نکاح نامے میں عورت کے حقوق کی شقیں کیوں کٹوائی جاتی ہیں۔۔ عورت خلع لینے کے بجائے طلاق کا حق لے کر کس طرح اپنے حقوق کا تحفظ کرسکتی ہے؟

image

"شادی کے وقت مجھے نکاح نامے کی شقوں کا مطلب نہیں معلوم تھ۔ لیکن جب میں نے خلع لیا تو پتا چلا کہ اگر میں طلاق دینے کا حق رکھتی تو شوہر سے نان نفقے ک مطالبہ منظور کروا سکتی تھی"

یہ کہنا ہے نادیہ کا جنھوں نے شوہر سے ناچاقی کی بناء پر حال میں ہی خلع لیا ہے لیکن اب حالیہ عدالتی فیصلے کی وجہ سے وہ نان نفقے اور حق مہر حاصل کرنے سے بھی محروم ہیں البتہ ان کے خیال میں اگر نکاح کے وقت ان کے حقوق کی شقیں نہ کٹوائی جاتیں تو آج حالات مختلف ہوتے۔

نکاح نامے میں خواتین کے حقوق کی شقیں کیوں کٹوائی جاتی ہیں؟

پاکستان میں خواتین کے حقوق پر باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن اصل مسائل کی جانب دھیان نہیں دیا جاتا۔ اسلام اور ملک کا آئین خواتین کو بھرپور حقوق دیتا ہے لیکن رسم و رواج ان حقوق کو ضبط کرکے عورتوں کی زندگی مشکل بنا دیتے ہیں۔ نکاح بھی ایسا ہی ایک عمل ہے جس میں عورت کو دیئے جانے والے زیادہ تر حقوق نکاح نامے کی شق میں کٹوا دیے جاتے ہیں۔ شقیں کاٹے جانے کا عمل لائن مار کر یا اس طرح کے نکاح نامے کی صورت میں دیا جاتا ہے۔

کاٹی گئی شقوں میں کون سے حقوق درج ہوتے ہیں؟

ان شقوں میں حق مہر کی رقم، اس کا نکاح کے بعد فوراً یا بعد میں حصول، بیوی اور طلاق کے حق اور دیگر شرائطی نکات شامل ہیں۔ پاکستان کے قانون کے مطابق اگر عورت طلاق دینے کا حق اپنے پاس رکھتی ہے تو یہ خلع سے زیادہ اس کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ اس کو استعمال کرنے سے حق مہر سے محروم نہیں ہونا پڑتا۔

قانون دان کی رائے

ڈان میں چھپے ایک آرٹیکل کے مطابق ہائی کورٹ کی وکیل سارہ ملکانی کہتی ہیں "طلاق کا حق انتہائی اہم ہے، کیوں کہ اگر آپ اپنی شادی تحلیل کروانا چاہتی ہیں تو اس حق کے ذریعے پورا مرحلہ آسان ہوجاتا ہے۔ علیحدگی میں کم وقت لگتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ کو اپنے مہر سے دستبردار نہیں ہونا پڑتا۔"


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US