گھروں میں بھرا پانی، ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اس باراپنا ووٹ سوچ سمجھ کے استعمال کریں

image

دلی جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے جہاں منتخب ہی روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

میر تقی میر نے یہ شعردلی کے لئے کہا تھا اور پھر دل برداشتہ ہوکر لکھنؤ میں جا بسے تھے۔ لیکن آج اگر غور کیجیے تو بالکل یہی حال ہمارے پیارے شہر کراچی کا نظر آتا ہے کہ جس کو ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر قصبے کے لوگوں نے اپنے روزگاراور اپنے رہنے بسنے کے لئے منتخب کیا ، لیکن اس کوہمارے حکمرانوں نے اجاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہر ایک نے اس کو اپنے مفاد کے لئے ، اپنے ووٹوں کے لئے، اپنی سیاست چمکانے کے لئے تو ضرور استعمال کیا لیکن کسی نے بھی اس کا دکھ اور درد دور کرنے کی کوشش نہ کی ، وہ کراچی جو رنگوں اور روشنیوں کا شہر تھا، جس کی خوبصورتی اور رونقیں اور روزگار سب کو اپنی طرف کھینچتا تھا، آج یہاں سے لوگ اپنا اپنا کاروبار سمیٹ کر جارہے ہیں۔

آج بھی یہ شہر سب سے زیادہ ریوینیو دینے والا شہر ہے لیکن اس کی حالت سدھارنے والا کوئی نہیں ہے ، اس کی ٹوٹی سڑکیں ، اس کے گندے کچرے سے بھرے نالے، سڑکوں کے بیچوں بیچ بنے گٹر،لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور زیادتیاں سہتی ہوئی عوام اتنے بے بس اورلاچار ہو چکے ہیں کہ نوجوان نسل جو ہمارا آنے والا کل ہیں وہ اب اس شہر اور اس ملک میں رہنا ہی نہیں چاہتے۔ ہمارا سارا ٹیلنٹ باہر جارہا ہے۔ صرف ہمارے حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی، خود غرضی اور کرپشن کی وجہ سے، کراچی کے ساتھ ہرجماعت نے برا کیا، کراچی والے ایم کیو ایم کو لائے کہ اس میں سب کراچی والے تھے تو وہ یہاں کے لوگوں کا دکھ اچھی طرح سمجھتے تھے، لیکن انہوں نے بھی صرف اپنے بنگلے، کوٹھیاں اور بنک اکاؤنٹ بھرے اور یہاں کے عوام کا سارا اعتماد اور غرور لوٹ کر لے گئے، پیپلز پارٹی نے تو نہ جانے کتنے برسوں سے سندھ کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور اب کراچی کا حال بھی اندرون سندھ جیسا ہی کردیا ہے۔ جہاں صحت و صفائی کی کسی بھی قسم کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت سے عوام کو بہت امیدیں تھیں لیکن انہوں نے بھی اپنے 4 سالہ دورِ اقتدار میں کراچی کو توجہ کے لائق نہ سمجھا۔ نہ اس کی حالت سدھارنے کی طرف کوئی توجہ دی، گذشتہ برس ہونے والی بارش اور اس کے نقصانات کے بعد عمران کان صاحب نے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تو تھا لیکن وہ کہاں گیا اس کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔

کل بھی کراچی میں ایک حادثہ ہوا جس میں موٹرسائیکل پر سوارایک فیملی نالے میں جاگری اور اس میں آدمی تو بچ گیا لیکن دو ماہ کی بچی اور بیوی جاں بحق ہوگئیں۔ یہ حادثات اب کراچی والوں کے لئے معمول بن گئے ہیں۔ آئے دن کبھی کے الیکٹرک کے ہاتھوں کرنٹ لگ کر مرتے ہیں کبھی ندی نالوں میں بہہ جاتے ہیں تو کبھی ٹوٹی سڑکوں اور گڑھوں کی بدولت حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سسٹم ختم ہوچکا ہے، عام آدمی کے لئے سفر کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ بن چکا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی بدولت عوام سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہے۔ پنجاب میں ، خیبرپختونخواہ میں، میٹرو سروس نے ہزاروں لوگوں کی سفر کی مشکل آسان کردی ہے یہاں گرین لائن منصوبہ شروع کیا گیا وہ بھی 5 سال گزرنے کے بعد بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا اور اس گرین لائن کے اسٹیشن اور روٹ بنانے کے لئے کراچی کے کتنے ہی فلائی اوور اور سڑکیں توڑ پھوڑ کر برباد کردی گئیں۔

کراچی دل والوں کا شہر ہے اب بھی کہتے ہیں کہ یہاں لوگ فلاحی کاموں میں اتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ کتنی ہی فلاحی تنظیمیں ہیں جو کہ عوام کی خدمت کے لئے دن رات کام کر رہی ہیں ۔ الخدمت، عالمگیر، سیلانی، چھیپا، جے ڈی سی، ایدھی اور بھی نہ جانے کتنی تنظیمیں ہیں جن کے نام بھی ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ صرف مخیر عوام کے تعاون سے لاکھوں لوگوں کی دن رات مدد کر رہی ہیں، کرونا کے دورمیں جب لاک ڈاؤن تھا تو ان سب نے لوگوں کے گھروں میں دن رات راشن اور ضرورت کی ہر چیز پہنچائی تھی ، جب حکومت کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے، ہے بھی یا نہیں ۔ تین کروڑ آبادی والا یہ شہر جس کو نہ اس کی آبادی کے حساب سے پانی مل رہا ہے، نہ بجلی مل رہی ہے، نہ لوگوں کے لئے روزگار پورا ہے، نوجوانوں کے لئے نوکریاں نہیں ہیں ، پڑھے لکھے لوگ دل برداشتہ ہوکرخودکشیاں کر رہے ہیں لیکن حکمران سو رہے ہیں۔

24 جولائی کو کراچی میں بلدیاتی الیکشن ہیں ، عوام کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنا ہے۔۔۔ خدارا آنکھیں کھولیے، اب کی دفعہ ذات، پات ،برادری سے بالاتر ہوکر ان لوگوں کو ووٹ دیجیے جو ہمیشہ آپ کے درمیان ،ہر مشکل میں آپ کے ساتھ سب سے آگے ہوتے ہیں، رنگ برنگے نعروں سے متاثر ہو کر، ناچ گانے کی دھن پر تھرک کر ان لوگوں کو ووٹ ہر گز نہ دیں جو ہمارا خون چوس کر ہمیں ایک زندہ لاش کی طرح پھینک کر چلے گئے ہیں۔ ان آزمائے ہوؤں کو آزمانا اور ان کے بہکاوے میں آکر اپنے آپ کو پھر سالوں کے لئے اندھے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اب کی بار آنکھیں اور دماغ کھول کران لوگوں کو ووٹ دیں جو واقعی میں اپنے ہیں۔ اور اپنے تو وہ جو ہر مشکل ہر گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں، اپنے ووٹ کا استعمال ضرور کریں ایسا نہ ہو کہ آپ کے ووٹ نہ ڈالنے سے آپ کے نام کا جعلی ووٹ ڈل جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ اپنا نمائندہ خود منتخب کریں اور ایسا منتخب کریں جو آپ کے علاقے کا ہو جس کوآپ کام نہ ہونے پر کٹہرے میں کھڑا کرسکیں، ایسے لوگوں کو ہرگزاس بار منتخب نہیں کرنا جو ووٹ لے کر جائیں تو سالوں ان کی شکل دیکھنے کو ترس جائیں۔ تو پھر اس بار آپ ووٹ کس کو دے رہے ہیں ؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US