دعا زہرا کیس کے مرکزی ملزم ظہیر سے متعلق انکشاف ہوا تھا کہ لڑکی جس وقت اغواء ہوئی تھی ان دنوں ظہیر لاہور میں نہیں بلکہ کراچی میں ہی موجود تھا۔ اور اب پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ظہیر صرف اکیلا ہی اس کام میں ملوث نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور بھی لوگ شامل ہیں۔
رن وے ویب سائٹ کے مطابق سندھ پولیس نے انکشاف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دعا زہرا کے مبینہ شوہر ظہیر احمد کے ساتھ 24 افراد شامل ہیں۔
عدالت میں تفتیشی افسر ڈی ایس پی شوکت علی شاہانی کی جانب سے جمع کروائی جانے والی پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ظہیر احمد کا سی ڈی آر ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ دعا زہرہ کے مبینہ اغوا کے وقت ظہیر احمد کراچی میں موجود تھا اور سی ڈی آر ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے۔
وکیل جبران ناصرکی اس حوالے سے ٹوئٹ سامنے آئی تھی کہ پولیس کی جانب سے آج عدالت میں دعا زہرا کیس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی ہے اور عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اِنہیں ظہیر کا سی ڈی آر ملا ہے جس کے مطابق دعا کے اغواء کے دن یعنی 16 اپریل کو اس کا مبینہ شوہر ظہیر کراچی میں تھا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ڈی ایس پی شوکت علی شاہانی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ایسٹ) محمد محبوب اعوان کے سامنے پیش کی گئی پیش رفت رپورٹ میں انکشاف کیا۔
خیال رہے عدالت نے اس کیس کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کی ہے۔