیڈ بنانے کے لئے وہ پانی میں پوٹاشیم کلورائیڈ، سوڈیم کلورائد اور سوڈیم ہائیڈروجن کاربونیٹ (بائی کاربونیٹ) جیسے اجزاء شامل کرتے ہیں۔ مشین میں مختلف ٹیوبز جڑی ہوئی ہیں جو خون کو فلٹر کرکے دوسری ٹیوبز سے واپس جسم میں شامل کرتی ہیں۔
13 سال سے اس مشین کی وجہ سے زندہ ہوں
ڈاکٹرز نے ہو سونگ کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ یہ طریقہ کار کافی خطرناک ہے اور اس سے ان کی جان بھی جاسکتی ہے لیکن ہو سونگ اسپتال نہیں جانا چاہتے کیوں کہ وہ ان کے قصبے سے بہت دور ہے۔ ہو سونگ کہتے ہیں کہ وہ 13 سال سے اس مشین پر زندہ ہیں۔